آج کا نو جوان

آج کا نوجوان
قّوت، امنگ، حوصلہ اس کا دوسرا نام جوانی ہے کسی بھی ملک قوم کی کامیابی، فتح اور عروج میں نوجوانوں کا کردار اہم ہوتا ہے چودہ سال سے تیس سال تک کی عمر کے مرد کو نوجوان کہا جاتا ہے یہاں ہم پاکستان کا تذکرہ کرتے ہیں ایک سروے کے مطابق پاکستان کو نوجوانوں کے ملک کا درجہ حاصل ہےجوانی اللّه  کی طرف سے بہت بری نعمت ہے اسی لیے اسی حوالے سے قیامت کے دن پوچھا جائے گا
- آج تک جتنے بھی اہم کام ہوئے وہ سب لوگوں نے اپنی جوانی میں ہی کیے آج سے چودہ سو سال پہلے حضور اکرم سرزمین عرب میں جو انقلاب لائے وہ اپنی جوانی میں لائے دور حاضر میں جب نوجوانوں سے ان کی زندگی کا مقصد پوچھا جائے تو وہ جواب نہیں دے پاتے کیونکہ انہوں نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ ہماری زندگی کا کیا مقصد ہے آج کا نوجوان بے شمار مسائل اور الجھنوں میں گھرا ہوا ہے  ایک طرف اقتصادی مسائل ہیں تو دوسری طرف نظام تعلیم کے مسائل ہیں پھر تعلیم اور ڈگڑی ہونے کے باوجود بےروزگاری کے مسائل ۔قوم کی تعمیر اور ترقی بہتر مستقبل کی بنیاد نظام تعلیم ہی ہے آج کل تعلیم کا مقصد پیسہ کمانا اور مسائل کا حل نکالنا  ہےہر نوجوان خواب دیکھتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے اور  محنت کم کرنی پڑے اسی سلسلے میں نوجوان شارٹ کٹ ڈھنڈتا ہے اور اسی شارٹ کٹ کے چکروں میں اپنے آپ کو مصیبتوں میں ڈال لیتا ہے اور کچھ نوجوان مستقبل بنانے کی دھن میں اپنے اردگرد سےلاتعلق ہو جاتے ہیں انہیں اپنے علاوہ اور کوئی نظر نہیں آتا پھر جب وہ ڈگری ہولڈر ہو جاتا ہے اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے جب اپنی منزل پر پہنچ جاتا ہے تو اس کے دل میں ہمدردی کا جذبہ نہیں رہتا اس کے پاس تعلیم تو ہوتی ہے لیکن وہ اس پر خود عمل نہیں کرتے اس کی مثال اس گدھے کی طرح ہے جس کی پیٹھ پر کتابوں کا بوجھ لاد دیا جائے لیکن بے چارے گدھے کو معلوم بھی نہ ہو کہ اس کی پیٹھ پر کس قسم کا بوجھ ہے آج کا نوجوان عدم اعتماد کا شکار ہےوہ کوئی بھی نیا کام کرنے سے گھبراتا ہے کاروبار ہو سیاست ہو جاب ہو یا کھیل کا میدان اس کو مطلوبہ  رہنمائی نہیں ملتی  اگر نوجوانوں کو مطلوبہ رہنمائی مل جائے تو ان کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے اس سلسلے میں والدین اور استاتذہ کی رینمائی بے حد ضروری ہے ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں تاکہ نوجوان طبقہ ملت و معاشرے کی تعلیم واصلاح کے لیے موءثر کردار ادا کریں اور حکومتی اداروں کو چاہیے کہ نوجوانوں کے لیے بہترین اداروں کا انتظام کریں  جہاں ان کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو ابھارا جائے تکہ وہ مثبت طرز ذندگی اختیار کریں اور اپنے ملک کے لیے مفید ثابت ہوں اور ملک کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کریں

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں