ویلنٹائن ڈے

بشریٰ نواز۔۔۔۔۔۔۔۔
ویلنٹائن ڈے تقریباً دس سال سے یا اس سے زائد عرصہ سے ہماری نوجوان نسل کے اعصاب پر سوار ہوا ہے جو ہر سال 14 فروری کو منایا جاتا ہے جس کو محبت کرنے والے لوگوں سے منسوب کیا جاتاہے، اس دن تحفے تحائف اور پھولوں کا آپس میں تبادلہ ہوتا ہے خصوصی طور پر نوجوان جوڑوں کا جو ایک دوسرے کو محبت کے پیغام دیتے ہیں ۔

ویلنٹائن کون تھا؟
اس بارے میں تقریباً نوے فیصد لوگوں کو علم ہی نہیں، بس ایک سراب ہے جس کے پیچھے ہم دیوانے ہوئے چلے جارہے ہیں، ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اسلام کے بارے ضروری معلومات رکھتے ہیں نہ کبھی کوشش کی ہے، دوسرے مذاہب کے متعلق تو ہمارا ورقہ ہی کورا ہے۔

ہندووں نے دیوالی شروع کی،ہم نے شب رات تخلیق کرلی اور عبادت کی راتوں میں پٹاخے چلانے شروع کر دیے اور تو اور۔۔۔ شرک کا رخ کرنے پہ آئے تو ایسی جگہوں پر جاپہنچے جو آج بھی ہندو کے نام سے منسوب ہیں ۔۔
یہ دربدر بھٹکی ھوئی قوم کو جب ویلنٹائن کی سوغات ملی تو ایک طوفان بدتمیزی بھرپا ھو گیا اب ان کو کون بتاے کہ اسلام میں صرف دو تہوار ھیں ایک بڑی اور دوسری چھوٹی عید باقی سب خرافات ھیں

ویلنٹائن صاحب کون تھے؟ ان کے بارے میں تحقیق کے باوجود کوئی مستند بات سامنے نہیں آئی۔ کچھ روایات کے مطابق سن سترہ سو عیسوی میں ایک عیسائی پادری تھا جس کا دل ایک نن پہ آگیا ۔ ننیں وہ راہبہ عورتیں ہوتی ہیں جو چرچ میں رہتی ہیں اور عیسائی مذہب کی تبلیغ کرتی ہیں،ساری عمر شادی نہیں کرتیں۔راہبوں کے لیے بھی شادی حرام اور جرم ہوتی ہے ، ان کو بھی کنوارہ رہنا ہوتا ہے۔

ویلنٹائن نے اپنی جنسی حاجت پوری کرنے کی لیے ایک جھوٹا خواب گھڑا تھا اور پھر اپنا اور نن کا منہ کالا کیا جس کی پاداش میں اسے پھانسی دی گئی۔ اس کی یاد میں یہ دن ، ویلنٹائن ڈے ، منایا جاتا ہے۔دوسری روایت بھی اس سے ملتی جلتی ہیں کہ ویلنٹائن نے قدیم یونانی دیو مالائی مذہب کو چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرلی تھی جس کی پاداش میں اسے پھانسی ہوئی۔ اگر دونوں روایات کو سچ مان لیا جاے تو یہ مسلمانوں کے لیے کوئی قابل تقلید بات نہیں ۔

اسلام میں محبت کا تصور
اسلام میں مرد اور عورت کا کوئی ایسا رشتہ قابل قبول نہیں جو نکاح کیے بغیر ایک دوسرے کو کھلے عام ملنے کی اجازت دے۔ یہ صرف نئی نسل کو گمراہ کرنے کی ایک بڑی گھنائونی سازش ہے یا یوں کہیے کہ اسلام کی اساس اور ساکھ کو تباہ کرنے کی کوشش ہے، ہمیں اپنے بچے اور بچوں کی عزتوں کو پامال ہونے سے بچانا ہے۔ یہ وہ حرامزدگی ہے جو نکاح سے قبل زنا کی طرف لے کر جاتی ہے۔ اللہ ہمیں ہماری اولادوں کو ایسی سامراجی سازشوں سے محفوظ رکھے۔ اسلام میں سارے دن محبت کے ہیں لیکن نکاح کے بعد 

تبصرے

مشہور اشاعتیں

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل تحریر: بشرہ نواز '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' اگرچہ خواتین معاشرےکی معاشی ترقی کے لیے حیات افزا کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کے اس کردار کو شاذونادر ہی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خواتین عام طور پرگھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں اور ملازمت کا انتخاب خواہش کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت کی بنیاد پر کرتی ہیں ۔وہ اپنے خاندان اور گھر کی ذمہ داریوں کے لیے ناکافی وقت دینے پر اپنے آپ کو قصووار تصور کرتی ہیں۔اس دہری ذمہ داری کے سبب ان پر دوگنا بوجھ پڑتا ہے اور نتیجتا ً اانہیں بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے ۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ابھی تک پاکستانی معاشرے نے مکمل طور پر ملازمت پیشہ خاتون کے تصور کو قبول نہیں کیاہے۔ شادی شدہ خواتین کی یہ بھی مشکل ہے کہ سسرال میں کہا جاتا ہے کہ اگرملازمت کرے گی توگھر کون سنبھالے گا؟ خاندان والے کیا سوچیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود ایسی خواتین سب کو وقت دینے اور خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ انھیں ساری دنیا کو باور کرانا ہوتا ہے کہ اپنی ملازمت کے ساتھ وہ گھر، بچے، فیملی اور باقی تمام معاملات خوش اسلوبی سے نبھا رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کو چکی کے دو باٹ کہا جا تا ہے۔۔ جس طرح خواتین زندگی کی گاڑی چلانے میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اسی طرح مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ گھریلو امور میں ان کا ہاتھ بٹایا کریں۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرد عورت کا ہاتھ بٹانے میں اپنی توہین سمجھتا ہے اور ہمارے معاشرے میں کچھ جگہوں پر مرد کا گھر کےکام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹانے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ترقی کی اس جدوجہد میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ اب عورت اس بات پر قناعت نہیں کرسکتی کہ صرف مرد ہی کما کر لائے اورخاندان کی ضروریات پوری کرے۔ آج کی عورت یہ سمجھتی ہے کہ اسے بھی مرد کی طرح آزادی اور مساوات کے اظہار کے لیے ذاتی سرمایہ اور ملکیت چاہیے۔ اس لیے اب دنیا کے ہر ملک میں خواتین کے لیے گھر سے باہر ملازمت کرنا ایک ضرورت بن چکی ہے جس کا ماضی میں تصور بھی ممکن نہ تھا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں جن میں بڑی تعداد میں خواتین میڈیکل،ٹیچنگ، بینکنگ، ٹیلیفون آپریٹر، نرسنگ، گارمنٹس، صحافت، شوشل میڈیا، ، وکالت ، تدریس ، طب ، بزنس ، مارکیٹنگ ، شو بز انجینئرنگ ،اکاونٹنس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر اہنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں شعبہ ابلاغ عامہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز میں اپنے فرائض انجام دے رہی یں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہیں ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو بری الزمہ سمجھتی ہے جو انتہائی احمقانہ سوچ ہے اور یہ سوچ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مرد عورت پر اپنا تسلط چاہتا ہے ۔ اپنے گھر اور خاندان کے حوالے سے آپ کو خود ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور جب آپ اپنے خاندان کے بہترین مفاد میں کوئی فیصلہ کر لیں تو پھر آپ کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آپ کا یہ فیصلہ کچھ دیگر لوگوں سے مختلف کیوں ہے۔ کیونکہ ہر گھر اور خاندان کی ضروریات، حالات، وسائل مختلف ہوتے ہیں ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اسی طرح آپ کا کوئی فیصلہ آپ کے خاندان کے بہترین مفاد میں ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر گھر اور خاندان کے لیے قابلِ عمل ہو۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے کچھ جاہل لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ جہاں ملازمت پیشہ خواتین کو آزاد خیال اور گھر والوں کو ہر معاملے میں اپنا رعب داب رکھنے والی عورت تصور کیا جاتا ھے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں اپنے گھر والوں بچوں کیللے جدوجہد یہی ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔ یہ خواتین بھرپور طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتی ہیں، کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے نبھاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورتیں اپنا معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاہ رہی ہیں، اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنے بچوں اور خاندان کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔ جس طرح علم حاصل کرنا ہر عورت کا حق ہے ، اسی طرح اپنا مستقبل بنانا بھی ہر عورت کا حق ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ملازم پیشہ خواتین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں معاشرے کی گھریلو مشکلات ، پسماندہ سوچ ، صنفی امتیاز ، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور جنسی ہراسانی wo mxklat oiN jw سرفہرست ہیں۔ خواتین کو معاشرے میں مساوی سیاسی ، معاشی و سماجی حقوق دینے والے بالشویک انقلاب کے لیڈر ولادیمیر لینن نے کہا کہ ہماری خواتین شاندار طبقاتی جنگجو ہوتی ہیں ۔ محنت کشوں کی کوئی بھی تحریک خواتین کی شعوری مداخلت کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی ۔ روسی انقلاب ہو یا اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی سعودی عرب یا ایران کی خواتین ، بحرین میں ریاستی جارحیت کے خلاف احتجاج یا ترکی میں جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازش کا راستہ روکنے کی تحریک ، ہر موقع پر خواتین ایک بڑی طاقت کی صورت میں سامنے آئی ہیں اور اپنا کردار ادا ادا کیا ہے۔۔