ایٹم بم کے دعویدار
یوم تکبیر یعنی اللہ پاک کی کبیریائی کا دن یا ہم اسے یوم تشکر بھی کہ لیں تو مناسب ترین ھوگا
پاکستان کا ایٹمی پروگرام ساٹھ کی دھائی میں معرض وجود میں آنا شروع ھوا چونکہ پاکستان کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی اس بات کا احساس ھوچکا تھا اس کی بقاء کی جنگ بڑی ضروری ھے جناب ایوب خان مرحوم کے دور حکومت میں یہ سلسلہ شروع ھوا اور پھر اسکو صیحح معنوں میں باقاعدہ مشن کے طور پر جناب ذولفقار علی بھٹو نے شروع کردیا جس کا خمیازہ انہیں جان کے نزرانے کی صورت میں بھگتنا پڑا۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ سیکرٹری اسٹیٹ آف امریکہ ہینری کسنجر نے کہ دیا
We will make a horrible example of you ….
اور پھر انکو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا آج سارے جمعہ جنج نال بننے کی دوڑ میں سب سے آگے ہیں جنکا ایک ٹکے کا بھی Contributions نہیں آج سوشل میڈیا پر جھوٹوں کی ایک فوج سرگرم عمل تھی۔۔۔۔کہ لال قعلہ دہلی پہ فتح کا پرچم ہمارے ابا جان نے چڑھایا تھا اور چاچا جی نے اسکا ڈنڈا پکڑا ھوا تھا کچھ تو حیاء کی ھوتی یہ کوئی شب برات یا بیاہ شادی میں چلانے والا گولا تھا۔۔۔۔۔ جناب یہ ائٹم بم ھے۔۔۔
ہم نے اکثر دیکھا ہیرو ہمیشہ گمنام ہی ھوتے ہیں اور شائید تا قیامت ایسا ہی ھو ایٹم بم پاکستان کی بقاء کی ضمانت ھے اسکو بنانے میں سب سے زیادہ کریڈٹ پاکستان کے سائنس دانوں ۔۔۔اور جن میں بڑے پیمانے پر کاریگر بھی شامل ہیں اور ان سب سے بڑہ کر اس پروگرام کو پاکستان آرمی نے دوام اور تحفظ بخشا ۔۔
آن میں چند معتبر ترین نام یہ ہیں جو میں نے ایک آرٹیکل میں پڑھے۔۔۔
جناب ذولفقار بھٹو سابق وزیراعظم پاکستان
جناب جنرل ضیاالحق مرحوم
جناب جنرل کے ایم عارف مرحوم
آور جنہوں نے سب سے زیادہ دلیری کے ساتھ اس پروگرام کو پروموٹ کیا وہ تھے جناب عبدالوحید کاکڑ صاحب سابقہ چیف آف سٹاف پاکستان آرمی۔۔۔۔
اسکے علاوہ پاکستان کے سائنس دانوں نے دن رات محنت کرکے اس پروگرام کو مکمل کیا ۔۔
ہم نے آج سارا دن اپنے ضبط کو آزمایا لیکن اپنے کاریگر اور سائنسدان پاکستانیوں کی توہین ہم سے برداشت نہیں ھوئی۔۔۔
اس ایٹم بم کی تکمیل میں کوئی ان پڑھ کاریگر تو شامل ھوسکتا لیکن اس کام میں ان متکبر سیاستدانوں کا کوئی لینا دینا نہیں جن کے لیے نہ تو پاکستان کے عسکری ادراوں کی کوئی عزت اور نہ دوسرے انجینرز اور سائنسدان کو ۔۔۔
لہو لگا کے شہیدوں میں شامل نہ ہوں اور نہ ہم پاکستانی ایسے مکروہ کرداروں کو اسکا کریڈٹ لینے دیں گے اپنے سیاہ کرتوت چھپانے کے لیے ایٹم بم۔کا سہارا نہ نہ لیں


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں