روٹی کا رشتہ

بشریٰ نواز۔۔۔۔۔۔۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہیں پہ ایک موچی رہتا تھا، اس کا نام گولہ خان تھا، وہ بہت نیک اور خدا ترس تھا، جو کماتا اس میں سے کچھ نہ کچھ اللہ کی راہ میں‎ بھی دیا کرتا۔ ایک دن ابھی اس نے اپنا کام شروع کرنے کیلئے ٹاٹ بچھایا ہی تھا کہ کہیں سے ایک فقیر آ گیا، بے چارا بھوکا بھی تھا۔

خیر! موچی نے سامنے والے ہوٹل سے اس فقیر کو کھانا کھلایا، کھانا کھا کے فقیر نے بہت دعائیں دیں اور موچی کو تحفے میں ایک گملا بھی دیا، ساتھ یہ بھی کہا کہ اس کا خیال رکھنا، روز پانی دینا۔ یہ کہہ کے موچی روانہ ہوگیا، اب اس نے گملے کا خیال رکھا یا نہیں اللہ‎ جانے یا موچی!

کابل میں شدید گولہ باری کی زد میں گولہ خاں کا پورا گھرانہ شہید ہوگیا، جب یہ سانحہ ہوا، وہ خود اس بستی سے دور تھا۔ دور سے اجڑی اور دھواں دیتی بستی اسے بتارہی تھی کہ اب وہاں کوئی زندگی باقی نہیں، پھراس نے را کھ کے ڈھیر بھی دیکھ لیے لیکن وہاں کسی زندگی کو تلاش نہ کرسکا۔

پندرہ سالہ گولہ خان گولہ باری کے انہی دنوں کی پیدائش تھا، نو بہن بھائیوں میں وہ پانچویں نمبر پہ تھا۔ چار بھائی اور بھی تھے۔ پانچ بہنوں اور تین بھائیوں کو یاد کرکے دیر تک روتا،اماں بابا یاد آتے،تب بھی روتے روتے اس کے آنسو بھی ختم ہوجاتے۔ پھر ایک رات وہ باڈر پار کر کے پاکستانی علاقے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا، پھرتا پھراتا، مزدوری کرتا، وقت گزارتا رہا۔ ایک ہنر تھا ہاتھ میں جوتیاں مرمت کرنے کا۔

مزدوری کر کے کچھ روپے جمع کئے اور پھرجوتیاں مرمت کرنے کا سامان لے آیا۔ پہلے تو وہ گھوم پھر کے کام کرتا رہا، وہ ٹھنڈ کا عادی تھا، گرمی اسے نڈھال کردیتی تھی، پھر ایک دن اسے دھریک کے ایک درخت کی ٹھنڈی چھائوں نے اسے ماں کی یاد دلا دی۔ ایسے لگا جیسے ماں نے دھوپ سے بچا کے اپنی چادر میں چھپا لیا ہو، اس نے وہیں پر ڈیرہ ڈالنے کا ارادہ کرلیا۔

دھریک کے نیچے ہی وہ سوجاتا، ادھر ہی نماز پڑھتا۔ اسے یہاں ٹھکانہ بنائے چند دن ہی ہوئے تھے۔ کبھی کام مل جاتا اور کبھی سارا دن کوئی بھی گاہک نہ آتا۔ آج بھی ایسا ہی دن تھا، کوئی گاہک نہیں آیا تھا، بھوک سے برا حال تھا، صبر کے سوا وہ کچھ نہیں‌کرسکتاتھا۔ آنکھیں بند کرکے وہ ماضی میں کھویا ہوا تھا کہ ایک آواز نے اس کی آنکھ کھول دی۔

“خان! کھانا لے لو”
گولہ خان اسے بھی خواب ہی سمجھا کیونکہ بھوکے کو تو نیند میں بھی روٹی ہی نظرآتی ہے۔ اس نے آنکھ کھولی توسامنے اس کا ہم عمر کھانے کی ٹرے پکڑے کھڑا تھا۔ اس نے اپنا نام فرید بتایا اور کہا:
“لو کھانا کھا لو، میں تھوڑی دیر میں برتن لے جاؤں گا”
پھر گولہ خان پہ یہ من و سلویٰ روز ہی اترنا شروع ہوگیا۔

جب سے وہ پاکستان آیا تھا، تھوڑی بہت اردو بول اور سمجھنے بھی لگ گیا تھا وہ اللہ‎ کا شکر ادا کرتا جس نے ایک کوٹھی والوں کے دل میں اس کے لیے رحم ڈالا تھا۔ اس کا بہت دل کرتا کہ وہ فرید سے کوئی بات کرے لیکن اسے شرم سی محسوس ہوتی ، پھر بھی وہ اس کا شکریہ ادا کردیتا۔ ایک دن گولہ خان نے جھجکتے ہوئے پوچھ لیا مجھے کھانا کون بھیجتا ہے؟
“امی دیتی ہیں۔”

“تم نے کچھ کھایا؟” فرید کی جھجھک آہستہ آہستہ کم ہو رہی تھی۔
“جو تمھیں دیا، ہم نے بھی وہی کھایا”
وہ روز مزے کے کھانے کھاتا اور سوچتا میری ماں نے تو کبھی ایسے کھانے دیکھے بھی نہ تھے۔ ماں کی زندگی مشقت کے سوا کچھ نہ تھی۔

ان کے علاقے میں ویسے بھی خوشیوں کا کوئی گزر نہیں تھا۔ ہر کسی کی جان ہتھیلی پہ رہتی تھی۔ ماں اتنے سارے بچوں کو پالتی رہی مگر انھیں محبت نہ دے سکی۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ ماں کی محبت کیسی ہوتی ہے؟ بس وہ اتنا ہی سوچ سکتا تھا۔ پیٹ بھر کھانا ہی ماں کی محبت ہے۔ اسے محسوس ہوا کہ ماں ایسی ہی ہوتی ہے جو اولاد کی بھوک کا خیال رکھے۔ اسے محسوس ہوا جیسے کھانا بھیجنے والی اس کی ماں ہے۔

آج جب فرید اسے کھانا دینے آیا تو کھانے کے ساتھ ایک شلوار قمیض بھی تھی۔
“لو ! یہ امی نے بھیجا ہے۔” تھیلا پکڑتے ہوئے اسے لگا کہ یہ میری ماں ہی ہے۔ آج پہلی بار اس نے کہا:
“امی کو میرا سلام کہنا اور شکریہ بولنا”
اب وہ روز کھانا لیتے ہوئے امی کو سلام کہتا۔

جب کبھی انھیں کہیں جانا ہوتا تو امی فرید کے ہاتھ کھانے کے پیسے بھجوا دیتی۔اس نے کبھی سوچا ہی نہ تھا کہ وہ مجھے کھانا کیوں دیتی ہیں۔ وہ تمام معاملات میں سوچنے کی صلاحیت سے پیدائشی اور خاندانی طور پہ معذورتھا۔ صرف اگلی روٹی کے متعلق ہی سوچ سکتا تھا۔ اسی لیے اسے اپنی کم مائیگی کا زیادہ احساس نہیں تھا۔ یہ بھی اس کے لیے نعمت ہی تھی کیونکہ سوچ کا در وا ہوتے ہی سوچوں کی یلغار اس کی کمزور ہستی کو ریزہ ریزہ کردیتی۔جو بھی تھا گولہ خان خوش تھا۔ کوئی کام آجاتا تو خوشی خوشی کرتا۔ امی اسے کھانا بھیجنا کبھی نہ بھولتی تھی۔ کوئی دعوت ہو، افطاری ہو یا عید ۔ وقت گزرتا رہا۔

کچھ دن سے اسے گاؤں بہت یاد آرہا تھا، کیسے جاۓ؟سوچتا رہا، کچھ سمجھ نہ آئی تو ایک ہفتہ ادھر ادھر گھوم کےواپس اپنے ٹھکانے پہ آگیا۔ آج گھر کے سامنے بہت گاڑیاں کھڑی تھیں، ٹینٹ بھی لگے ہوئے تھے، بہت چہل پہل تھی، کھانوں کی خوشبو بھی فضا میں تھی۔

وہ رونق دیکھتارہا اور کھانے کا انتظار کرتا رہا۔ دوپہر سے شام ہو گئی، کھانا نہیں آیا۔ کیا آج امی مجھے بھول گئی؟ سوال بار بار دل اور دماغ میں آ رہا تھا۔ کیا ہوا؟ امی ناراض تو نہیں ہوگئیں؟مہینوں میں تو کبھی ایسا نہ ہوا تھا، اب کیوں ہوگیا؟ بھوک سے اس کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے۔ وہ اٹھ کے چچا کے ہوٹل سے کھانا لے آیا۔ اچانک اس کی نظر اس لڑکے پہ پڑ ی۔ گولہ خان جلدی سے اس کے قریب گیا اور گھر کی طرف اشارہ کر کے پوچھا۔

“یہ رونق کیسی ہے؟ “
“پرسوں امی۔ فوت ہو گئیں”

“کیا بولا تم؟ “
“پرسوں امی کو دل کا دورہ پڑا،بچ نہیں سکیں”۔
لڑکا رونے لگا، گولہ خان کا بھی سرجھک گیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ موچی اپنی حیثیت بھول کے لڑکے کے گلے لگ گیا۔ دونوں کا دکھ سانجھا تھا۔ امی کا ان دونوں سے پیٹ کا رشتہ تھا۔ ایک سے پیدائش کا، ایک سے روٹی کا۔

تبصرے

مشہور اشاعتیں

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل تحریر: بشرہ نواز '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' اگرچہ خواتین معاشرےکی معاشی ترقی کے لیے حیات افزا کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کے اس کردار کو شاذونادر ہی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خواتین عام طور پرگھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں اور ملازمت کا انتخاب خواہش کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت کی بنیاد پر کرتی ہیں ۔وہ اپنے خاندان اور گھر کی ذمہ داریوں کے لیے ناکافی وقت دینے پر اپنے آپ کو قصووار تصور کرتی ہیں۔اس دہری ذمہ داری کے سبب ان پر دوگنا بوجھ پڑتا ہے اور نتیجتا ً اانہیں بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے ۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ابھی تک پاکستانی معاشرے نے مکمل طور پر ملازمت پیشہ خاتون کے تصور کو قبول نہیں کیاہے۔ شادی شدہ خواتین کی یہ بھی مشکل ہے کہ سسرال میں کہا جاتا ہے کہ اگرملازمت کرے گی توگھر کون سنبھالے گا؟ خاندان والے کیا سوچیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود ایسی خواتین سب کو وقت دینے اور خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ انھیں ساری دنیا کو باور کرانا ہوتا ہے کہ اپنی ملازمت کے ساتھ وہ گھر، بچے، فیملی اور باقی تمام معاملات خوش اسلوبی سے نبھا رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کو چکی کے دو باٹ کہا جا تا ہے۔۔ جس طرح خواتین زندگی کی گاڑی چلانے میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اسی طرح مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ گھریلو امور میں ان کا ہاتھ بٹایا کریں۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرد عورت کا ہاتھ بٹانے میں اپنی توہین سمجھتا ہے اور ہمارے معاشرے میں کچھ جگہوں پر مرد کا گھر کےکام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹانے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ترقی کی اس جدوجہد میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ اب عورت اس بات پر قناعت نہیں کرسکتی کہ صرف مرد ہی کما کر لائے اورخاندان کی ضروریات پوری کرے۔ آج کی عورت یہ سمجھتی ہے کہ اسے بھی مرد کی طرح آزادی اور مساوات کے اظہار کے لیے ذاتی سرمایہ اور ملکیت چاہیے۔ اس لیے اب دنیا کے ہر ملک میں خواتین کے لیے گھر سے باہر ملازمت کرنا ایک ضرورت بن چکی ہے جس کا ماضی میں تصور بھی ممکن نہ تھا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں جن میں بڑی تعداد میں خواتین میڈیکل،ٹیچنگ، بینکنگ، ٹیلیفون آپریٹر، نرسنگ، گارمنٹس، صحافت، شوشل میڈیا، ، وکالت ، تدریس ، طب ، بزنس ، مارکیٹنگ ، شو بز انجینئرنگ ،اکاونٹنس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر اہنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں شعبہ ابلاغ عامہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز میں اپنے فرائض انجام دے رہی یں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہیں ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو بری الزمہ سمجھتی ہے جو انتہائی احمقانہ سوچ ہے اور یہ سوچ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مرد عورت پر اپنا تسلط چاہتا ہے ۔ اپنے گھر اور خاندان کے حوالے سے آپ کو خود ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور جب آپ اپنے خاندان کے بہترین مفاد میں کوئی فیصلہ کر لیں تو پھر آپ کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آپ کا یہ فیصلہ کچھ دیگر لوگوں سے مختلف کیوں ہے۔ کیونکہ ہر گھر اور خاندان کی ضروریات، حالات، وسائل مختلف ہوتے ہیں ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اسی طرح آپ کا کوئی فیصلہ آپ کے خاندان کے بہترین مفاد میں ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر گھر اور خاندان کے لیے قابلِ عمل ہو۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے کچھ جاہل لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ جہاں ملازمت پیشہ خواتین کو آزاد خیال اور گھر والوں کو ہر معاملے میں اپنا رعب داب رکھنے والی عورت تصور کیا جاتا ھے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں اپنے گھر والوں بچوں کیللے جدوجہد یہی ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔ یہ خواتین بھرپور طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتی ہیں، کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے نبھاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورتیں اپنا معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاہ رہی ہیں، اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنے بچوں اور خاندان کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔ جس طرح علم حاصل کرنا ہر عورت کا حق ہے ، اسی طرح اپنا مستقبل بنانا بھی ہر عورت کا حق ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ملازم پیشہ خواتین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں معاشرے کی گھریلو مشکلات ، پسماندہ سوچ ، صنفی امتیاز ، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور جنسی ہراسانی wo mxklat oiN jw سرفہرست ہیں۔ خواتین کو معاشرے میں مساوی سیاسی ، معاشی و سماجی حقوق دینے والے بالشویک انقلاب کے لیڈر ولادیمیر لینن نے کہا کہ ہماری خواتین شاندار طبقاتی جنگجو ہوتی ہیں ۔ محنت کشوں کی کوئی بھی تحریک خواتین کی شعوری مداخلت کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی ۔ روسی انقلاب ہو یا اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی سعودی عرب یا ایران کی خواتین ، بحرین میں ریاستی جارحیت کے خلاف احتجاج یا ترکی میں جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازش کا راستہ روکنے کی تحریک ، ہر موقع پر خواتین ایک بڑی طاقت کی صورت میں سامنے آئی ہیں اور اپنا کردار ادا ادا کیا ہے۔۔