شہر اور شکاری

بشریٰ نواز۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل سے ذرا پرے کچھ دور چٹانوں کا چھوٹا سا سلسلہ تھا۔ شاید یہ کبهی سمندر کا حصہ رہی ہوں مگر اب یہاں مچھیروں کی چھوٹی سی بستی آباد تھی۔ بڑی چٹان سے نیچے دو جھگیاں چھوڑ کے تیسری جھگی سکینہ کی تھی جہاں وہ اپنے بوڑھے سسر، تین بچوں اور اپنے شوہر جلال کے ساتھ رہتی تھی۔

وہ صبح اٹھتی چاۓ بناتی اتنی دیر میں جلال بھی جاگ جاتا ، سب کو چاۓ روٹی دے کر وہ دونوں بیٹوں کا ہاتھ مونھ دھلاتی ۔ گھنگریالے بال ہونے کی وجہ سے وہ خوب چیختے۔ سسر بھی کبھی کہتا سکینہ تو کیوں بچوں کو تنگ کرتی ہے صبح صبح لیکن سکینہ نے کبھی نا سنی سسر کی بات۔ جلال بیٹوں کو ساتھ لے کر کاندھوں پہ جا ل ڈالے سمندر کی طرف چل پڑتا۔
سکینہ ان کے جانے کے بعد با ڑا صاف کرتی، برتن دھوتی، پھر بیٹی کو سنوار نے میں لگ جاتی۔ اس کا دل چاہتا کہ میری بیٹی کے بال بالکل سیدھے ہوں، گال سفید ھوں بالکل شہر سے آئی ہوئی اس گلابی فراک والی لڑکی جیسی۔ اسے اب بھی اچھی طرح یاد تھا جب وہ گلابی فراک والی کی ہم عمر تھی، کچھ لوگ شہر سے گھومنے ساحل پہ آئے تھے، وہ ساحل پہ ریت سے گھر بنارہی۔ تھی۔

جب ہی کچھ بچے اس کے قریب آ گئے، “اوہ گاڈ دیکھو، اس کے بال جیسے جھاڑی ہو”۔ دوسری بولی:” دیکھو کتنی کالی بھی ہے” باقی تمام بچے ہنسنے لگے۔
“اس کے کپڑے کتنے گندے ہیں” ۔ اس نے ایک نظر ان سب پہ ڈالی اور پھر گھروندا بنانے میں ایسے مصروف ہوئی جیسے کچھ سنا ہی نہیں۔



“لگتا ہے بول نہیں سکتی، گونگی ہے شاید” وہ سب ہنستے رہے یہاں تک کہ وہ سب واپس چلے گئے ۔

“بابا! مجھے بھی شہر لے جائو نا، میں بھی شہر دیکھوں گی” اور بابا ہر بار ہنس کے ٹال دیتا۔ ماہی گیروں کی کوئی عورت کبھی شہر نہیں گئی تھی، مرد جاتے تھے مچھلی بیچنے یا کوئی ضرورت کا سامان لینے۔

جب اس کی شادی ہوگئی تو اس نے جلال سے بھی کتنی بار فرمائش کی لیکن اس نے بھی کبهی کوئی وعدہ نہیں کیا۔ وہ جب بھی گھر کے کاموں سے فارغ ہوتی، بیٹی کوخوب بنا سنوار کے ساحل کی طرف چلی جاتی۔ شام کو دور سے شہر کی بتیاں دیکھ کے وہ سوچتی، نجانے شہر کیسا ہوتا ہے۔ وہ شہر کے بارے میں تو نہ جان سکی لیکن اس کی سب سے بڑی خواہش اگر کوئی پوچھتا تو وہ شہر دیکھنا ہی تھا۔ اس کی اس خواہش کے بارے میں سب ہی جانتے تھے لیکن جلال یا سسر نے پروا کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی۔ اور تو کوئی نہیں مگر اللہ‎وسایا جیسا جانور اس کی تمنا کو بھانپ گیا تھا ۔ اب وہ اسے اکثر ساحل پے ملنے لگا۔ ایک دن وہ اس کی بیٹی کے لیے سیدھے بالوں گورے گالوں والی گڑیا لے آیا۔

وہ آج بھی ساحل پہ بیٹھی سمندر کی موجوں کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے گڑیا بچی کو تھمائی، جیسے شکاری اڑتے پکھیروں کو دانا ڈالتے ہیں اس نے بھی ایسا ہی کیا۔ “نہیں چاہئے، واپس لو” اس نے گڑیا بیٹی کے ہاتھ سے چھین کے اللہ‎ وسایا کو واپس کرنا چاہی۔
“رہنے دے اس کے پاس، میں کیا کروں گا اس کے لیے ہی لایا تھا میں شہر سے، وہاں اور بھی بہت کچھ ملتا ہے،بڑی بڑی گاڑیاں، بڑے بڑے گھر ہیں، تو دیکھے توحیران ہو جاۓ”۔

“اگر شہر اتنا ہی اچھا ہے تو یہاں آتے ہی کیوں ہو؟” سکینہ بولی۔”میں تو ہمیشہ وہاں رہ جاؤں”۔
“میں تو یہاں تیری وجہ سے آتا ہوں” شکاری نے رسی کچھ اور کھینچ لی۔” شہر دیکھے گی، آ تجھے شہر دیکھادوں” بچپن کی خواہش جو اب حسرت میں بدل گئی تھی، خواہش کی صورت سامنے آ گئی شکاری کی۔ پوری گرفت تھی ڈور پہ۔

صبح جب جلال اپنا جال اٹھاۓ بیٹوں کو ساتھ لیے گھر سے نکلا تو تھوڑی دیر بعد سکینہ بیٹی کا ہاتھ پکڑے وہاں آ گئی جہاں اللہ‎ وسایا کی لانچ کھڑی تھی۔ گڑیا بچی کے ہاتھ میں تھی۔ وہ ریت پہ اس کا گھر بنانے میں مصروف ہو گئی اور سکینہ کے قدم۔لانچ کی طرف۔ لالو نے ماں کی طرف دیکھا، سکینہ نے اپنے دوپٹے سے چہرہ چھپالیا، لالو ماں کی طرف دیکھتی۔ رہی لیکن سکینہ لانچ میں بیٹھ چکی تھی۔ اللہ‎ وسایا اسے شہر لے آیا، اسے خوب گھمایا اور بڑے گھر میں بھی لے گیا۔

سورج ڈوبنے سے کچھ پہلے ان کی لانچ واپسی کا سفر کرچکی تھی۔ سکینہ گم صم تھی ،جیسے شہر دیکھ کے بھی اس نے کچھ نہیں دیکھا۔ وہ خود سے بھی شرمندہ تھی، اس نے ایسا نہیں سوچا تھاجیسے ہوا۔ سارا راستہ خاموشی میں کٹا، جب وہ ساحل پہ اتری تو بھی لالو ریت پہ گڑیا کو ساتھ سلا کے سوئی ہوئی تھی۔ وہ جلدی سے اتری اور لالو کو گھسیٹی ہوئی جھونپڑی کی طرف آ گئی۔

سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا وہ چھوڑ کے گئی تھی، بس وہ پہلے جیسی نہ تھی۔ اس نے دوپٹہ ایک طرف رکھا اور جلدی سے کھانا بنانے لگی۔ پھرجلال اور بیٹے بھی آ گئے، سکینہ کا دل ہی نہیں کیا کھانا کھانے کو۔

دن بھر کا تھکا ہوا جلال اور بیٹے جلدی ہی سو گئے، اس نے لالو کو اپنے ساتھ لگانا چاہا،لالو پیچھے ہٹ گئی۔ اس رات گرج کے بارش ہوئی۔ وہ تیزی سے با ہر آئی بارش نے ایک لمحے میں اسے بھگو دیا مگر وہ رکی نہیں، وہ سمندر کے قریب پہنچی ایک لمحے کو خوف زدہ ہوگئی، یہ وہ سمندر نہیں تھا جسے وہ بچپن سے جانتی تھی۔ یہاں تو ہر سمت پانی ہی پانی تھا، سمجھ نہیں آتی تھی کہ سمندر کہاں سے شروع ہوتا ہے اور کہاں ختم، شہر کی تمام روشنیاں بھی بجھی ہوئی تھیں۔ کیا خبر وہ شہر ڈوب گیا ہو کیوں کہ وہاں ہر طرف اندھیرے کا راج تھا۔

اگر شہرڈوب جاتا ہے تو اس کے جرم کے سارے نشان مٹ جاتے ہیں،اس نے سوچا۔ اورخود کو ملامت کرنے لگی۔ مہربان سمندر نے کہا اگر تو فیصلہ نہیں کرپا رہی تو آؤ میں تمہیں اپنی آغوش میں لے لوں۔ اگلے ہی لمحے ایک لہر آئی اور اسے اس کے گنہگار وجود کے ساتھ بہا لے گئی۔

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل تحریر: بشرہ نواز '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' اگرچہ خواتین معاشرےکی معاشی ترقی کے لیے حیات افزا کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کے اس کردار کو شاذونادر ہی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خواتین عام طور پرگھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں اور ملازمت کا انتخاب خواہش کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت کی بنیاد پر کرتی ہیں ۔وہ اپنے خاندان اور گھر کی ذمہ داریوں کے لیے ناکافی وقت دینے پر اپنے آپ کو قصووار تصور کرتی ہیں۔اس دہری ذمہ داری کے سبب ان پر دوگنا بوجھ پڑتا ہے اور نتیجتا ً اانہیں بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے ۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ابھی تک پاکستانی معاشرے نے مکمل طور پر ملازمت پیشہ خاتون کے تصور کو قبول نہیں کیاہے۔ شادی شدہ خواتین کی یہ بھی مشکل ہے کہ سسرال میں کہا جاتا ہے کہ اگرملازمت کرے گی توگھر کون سنبھالے گا؟ خاندان والے کیا سوچیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود ایسی خواتین سب کو وقت دینے اور خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ انھیں ساری دنیا کو باور کرانا ہوتا ہے کہ اپنی ملازمت کے ساتھ وہ گھر، بچے، فیملی اور باقی تمام معاملات خوش اسلوبی سے نبھا رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کو چکی کے دو باٹ کہا جا تا ہے۔۔ جس طرح خواتین زندگی کی گاڑی چلانے میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اسی طرح مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ گھریلو امور میں ان کا ہاتھ بٹایا کریں۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرد عورت کا ہاتھ بٹانے میں اپنی توہین سمجھتا ہے اور ہمارے معاشرے میں کچھ جگہوں پر مرد کا گھر کےکام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹانے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ترقی کی اس جدوجہد میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ اب عورت اس بات پر قناعت نہیں کرسکتی کہ صرف مرد ہی کما کر لائے اورخاندان کی ضروریات پوری کرے۔ آج کی عورت یہ سمجھتی ہے کہ اسے بھی مرد کی طرح آزادی اور مساوات کے اظہار کے لیے ذاتی سرمایہ اور ملکیت چاہیے۔ اس لیے اب دنیا کے ہر ملک میں خواتین کے لیے گھر سے باہر ملازمت کرنا ایک ضرورت بن چکی ہے جس کا ماضی میں تصور بھی ممکن نہ تھا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں جن میں بڑی تعداد میں خواتین میڈیکل،ٹیچنگ، بینکنگ، ٹیلیفون آپریٹر، نرسنگ، گارمنٹس، صحافت، شوشل میڈیا، ، وکالت ، تدریس ، طب ، بزنس ، مارکیٹنگ ، شو بز انجینئرنگ ،اکاونٹنس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر اہنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں شعبہ ابلاغ عامہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز میں اپنے فرائض انجام دے رہی یں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہیں ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو بری الزمہ سمجھتی ہے جو انتہائی احمقانہ سوچ ہے اور یہ سوچ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مرد عورت پر اپنا تسلط چاہتا ہے ۔ اپنے گھر اور خاندان کے حوالے سے آپ کو خود ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور جب آپ اپنے خاندان کے بہترین مفاد میں کوئی فیصلہ کر لیں تو پھر آپ کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آپ کا یہ فیصلہ کچھ دیگر لوگوں سے مختلف کیوں ہے۔ کیونکہ ہر گھر اور خاندان کی ضروریات، حالات، وسائل مختلف ہوتے ہیں ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اسی طرح آپ کا کوئی فیصلہ آپ کے خاندان کے بہترین مفاد میں ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر گھر اور خاندان کے لیے قابلِ عمل ہو۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے کچھ جاہل لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ جہاں ملازمت پیشہ خواتین کو آزاد خیال اور گھر والوں کو ہر معاملے میں اپنا رعب داب رکھنے والی عورت تصور کیا جاتا ھے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں اپنے گھر والوں بچوں کیللے جدوجہد یہی ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔ یہ خواتین بھرپور طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتی ہیں، کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے نبھاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورتیں اپنا معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاہ رہی ہیں، اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنے بچوں اور خاندان کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔ جس طرح علم حاصل کرنا ہر عورت کا حق ہے ، اسی طرح اپنا مستقبل بنانا بھی ہر عورت کا حق ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ملازم پیشہ خواتین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں معاشرے کی گھریلو مشکلات ، پسماندہ سوچ ، صنفی امتیاز ، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور جنسی ہراسانی wo mxklat oiN jw سرفہرست ہیں۔ خواتین کو معاشرے میں مساوی سیاسی ، معاشی و سماجی حقوق دینے والے بالشویک انقلاب کے لیڈر ولادیمیر لینن نے کہا کہ ہماری خواتین شاندار طبقاتی جنگجو ہوتی ہیں ۔ محنت کشوں کی کوئی بھی تحریک خواتین کی شعوری مداخلت کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی ۔ روسی انقلاب ہو یا اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی سعودی عرب یا ایران کی خواتین ، بحرین میں ریاستی جارحیت کے خلاف احتجاج یا ترکی میں جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازش کا راستہ روکنے کی تحریک ، ہر موقع پر خواتین ایک بڑی طاقت کی صورت میں سامنے آئی ہیں اور اپنا کردار ادا ادا کیا ہے۔۔