پارلیمانی سرکس


ایسے لوگ ویسے حکمران ایک بوتل میں آپ شراب بھر لیں یا شہد یہ آپ کے دائرہ اختیار میں ھے پاکستانی پارلیمان ایک ایسی بوتل کی مانند ھے جس میں بیک وقت شراب اور شھد ایک ساتھ ھے جو سائنس لحاظ سے ممکن نہیں
حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم کا ایک قول کہںں پڑھا تھا تھا قرب قیامت کی ایک مثال ایسی ھے کے دوکنویں ہیں اور دونوں کا پانی آپس میں ایک راستہ بنا کر ملا دیا گیا ھے لیکن ایک دوسرے کے ساتھ ملاپ ھوتے ھوے بھی الگ ہیں ۔۔۔غالباً یہ مثال سگے بھائیوں کے لیے ھے جو باہم ساتھ ھوتے ھوئے الگ الگ ہیں یہ ہی حال قوم پاکستان کا ھے

کہنے کو پاکستان بائیس کروڑ عوام کا ملک ھے جس میں الگ الگ رنگ و نسل اور مزاج کے لوگ رہتے ہیں اب پارلیمنٹ کو دیکھیں تو اس میں دوطرح کے ارکان ہیں ہم اگر ان کو دائیں بازو اور بائیں بازو والے کہیں تو دونوں بازووں میں بھی ہندووں کی کالی ماتا جتنے بازو ہیں جو الگ الگ پارٹیاں اور جھنڈوں کےمالک ہیں

اس ملک کو قائداعظم محمد علی جناح بنا کر ملک عدم کو سدھار گئے اللہ پاک کی حکمت تھی وہ ملک خداد کو کم وقت ہی دے سکے وگرنہ ان پہ بھی ہزار ہزار اعتراضات اور فتوں کے مجموعے چھپ چکے ھوتے۔۔۔

ملکی صورتحال کو دیکھیں تو نہائیت دگرگوں جبکہ سیاست اور سیاستدانوں کے حالات ابتر سے ابتر ھوتے ھوتے جا رہے ہیں پارلیمنٹ کیا ھے ایک نوٹنکی یا سرکس ھے چھوٹی اسمبلیاں چھوٹے سرکس بڑی اسمبلی بڑا سرکس اور اس سرکس میں گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے سیاسی اداکار ۔۔۔
جن میں باکردار اور قابل ستائش کمیاب
اللہ پاک کے قادر مطلق ھونے کا ہمارا کامل یقین اسوقت سے زیادہ ھوگیا جب ہم پاکستان کو ایک معجزے کی مانند قائم ودائم دیکھتے ہیں

ایک طرف حکومت دوسری طرف حزب مخالف یا یوں کہیے مخالفت برائے مخالفت کے لوگ۔۔۔ نہ تو حکومت کو اس بات کا ادراک کہ ھم حکومت ہیں اور نہ اپوزیشن کو کہ ہم بھی اپوزیشن ہیں اور ہمیں خیرخواہی میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا ھے اور کیا کر رہے ہیں ۔۔

فیس بک تبص

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں