نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

متصف

ڈینگی بخار ایک خطرناک وبائی مرض

ڈینگی بخار — ایک خطرناک وبائی مرض ڈینگی بخار ایک خطرناک وبائی مرض ہے جو مچھر ایڈیز ایجپٹائی (Aedes Aegypti) کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ یہ مچھر عموماً صاف پانی میں پیدا ہوتا ہے، مثلاً گملوں، ٹینکیوں، پرانی ٹائروں اور پانی کے برتنوں میں۔ ڈینگی ایک وائرل بیماری ہے جو انسان کے جسم میں داخل ہو کر بخار، جوڑوں کے درد اور خون کی کمی جیسے خطرناک اثرات پیدا کرتی ہے۔ ڈینگی کی وجوہات: ڈینگی وائرس چار اقسام پر مشتمل ہے (DEN-1, DEN-2, DEN-3, DEN-4)۔ یہ وائرس متاثرہ مچھر کے ذریعے انسان میں منتقل ہوتا ہے۔ مچھر صبح اور شام کے وقت زیادہ کاٹتا ہے، اس لیے ان اوقات میں خصوصی احتیاط ضروری ہے۔ علامات: ڈینگی کی ابتدائی علامات عام بخار سے ملتی جلتی ہیں، لیکن کچھ دنوں بعد خطرناک شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں: • تیز بخار (104°F تک) • شدید سر درد • آنکھوں کے پیچھے درد • پٹھوں اور جوڑوں میں درد • متلی اور الٹی • جلد پر سرخ دھبے • خون کی کمی اور پلیٹ لیٹس کی تعداد میں کمی اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو ڈینگی بخار ڈینگی ہیمرجک فیور یا ڈینگی شاک سینڈروم میں تبدیل ہو سکتا ہے، جو جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ احتیاطی...

تازہ ترین پوسٹس

پاکستان کا تعلیمی نظام

جعلی انجکشن

جنگ اور عوام

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا حالیہ سکینڈل ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ہاولپور میں بہت سی تعلیمی ادارے قائم ہیں۔ جن میں صادق پبلک اسکول، گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی، قائداعظم میڈیکل کالج اور اسلامیہ یونیورسٹی اہم ہیں۔ اس شہر کی شرح خواندگی بہت زیادہ ہے۔ اس وجہ سے ملک بھر سے طالب علم یہاں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں۔ اس شہر میں ایک قدیم کتب خانہ "سینٹرل لائبریری بہاولپور" کے نام سے موجود ہے جس میں ایک لاکھ پانچ ہزار سے زائد کتابیں موجود ہیں۔ یہ کتب خانہ پنجاب کا دوسرا بڑا کتب خانہ ہے اور پاکستان کے قدیم ترین کتب خانوں میں سے ایک ہے جو اس وقت کی ریاست بہاولپور کے نواب کی کاوشوں سے بنایا گیا ہے۔ ایس ای کالج 1886 میں قائم ہونے والا کالج نوابوں اور انگریزوں کا مشترکہ یاد گار ہے۔ اس کالج سے کئی مشہور ہستیوں نے تعلیم حاصل کی۔ ہم انتہائی افسوس سے اس شہر کی اسلامیہ یونیورسٹی کے بارے میں خواتین کے جنسی اسکینڈل کے بارے میں انکشاف کرتے ہوئے انتہائی شرمندہ ہیں۔ مالی ہی باغ اجاڑ دے چوکیدار ہی چوری کرنا شروع کر دے تو کیا ہو ؟والدین بچوں کو تعلیم کی غرض سے بےفکر ہو کے تعلیمی اداروں میں بھجتے ہیں اور مطمئن رہتے ہیں . لیکن اگر یہاں ہی بچے اور خاص طور پے لڑکیاں محفوظ نہ ہوں تو والدین کیا کریں یوں تو ہمارے یہاں بہت سے واقعات ہر آنے والے دن میں رونما ہوے رہتے ہیں ہم انہیں چند روز یاد رکھتے ہیں اور پھر بھلا دیتے ہیں مگر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے مبینہ اسکینڈل جس میں طالبات کیساتھ جنسی ہراسنگی ، کرسٹل آئس سمیت موبائل فونز سے یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالبات کی نازیبا ویڈیوز تصاویر اور جنسی ادویات برآمد ہوئی تھیں یہ ایک انتہائی شرمناک اور دلخراش واقعہ ھے جو دل و دماغ کو ہلا دینے کیلئے کافی ہے کہ ہمارے معاشرے میں جامعات میں ایسے اساتزہ بھی پائے جاتے ہیں جو طالبات کوہراساؔں کر کے اور بلیک میل کر کے انکی عزتوں کو پامال کرنے پر تلے ہوئیے ہیں۔ جبکہ ہمارا مزہب ان اساتزہ کو ماں باپ کا درجہ دیتا ہے ۔ اسلامیہ یورنیورسٹی بہاولپور ڈرگ اور جنسی کیس میں یونیورسٹی انتظامیہ اور بہاولپور پولیس نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنا شروع کردیے ہیں۔ پولیس نے یونیورسٹی انتظامیہ کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبات سے غیر اخلاقی مطالبات کیے جاتے تھے اور انہیں ڈرگز کی طرف مائل کرکے انہیں بلیک میل کیا جاتا تھا۔ ادھر پنجاب حکومت نے معاملے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی بنا دی ہے۔ادھر بہاولپور پولیس نے اسلامیہ یونیورسٹی کے 3 افسران کو منشیات کیس میں گرفتارکررکھا ہے، گرفتار افسران سے کرسٹل آئس سمیت موبائل فونز سے یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالبات کی ان گنت نازیبا ویڈیوز تصاویر اور جنسی ادویات برآمد ہوئی ہیں جو ہمارے لئے لمحئہ فکریہ ہے۔ پولیس تھانہ بغداد الجدید نے ڈائیریکٹر فنانس ابوبکر چیف سیکیورٹی افسراعجاز شاہ جبکہ ٹرانسپورٹ انچارج محمد الطاف سے منشیات کرسٹل آئس برآمد کرکے ملزمان کو گرفتار کیا تھا، پولیس کا کہنا ہے کہ اس گھناونے جرم میں جلد مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں ۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اطہر محبوب اور یونیوسٹی کے لیگل ایڈوائزر نے بہاولپور پولیس کی کاروائیوں کو بے بنیاد اور جھوٹی قرار دیا ہے۔دو روز قبل وائس چانسلر نے نگراں انسپکٹر جنرل آف پولیس کو تمام تر معاملے کی جوڈیشل انکوائری کروانے کے لیے لیٹر لکھا تھا۔ دوسری جانب ڈی پی اوبہاولپورعباس شاہ نے یونیورسٹی کے الزامات کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو کسی ادارے سے تعصب نہیں، جو چاہے جوڈیشل، ڈویژنل یا صوبائی سطح پر تحقیقات کروا سکتا ہے۔ پاکستان علما کونسل کے چیئرمین مولانا طاہر محمود اشرفی نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے معاملے پر کہا ہے کہ یونیورسٹی کی طالبات اور ان کے والدین سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم سے سخت پریشان ہیں۔ اور اپنی بچیو ں کے مستقبل کے بارے میں خوفزدہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو شخص قصور وار ہے تو اسے سخت سے سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پروپیگنڈا مہم بند کی جائے اور تعلیم کے لیے جانے والی طالبات اور ان کے والدین کو پریشان نہ کیا جائے۔ تحقیق کے بعد اگر کوئی بھی اس واقعے میں ملوث پایا جاے تو ہمارا مطالبہ ہوگا کہ بہاولپور یونیورسٹی اسکینڈل میں جو بھی ملوث ہے اسے سخت سے سخت سزا دی جاۓ تاکہ آئیندہ ایسے شرمناک واقعات رو نما نہ ہوں حکومت اور نجی تعلیمی ادارے کوشش کریں کہ خواتین۔ کے لیے علیحدہ اداروں کا قیام عمل میں۔لا یں ہو سکتا ہے کہ ان تجاویز پے عمل کے بعد اس قسم کی شکایات ختم ہو جایں ۔

انسانی اسمگلنگ

عوام اور مہنگائی

خواجہ سرا اور ہمارےمعاشرتی رویے

ہمارے ہسپتال