: ہماری رسومات
سنا ہے خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا اب
خربوزے رنگ پکڑتے ہیں یا نہیں لیکن ہم انسان فوری طور پے رنگ نہ صرف پکڑتے ہیں بلکہ پورے کے پورے اس رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ خاص طور پے پڑوسیوں کے رنگ ہم کو بہت بھا تے ہیں معاملہ خوشی کا ہو یا غمی کا ہمارا استاد ہمارا ٹی وی ہے
اس میں کوئی شک نہیں تقسیم ھند سے پہلے مسلمان۔ اور ہندو اکھٹے رہے ساتھ ساتھ رہنے سے دونوں۔ تہذیبیں کچھ مل ملا گیں ہندؤں۔ نے تو کوئی اثر نہیں لیا مسلمانوں کی کسی بھی تہذیب یا رواج کا لیکن۔ مسلمان وہاں سے ہجرت کرتے وقت ان کے رسم و رواج لانا نہیں۔ بھولے ان رسومات میں۔ شادی بیا ہ گود بھرا ی اور موت بھی شامل ہے
خوشی ہو یا غمی ہمارا دین ہمیں سادگی کا درس دیتا ہے ہر کام میں ہمیں آسانی عطا کرتا ہے لیکن ہم اپنے اللہ کی نہ مانتے ہیں نہ ہی عمل کرتے ہیں خود کو جان بوجھ کے پریشانی میں ڈال لیتے ہیں۔ اب شادی کو ہی لیں, ہمارا دین ہمیں صرف نکاح کا حکم دیتا ہے بیٹی والوں پے کھانا کھلانے کی بھی زبردستی نہیں۔ بس اپنی۔ استطاعت کے مطابق ولیمہ کا حکم۔ ہے اور والدین کا فرض پورا ہو گیا لیکن اسی شادی کو ہم نے خود بہت مشکل کر لیا ہے مہندی ما یو ں جگراتا ایک ہفتہ یا پندرہ دن ڈھو لکی مہندی کا آنا جانا پھر شادی۔ کے بعد مکلاوا یہ سب رسومات ہندووانہ ہیں حدیث ہے جس نکاح میں کم خرچ ہو۔ گا وہ با برکت نکاح ہو گا لیکن ایسی شادی کرنے کو ہم تیار نہیں۔
لوگ کیا کہیں گے ؟ ہم سن نہیں سکتے
گود بھرا ی ایک قبیح رسم پہلے ایسی باتیں۔ مردوں سے چھپائی جاتی تھیں بچوں کو بھی بھنک نہیں لگنے دی جاتی تھی۔ لیکن۔ ہمسا یوں۔ کے ڈراموں۔ نے ے گندی۔ رسم۔ ہماری گھروں۔ میں۔ داخل کر دی ہے اب بیٹی کا باپ بھائی سب ہی اس رسم میں شامل۔ ہوتے ہیں استغفراللہ
پہلے کوئی فوتگی ہوتی جو جیسے بیٹھا ہوتا اٹھ کے چل۔ پڑتا لیکن ہمسا ے فوتگی پے سفید کپڑے پہنتے ہیں تو بھلا ہم کیوں پیچھے رہیں اب سب نے سفید سوٹ سلوا رکھے ہیں کوئی پتا نہیں کب پہننا پڑ جاۓ
ہم۔ نے اپنے دین تہذیب جیسے سب کچھ فراموش کردیا ہے اللہ کریم ہم پے رحم کرے
فیس بک تبصرے


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں