طلاق
میں کچن میں مصروف تھی۔ اور صاحب ٹی وی دیکھنے میں۔ کہ اچانک ایک۔ دھاڑتی ہوئی آواز آئی، میں تمہیں۔ طلاق دیتا ہوں طلاق طلاق میں جلدی سے ٹی وی کی طرف آئی تب تک طلاق یافتہ رونے میں مصروف ہو چکی تھی
ہم اپنے بڑوں سے سنتے آئے ہیں کے ماں کی ماں یا اس کی ما ں جب بیٹی ہوتی تھی تو رخصتی کے وقت والدین یا چاچے مامے کہتے اب دلہن بن کر جا رہی ہو تو تمارا جنازہ ہی وہاں سے نکلے.
شاید یہ دھمکی ہی اثر کرتی۔ جو۔ لڑکی ہر حال میں وہاں گزارا کر لیتی تھی جو بھی حالات ھوتے اس کے مطابق خود کو ڈھال لیتی اگر چہ پہلے وقتوں میں۔ لڑکیاں۔ اتنی تعلیم یافتہ نہیں بھی۔ ہوتی تھیں ۔ پھر بھی ان۔ میں برداشت اور صبر تھا
اب وقت بہت بدل گیا ہے سوشل میڈیا کا استعمال حد سے زیادہ ہے. کچھ میڈیا نے عوام کو بہت ترقی یافتہ کر دیا ہے
دوسری طرف، انسانی فطرت ہے اچھائی کو قبول کرنے کے لیے سوچنا پڑتا ہے خود کو قائل کرنا پڑتا ہے، زور لگانا پڑتا ہے، جبکہ برائی ہمارے اندر خود بہ خود ہمارے ذہنوں میں داخل ہونے کا راستہ بنا لیتی ہے
اسی طرح آج کل کے بچے میڈیا کو اپنا آئیڈیل بنا بیٹھے ہیں اور زیادہ تر ڈرامہ ایسے ہیں جن میں طلاق لازمی ہے اگر غور کریں تو ڈرامہ میں طلاق کی کوئی بہت بڑی وجہ بھی نہیں ہوتی اس کا اثر یہ ہوا کہ عام زندگیوں میں بھی بڑی وجہ کے بغیر طلاق کا رجحان بڑھ رہا ہے ۔
قوت برداشت کی کمی ایک اور وجہ ہے. اس پر مستزاد یہ کہ کے نہ اولاد کی ویسی تربیت اور نہ ہی ویسی پرورش . اب والدین بھی کہتے ہیں اگر تمہیں سسرال میں کچھ کہے تو تم بھی دس سنانا اور شوھر سے بھی دبنے کی ضرورت نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ لڑکی کو زبان پے کنٹرول نہیں اور پیچھے ماں باپ کا ہاتھ بس یہ ہی وجہ بنتی ہیں طلاق کی ۔
آج سے دس پندرہ سال پیچھے کی طرف دیکھیں تو طلاق ایک کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا اگر کہیں گھر میں مسئلہ ھوتا تو رشتےدار مل ملا کر معا ملہ حل کر دیتے تھے مگر اب جیسے کہ کسی کے پاس وقت ہی نہیں کسی رشتےدار کے لیے، اور دوسرے طرف بھی رویہ ایسا کہ آپ کون ھوتے ہیں ہمارے گھر کی بات میں بولنے والے . اگر آج کے والدین بھی اپنی بیٹیوں کو صبر کی تلقین کے ساتھ رخصت کریں تو ہو سکتا ہے کے طلاق کی شر ح کم ہو جاۓ. اللہ ہماری نسل پر رحم کر


معاشرے میں طلاق کا بھڑھتا رجحان برداشت کی۔ کمی ہے اور اس کا ذمہ دار میڈیا بھی ہے
جواب دیںحذف کریںمعاشرے میں طلاق کا بھڑھتا رجحان برداشت کی۔ کمی ہے اور اس کا ذمہ دار میڈیا بھی ہے
جواب دیںحذف کریں