اردو کا فروغ، ہمیں کیا کرناچاہئے؟



اردو جسکو ایک لشکری زبان کہتے ہیں اور کہنے کو اسکو ہماری سرکاری زبان بھی کہتے ہیں جبکہ بین الاقوامی سطح پرہمارے حکمران واسطے کے طور پر انگریزی کا سہارا لیتے ہیں جس سے یہ تاثر جاتا ہے کہ خدانخواستہ پاکستان ایک گونگا ملک ہے جسکی اپنی کوئی زبان نہیں یہ ایک منفی تاثر ہے جس سے ہم آج تک نہیں نکل سکے ۔۔
1973 کے آئین کی شق 251 میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ آئندہ پندرہ برسوں میں اردو کو سرکاری اور دفتری زبان کے طور پر نافذ کردیا جائے گا اس آِئین کو نافذ ہوئے تو 46 برس ہوگئے ہمارے سیاستدانوں نے اپنے تحفظ کے لیے اس آئین میں بے شمار تبدیلیاں کر لیں اور جن پر عمل بھی ہو گیا۔ لیکن اردو زبان پاکستان کی قومی زبان تو کہلاتی رہی اور کہلاتی رہے گی لیکن نہ تو آج تک سرکاری اور دفتری زبان بن سکی اور نہ ہی مستقبل قریب میں ایسا ہوتا نظر آتا ہے۔
اس کے علاوہ 1981 میں ادارہ مقتدرہ قومی (جس کا حالیہ نام ادارہ فروغ قومی زبان ہے ) . نے بھی تفصیلی سفارشات پیش کئیں ،جو کہ نہایت قابل ذکر ہیں۔ بات 8 دسمبر 2015 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے تاریخ ساز فیصلہ صادر فرمادیا کہ حکومت اردو کو بطور سرکاری اور دفتری زبان نافذ کرے۔
لیکن اردو زبان آج بھی دوراہے پر کھڑی ہے۔
ان حالات کے ہوتے ہوئے اردو زبان کا تحفظ اور زیادہ مشکل نظر آتا ہے اب موجودہ حالات کے تناظر کو سامنے رکھ کر اداروں کو ضم کرنے میں کیا مصلحت پنہاں ہے ۔
آج کے ترقی یافتہ دور میں ہر دوسرا پاکستانی سوشل میڈیا کے ساتھ منسلک ہے اور جو میڈیا وار اس وقت جاری اردو کیا ہر زبان کی حالت خطرے میں ہے۔ ابھی پنجابی ہی کو دیکھ لیجیے جو اردو کی بعد پاکستان میں بولی جانے والی دوسری بڑی زبان ہے وہ خالص نہیں رہی اس میں ارود اور انگریزی کے الفاظ کثرت سے بولے جاتے ہیں ۔
اردو کو اسوقت جن دو زبانوں سے بچانے کی ضرورت ہے
نمبر ہندی
نمبر انگلش
آج آپ کسی تقریب میں چلے جائیں چاہے وہ کوئی سماجی یا علمی ہو اردو اول تو خالص کوئی بولے گا نہیں اور اگر بولے گا تو اس میں بیشتر الفاظ انگریزی کے ہونگے اب جو افتادہ آن پڑی ہے وہ پڑوسی ملک ہندوستان کے فلم اور ڈرامے کی بہتات ہے جس نے جہاں ہماری مذہبی اور اخلاقی اطوار کو تہس نہس کردیا وہاں اردو زبان کو بھی متاثر کر رہی ہے ، اس کام میں لکھنے والے یا لکھاری بھی شامل ہیں جو اپنی تحریروں، نظموں اور غزلوں میں ہندی الفاظ کا بے دریغ استعمال کرتے نظر آتے ہیں جیسے دھیرج وغیرہ اور لفظ خود کی جگی کُھد اکثر لڑکیاں استعمال کرنے لگی ہیں ہم یہ بات وثوق سے کہے دے رہے ہیں ھمارے پاکستان ٹیلی ویژن اور دوسرے بہت سے پرائیویٹ چینل پہ خبریں پڑھنے والوں سے لیکر تمام اینکرز میں سے کوئی بھی صاف اور ششتہ اردو بولنے والا نہیں ملے گا ۔ایسا نہیں کہ خالص اردو بولنے والے نہیں رہے۔۔ ہیں تو لیکن خال خال ۔۔
جنمیں قابل ذکر جناب ضیاء محی الدین صاحب
عبیداللہ بیگ صاحب
ڈاکٹر عبدالجبار شاکر مرحوم
قریش پور مرحوم
انور مسعود صاحب
صلاح الدین صاحب
محترمہ کشور ناہید
جناب افتخار احمد عارف
جناب اجد اسلام امجد
محترمہ نسرین سید صاحبہ
لیکن ان میں جناب ضیاء محی الدین قابل قدر اورقابل ذکر اس لحاظ سے ہیں کہ اگر وہ اردو میں بات کریں تو کہیں بھی دوسری زبان کا لفظ استعمال نہیں کرتے چاہے انگریزی ہو یا کوئی اور زبان ۔۔
اب کیا کیا جاے ؟؟؟؟
یہ سوال گزشتہ 71 سالوں سے ارباب اختیار کے سامنے حل طلب ہے ہم یہ نہیں کہتے کہ اردو کے علاوہ دوسری زبانوں کا تحفظ نہ کیا جائے لیکن اردو کو اولیت دی جاے کیونکہ یہ ہماری قومی زبان ہے یہاں ہم انگریزی زبان کی مسلمہ حقیقت سے انکار نہیں کرتے جو ایک بین الاقوامی زبان ہے ۔۔ لیکن سائنسی اور معاشی ترقی کے لیے انگریزی زبان کا کردار بالکل ضروری نہیں جسکی مثال یہ ترقی یافتہ ممالک ہیں جنمیں جرمنی جاپان چائنا وغیرہ ہے۔ بلکہ انگریزی ہمارے تعلیمی نظام کو برباد کر رہی ہے انگریزی زبان جب انٹرمیڈیٹ سے اوپر جاکر تعلیم کا مستقل ذریعہ بنتی ہے طلبہ کی تعداد میں کمی ہونا شروع ہوجاتی ھے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ پاکستان میں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد اسی لیے کم ہے کہ انگریزی زبان پر عبور حاصل کرنے کی دوڑ میں لوگ تعلیم کی دوڑ سے باہر ہو جاتے ہیں ۔ بہتر تعلیمی تناسب حاصل کرنے کے لیے اردو کا بطور سرکاری ، دفتری ، تدریسی زبان ھونا نہایت ضروری ہے ۔
جس سے اردو زبان بھی بچ جائے گی اور ملک ترقی بھی کرے گا۔

تبصرے

مشہور اشاعتیں

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل تحریر: بشرہ نواز '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' اگرچہ خواتین معاشرےکی معاشی ترقی کے لیے حیات افزا کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کے اس کردار کو شاذونادر ہی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خواتین عام طور پرگھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں اور ملازمت کا انتخاب خواہش کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت کی بنیاد پر کرتی ہیں ۔وہ اپنے خاندان اور گھر کی ذمہ داریوں کے لیے ناکافی وقت دینے پر اپنے آپ کو قصووار تصور کرتی ہیں۔اس دہری ذمہ داری کے سبب ان پر دوگنا بوجھ پڑتا ہے اور نتیجتا ً اانہیں بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے ۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ابھی تک پاکستانی معاشرے نے مکمل طور پر ملازمت پیشہ خاتون کے تصور کو قبول نہیں کیاہے۔ شادی شدہ خواتین کی یہ بھی مشکل ہے کہ سسرال میں کہا جاتا ہے کہ اگرملازمت کرے گی توگھر کون سنبھالے گا؟ خاندان والے کیا سوچیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود ایسی خواتین سب کو وقت دینے اور خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ انھیں ساری دنیا کو باور کرانا ہوتا ہے کہ اپنی ملازمت کے ساتھ وہ گھر، بچے، فیملی اور باقی تمام معاملات خوش اسلوبی سے نبھا رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کو چکی کے دو باٹ کہا جا تا ہے۔۔ جس طرح خواتین زندگی کی گاڑی چلانے میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اسی طرح مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ گھریلو امور میں ان کا ہاتھ بٹایا کریں۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرد عورت کا ہاتھ بٹانے میں اپنی توہین سمجھتا ہے اور ہمارے معاشرے میں کچھ جگہوں پر مرد کا گھر کےکام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹانے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ترقی کی اس جدوجہد میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ اب عورت اس بات پر قناعت نہیں کرسکتی کہ صرف مرد ہی کما کر لائے اورخاندان کی ضروریات پوری کرے۔ آج کی عورت یہ سمجھتی ہے کہ اسے بھی مرد کی طرح آزادی اور مساوات کے اظہار کے لیے ذاتی سرمایہ اور ملکیت چاہیے۔ اس لیے اب دنیا کے ہر ملک میں خواتین کے لیے گھر سے باہر ملازمت کرنا ایک ضرورت بن چکی ہے جس کا ماضی میں تصور بھی ممکن نہ تھا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں جن میں بڑی تعداد میں خواتین میڈیکل،ٹیچنگ، بینکنگ، ٹیلیفون آپریٹر، نرسنگ، گارمنٹس، صحافت، شوشل میڈیا، ، وکالت ، تدریس ، طب ، بزنس ، مارکیٹنگ ، شو بز انجینئرنگ ،اکاونٹنس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر اہنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں شعبہ ابلاغ عامہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز میں اپنے فرائض انجام دے رہی یں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہیں ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو بری الزمہ سمجھتی ہے جو انتہائی احمقانہ سوچ ہے اور یہ سوچ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مرد عورت پر اپنا تسلط چاہتا ہے ۔ اپنے گھر اور خاندان کے حوالے سے آپ کو خود ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور جب آپ اپنے خاندان کے بہترین مفاد میں کوئی فیصلہ کر لیں تو پھر آپ کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آپ کا یہ فیصلہ کچھ دیگر لوگوں سے مختلف کیوں ہے۔ کیونکہ ہر گھر اور خاندان کی ضروریات، حالات، وسائل مختلف ہوتے ہیں ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اسی طرح آپ کا کوئی فیصلہ آپ کے خاندان کے بہترین مفاد میں ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر گھر اور خاندان کے لیے قابلِ عمل ہو۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے کچھ جاہل لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ جہاں ملازمت پیشہ خواتین کو آزاد خیال اور گھر والوں کو ہر معاملے میں اپنا رعب داب رکھنے والی عورت تصور کیا جاتا ھے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں اپنے گھر والوں بچوں کیللے جدوجہد یہی ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔ یہ خواتین بھرپور طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتی ہیں، کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے نبھاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورتیں اپنا معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاہ رہی ہیں، اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنے بچوں اور خاندان کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔ جس طرح علم حاصل کرنا ہر عورت کا حق ہے ، اسی طرح اپنا مستقبل بنانا بھی ہر عورت کا حق ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ملازم پیشہ خواتین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں معاشرے کی گھریلو مشکلات ، پسماندہ سوچ ، صنفی امتیاز ، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور جنسی ہراسانی wo mxklat oiN jw سرفہرست ہیں۔ خواتین کو معاشرے میں مساوی سیاسی ، معاشی و سماجی حقوق دینے والے بالشویک انقلاب کے لیڈر ولادیمیر لینن نے کہا کہ ہماری خواتین شاندار طبقاتی جنگجو ہوتی ہیں ۔ محنت کشوں کی کوئی بھی تحریک خواتین کی شعوری مداخلت کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی ۔ روسی انقلاب ہو یا اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی سعودی عرب یا ایران کی خواتین ، بحرین میں ریاستی جارحیت کے خلاف احتجاج یا ترکی میں جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازش کا راستہ روکنے کی تحریک ، ہر موقع پر خواتین ایک بڑی طاقت کی صورت میں سامنے آئی ہیں اور اپنا کردار ادا ادا کیا ہے۔۔