اپوزیشن کا احتجاج






جمہوریت میں ایک حکومت ھوا کرتی اور دوسری اپوزیشن ۔۔۔
حکومت معاملات چلانے کے لیے پالیسیاں بناتی ھے ۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ اپوزیشن حکومت کہ غلطیاں سدھارتی تاکہ عوام کا استحقاق مجروح اور پامال نہ دونوں پارٹیوں کا مقصد صرف اور صرف عوام کی فلاح و بہبود ھوا کرتا ھے عرض پاک میں یہ مشق کئی دہائیوں سے جاری ھے لیکن کیا کیا جاے نہ حکومتیں اور نہ اپوزیشنیں اس معیار کو سمجھ سکیں اور عوام آج تک فلاحی مملکت کی کہانیاں سنتے ضرور ہیں لیکن فلاح کو نہیں پاسکے۔۔
پہلے مارشل لا سے قبل ہلکی پھلکی جمہوریت تھی پھر جناب بھٹو صاحب کی جمہوریت جو محض پانچ سال تک چلی۔۔۔۔۔
پھر دوسرے مارشل لاء کے بعد۔۔۔۔ 1988 سے 1998 تک کی جمہوریت
پھر تیسرا مارشل لاء اور اس کے بعد 2008 سے لیکر اب تک کی نیم حکیم جمہورہت جس سے قومی قرضہ میں 6 چھ ہزار ارب تھا تجاعز کرکے 23 ہزار ارب کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا ۔۔
1988 سے لیکر جو بھی لولی لنگڑی جمہوریت بنی اس میں دو جماعتوں کا کلیدی کردار رھا ایک مسلم لیگ جو کبھی ق ، کبھی ن ، اور کبھی ج، جیسی شکلیں دھارتی رہیں بہرحال چہرے وہی رہے چاہے ن، ج،ق ، ھوئی اور دوسری پاکستان پیپلز پارٹی ۔۔۔۔۔
پاکستان ماضی قریب میں تقریبا دوجماعتی نظام اقتدار کی طرف جاچکا تھا ۔۔۔۔۔ تیسرے مارشل لاء کے دوران ان دونوں جماعتوں نے میثاق جمہوریت کی بنیاد رکھی انہیں شاید عقل آگئی کہ ھماری لڑائیوں کی وجہ سے مارشل لاء لگتا ھے کیوں نہ ھم یہ لڑائی چھوڑ دیں یہ معاہدہ لندن میں میاں محمد نواز شریف اور محترمہ ، مرحومہ بے نظیر صاحبہ کے درمیان ھوا۔۔۔۔ معاہدہ پانچ سال ہمارے اور پانچ تمہارے آپ کی باری ہم نہیں بولیں گے اور ہمیں حکومت کرنے دیں گے کہتے ہیں

. . . Man proposes god disposes
اور ایسا ہی ھوا۔۔۔۔ ۔۔۔ انہوں نے دس سال مل کے عوام کو الو بنایا اور قرضے پاکستان کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر چلے گئے اور جبکہ ان دونوں ہارٹیوں کے لیڈروں کے اثاثے ساتویں آسمان کو چھونے لگے ۔۔۔۔

پھر اللہ کا کرنا ایسا ھوا تحریک انصاف جس پارٹی کو یہ دونوں پارٹیا ں اہمیت کے قابل نہیں سمجھتی تھیں اللہ پاک نے اس جماعت کو حکمرانی بخش دی اور جناب عمران خان صاحب کو اللہ پاک نے مسند اقتدا پر بٹھا دیا اور تب سے ان سابقہ حکمران پارٹیوں کی شامت آئی ھوئی ھے اعر انکو حکومت تب ملی جب ملک کا دیوالیہ نکل چکا تھا۔۔

آللہ کا کرنا ایسا ھوا ۔۔۔۔۔۔ الیکشن سے پہلے ہی میاں صاحب اور انکی صاحب زادی پانامہ لیک کیوجہ سے نا اہل ھوچکے تھے الیکشن کے بعد اب حکومت پی ٹی آئی کی ھے اور اب یہ گیم بڑے دلچسپ مرحلے میں داخل ھوچکی ھے ۔۔۔

نیبNAB جو ایک کمزور ادارہ سمجھا جاتا تھا اسکے سربراہ نے اس میں محنت اور ہمت کا بیج بویا اور مقدمات اور تفشیش کا سلسلہ موثر انداز میں شروع کیا اور بڑے بڑے حکومتی اور اپوزیشن ارکان کو اندر کردیا اب صورتحال یہ جو مقدمے مسلم لیگ نے شروع کیے تھے ان میں پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت اندر ھے اور پانامہ سے شروع ھونے والے مقدمات میں میاں صاحبان اندر ہیں ۔۔
مستقبل میں وزارت عظمی کے خواب دیکھنے والی شخصیات کے ابو جان جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں اور یہ باہر پیچ وتاب کھارہے ہیں کہنے کو اپوزیشن لیڈر میاں محمد شہباز شریف صاحب ہیں جبکہ ملاقاتوں کا سلسلہ مریم بی بی نے شروع کر رکھا ھے انکی حثیت ایک ایسے لیڈر کی ھے جسکو کسی قسم کی قانونی حثیت حاصل نہیں ۔۔رہی بات بلاول صاحب کی بظاہر وہ اپوزیشن کرتے نظر آتے ہیں لیکن کل کلاں انکا بھی کوئی پتہ نہیں ۔۔اب تیسری اہم ترین شخصیت میاں شہباز شریف صاحب کی ھے جو ابھی ضنانت پر ہیں وہ مشتاق چینی کی بوری میں پھنستے جاریے ہیں اور ابھی تو ماڈل ٹاون کے 14 شہیدوں کا مقدمہ بھی انکی راہ تک رھا ھے اور شنید ہے سابقہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے لیے بھی اڈیالہ جیل میں A کلاس تیار ھوچکی ھے ۔۔۔۔۔۔
جس قدر تیزی سے احتساب کا پہیہ چل رھا ھے آنے والے دنوں میں احتجاج کون کرے گا کوئی باہر رہے گا تو تب ناں۔۔۔۔
اپوزیشن وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی اور گیاراں جماعتیں صرف ایک نقطہ پہ اکٹھی ھو رہی ہیں حکومت گرا دی جاے کیوں بھئی وہ جی اس لیے اگر موجودہ حکومت رہی تو 80 فیصد لوگ کرپشن میں نا اہل ھوجایں گے اور آئندہ کے لیے بنے ھوئے سارے خواب چکنا چور ھو جایں گے ۔۔۔۔
دونوں شہزادے یعنی مریم بی بی اور بلاول ملک قوم کی خاطر سڑکوں کا رخ نہیں کررہے اور نہ کوئی عوامی فلاحی ایجنڈا ھے بس ابو بچاو تحریک ھے جسکو عوام کی ہماری دانست میں کوئی خاص پذیرائی حاصل ھوتی نظر نہیں آرہی ۔۔۔
رہی بات مولانا کی تو انکا بھی دامن کرپشن کے چھیدوں سے تارتار ھے انکو حکومتی پروٹوکول چھن جانے کا صدمہ بہت ھے لیکن انکی یہ انتقامی سوچ انہیں لے ڈوبے گی یہ سارے مل کر اپنی اپنی سیاہ کاریوں کا ماتم کرنے کو نکلیں گے کل کو کیا ھوگا وثوق کے ساتھ کچھ نہںں کہا جاسکتا۔۔۔۔۔
ھماری دانست میں احتجاج کا فائدہ بھی حکومت کو ہی جاے گا خواہ اسکی کوئی بھی صورت ھو۔۔

تبصرے

مشہور اشاعتیں