ہندوستان کا جنگی جنون
ہندوستان کا جنگی جنون کیا رنگ لائےگا یہ تو آ والا وقت ہی بتاے گا سوال یہ اٹھتاھےکہ ایسی کون سی مجبوریاں ھیں جو ہندوستان کے لیےپاکستان کے خلاف جنگ ناگزیر ھوگئی ۔۔
شنید ھے موجودہ وزیراعظم مودی کا آنے والے الیکشن میں دھڑن تختہ ھونے والا ھے اور پانچ میں چار ریاستوں میں ھو چکا مودی چونکہ ایک جنونی ھندو ھے اور اس کے منہ کو مسلمانوں کا خون پہلے ہی لگا ھوا ھے مذھب کوئی بھی ھو جب متشدد کے ھاتھوں آجائے تو روے زمین کا امن برباد ھو کر رھتاھے ھمارے سابقہ اور موجودہ ارباب اختیار نے ھمیشہ یہی کوشش کی ھے کہ معاملات کو مل بیٹھ کر حل کیا جاے لیکن یہ منحوس نت آے دن عجیب وغریب ڈرامے رچاتا ھے اتنا احمق اور فتنہ شخص ھماری نظر سے گزرا ہی نہیں صد حیف تمام ھندوستانیوں پہ جنہوں نے اتنا مکرہ اور بیوقوف حکمران منتخب کیا بھلے مانس کہتے ھیں اللہ گنجے کو ناخن نی دے اور اسی طرح کی دوسری مثال کہ بندر کے ھاتھ میں ماچس نہ لگ جاے ورنہ خوبصورت نخلستان جہنم میں تبدیل ھو جایں گے اب معاملہ ان ناتوں سے آگے کا ھے شروعات تو ھوچکی اب کیا جاے ۔۔
اسلامی تاریخ کے پس منظر میں جایں تو ھمیں ایک ھ سبق ملتاھے جنگیں ہتھیاروں اور سازوں سامان سے نہیں جیتی جاتی جزبہ جہاد ، شہادت کے شوق اور بہترین جنگی حکمت عملی سے جیتی جاتی ھیں اس دو شاندار مثالیں جنگ بدر اور دوسری جنگ موتی اور فارس کی فتح تھی ۔۔
بدر میں تعداد 313 بمقابلہ 1000
موتی میں غالباً 3000 بمقابلہ ڈھائی سے تین لاکھ تک ۔۔
اور کسری کی جنگ میں 7500 بمقابلہ 150000 ڈیڈھ لاکھ
بدر میں اللہ پاک نے فتح نصیب فرمائی کسرئ یعنی فارس کی جنگ میں دشمن 72000 ھزارلاشیں چھوڑ کر بھا اور جنگ موتٰی میں بہترین حکمت عملی سے لشکر اسلام معمولی نقصان کے ساتھ بچا لایا گیا مضبوط ترین قلعے نیست ونابود ھوے اور بڑی اور بڑے سازوسامان والی فوجوں کو لشکر اسلامی نے شکست فاش دی اور انشاءاللہ اب بھی ایسا ھونے جارھا ھے ۔۔
فارس کی جنگ میں جب صحابی رسول مغیرہ ابن شعبٰیؓ دربار کسری میں دعوت حق دینے گئے تو بادشاہ وقت نے کا تم کیا لڑوگے تمہاری تلوار کو تو میان میسر نہیں تو وھاں جناب مغیرہ ؓ نے کہا بہادر تلوار کی میان نہیں دھار دیکھا کرتے ھیں۔۔
1965 کی جنگ میں ایک نعرہ اٹھا جو قوم کی آواز بن گیا کس قوم کو للکارہ ھے آج ھم یہی کہیں گے اس قوم اس لیے للکارہ جارھا ھے لگتاھے انکے اعمال کی شامت آئی ھوئی ھے ۔۔
جنگ لڑنا اور جنگی جنون انڈیا کا الیکشن ڈرامہ ھو بھی سکتا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یا ھمارے ملک کو شدید نقصان پہچانے کا قصد ھمیں بہترین حکمت عملی سے موثر ترین جواب دینا چاہیے اور ایسی ضرب کاری لگانی چاہیے کے آنے والی نسلیں ارض پاک کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کا بھی نہ سوچے ھم سب جہاں ھیں جیسے ھیں احیاء پاکسان اور احیاء اسلام کے لیے حاضر ھیں اور انشاء اللہ فتح پاکستان کی ھوگی۔۔
نہ تلوار اٹھے نہ خنجر ان سے
یہ بازو میرے آزماے ھوے ھیں۔۔
پاکستان زندہ باد افواج پاکستان پائندہ باد
شنید ھے موجودہ وزیراعظم مودی کا آنے والے الیکشن میں دھڑن تختہ ھونے والا ھے اور پانچ میں چار ریاستوں میں ھو چکا مودی چونکہ ایک جنونی ھندو ھے اور اس کے منہ کو مسلمانوں کا خون پہلے ہی لگا ھوا ھے مذھب کوئی بھی ھو جب متشدد کے ھاتھوں آجائے تو روے زمین کا امن برباد ھو کر رھتاھے ھمارے سابقہ اور موجودہ ارباب اختیار نے ھمیشہ یہی کوشش کی ھے کہ معاملات کو مل بیٹھ کر حل کیا جاے لیکن یہ منحوس نت آے دن عجیب وغریب ڈرامے رچاتا ھے اتنا احمق اور فتنہ شخص ھماری نظر سے گزرا ہی نہیں صد حیف تمام ھندوستانیوں پہ جنہوں نے اتنا مکرہ اور بیوقوف حکمران منتخب کیا بھلے مانس کہتے ھیں اللہ گنجے کو ناخن نی دے اور اسی طرح کی دوسری مثال کہ بندر کے ھاتھ میں ماچس نہ لگ جاے ورنہ خوبصورت نخلستان جہنم میں تبدیل ھو جایں گے اب معاملہ ان ناتوں سے آگے کا ھے شروعات تو ھوچکی اب کیا جاے ۔۔
اسلامی تاریخ کے پس منظر میں جایں تو ھمیں ایک ھ سبق ملتاھے جنگیں ہتھیاروں اور سازوں سامان سے نہیں جیتی جاتی جزبہ جہاد ، شہادت کے شوق اور بہترین جنگی حکمت عملی سے جیتی جاتی ھیں اس دو شاندار مثالیں جنگ بدر اور دوسری جنگ موتی اور فارس کی فتح تھی ۔۔
بدر میں تعداد 313 بمقابلہ 1000
موتی میں غالباً 3000 بمقابلہ ڈھائی سے تین لاکھ تک ۔۔
اور کسری کی جنگ میں 7500 بمقابلہ 150000 ڈیڈھ لاکھ
بدر میں اللہ پاک نے فتح نصیب فرمائی کسرئ یعنی فارس کی جنگ میں دشمن 72000 ھزارلاشیں چھوڑ کر بھا اور جنگ موتٰی میں بہترین حکمت عملی سے لشکر اسلام معمولی نقصان کے ساتھ بچا لایا گیا مضبوط ترین قلعے نیست ونابود ھوے اور بڑی اور بڑے سازوسامان والی فوجوں کو لشکر اسلامی نے شکست فاش دی اور انشاءاللہ اب بھی ایسا ھونے جارھا ھے ۔۔
فارس کی جنگ میں جب صحابی رسول مغیرہ ابن شعبٰیؓ دربار کسری میں دعوت حق دینے گئے تو بادشاہ وقت نے کا تم کیا لڑوگے تمہاری تلوار کو تو میان میسر نہیں تو وھاں جناب مغیرہ ؓ نے کہا بہادر تلوار کی میان نہیں دھار دیکھا کرتے ھیں۔۔
1965 کی جنگ میں ایک نعرہ اٹھا جو قوم کی آواز بن گیا کس قوم کو للکارہ ھے آج ھم یہی کہیں گے اس قوم اس لیے للکارہ جارھا ھے لگتاھے انکے اعمال کی شامت آئی ھوئی ھے ۔۔
جنگ لڑنا اور جنگی جنون انڈیا کا الیکشن ڈرامہ ھو بھی سکتا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یا ھمارے ملک کو شدید نقصان پہچانے کا قصد ھمیں بہترین حکمت عملی سے موثر ترین جواب دینا چاہیے اور ایسی ضرب کاری لگانی چاہیے کے آنے والی نسلیں ارض پاک کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کا بھی نہ سوچے ھم سب جہاں ھیں جیسے ھیں احیاء پاکسان اور احیاء اسلام کے لیے حاضر ھیں اور انشاء اللہ فتح پاکستان کی ھوگی۔۔
نہ تلوار اٹھے نہ خنجر ان سے
یہ بازو میرے آزماے ھوے ھیں۔۔
پاکستان زندہ باد افواج پاکستان پائندہ باد


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں