وکیل۔ اور غنڈہ گردی

وکیلوں کی غنـڈہ گردی

یوں تو ملک خدادا پاکستان نت نئے بحرانوں کا شکار ھوتا رہتا ھے کبھی ٹماٹر غائب کبھی چینی غائب اور کبھی چینی شہری غائب ۔۔۔
کرپشن کا شور چار سو پھیلا ھوا کبھی پانامہ لیک کبھی  کبھی ڈان لیک کبھی وکی لیک اور کبھی میمو گیٹ ،۔۔

 اللہ پاک نے جہاں پاکستان کو چار موسم دیے وھاں مسائل بھی بیشمار دے دیے ، اور ساتھ ہی بھانت بھانت کے لوگ اور سیاستدان دے  دیے۔۔۔۔
جب سے پی ٹی آئی کی سیاست میں انٹری پڑی ھے ملک میں ایک فساد اور محاذ آرائی کی کیفیت پیدا ھو گئی ھے۔۔۔

 دیرینہ سیاستدانوں کو نہ تو عمران خان ہضم ھو رھا ھے اور نہ انکی حکومت روز کوئی نہ کوئی تماشہ کھڑا کیا ھوتا ھے جب بھی کسی فساد کی  چھان بین کی گئی پس پردہ سیاسی مافیا ہی نکلا ۔۔۔

11 دسمبر کو جو پی آئی سی پر حملہ کیا گیا  وہ ایک سوچا سسمجھا منصوبہ تھا۔۔۔
اگر اسے ہم موجودہ لندن پلین کہ لیں تو غلط نہ ھوگا ۔۔۔۔۔

جتنے فسادی  اسوقت زیر حراست ہیں انکی سابق اور موجودہ نون لیگ کے سیاستدانوں کے ساتھ تصاویر  بھی منظر عام پر سامنے آچکی ہیں ۔۔۔

خواجہ آصف نے کہا تھا کوئی شرم ھوتی ھے کوئی حیاء ھوتی ھے،،،، قوم پوچھتی ھے اس بے شرمی کے پیچھے کون لوگ ہیں اور کن کا ھاتھ ھے۔۔۔۔

 عمران خان سے تو آپ کا سیاسی بئیر اور بغض ھوگا کیونکہ اسکی وجہ سے ان لوگوں کے مستقبل کی امیدوں پر  پانی پھیر گیا یہ اللہ کی قررت ھے  ۔۔۔
ہم وکلا برادری سے سوال کرتی ہیں بلکہ پوری قوم سوال کرتی ھے ؟؟؟؟؟؟؟؟
دل کے مریضوں کے ساتھ  آپ کی  کیا دشمنی تھی  سارے مریض ڈاکٹر عرفان کے رشتے دار تو نہیں تھے۔۔۔
جو آپ لوگوں نے کیا  یہ دہشت گردی نہیں تو کیا ھے ،،،،
  ہم  انکو بدعا دیتے ہیں جنکی غنڈہ گردی سے اس ہسپتال میں جو مریض اپنی جانوں کی بازی ھار گے۔۔

اللہ کرے انکو بھی ایسی ہی بیمارہوں کا سامنا کرنا پڑے رسوائیاں اور محرومیاں انکا مقدر ہوں انکی جھوٹ کی کمائی سے خریدی ھوئی گاڑیوں کو بھی آگ لگے ۔۔۔۔

کچھ تصاویر جو دیکھ کر دل کو بہت دکھ ھوا اس ماں کے بیٹے کی تھی جس کو بالوں سے گھسیٹ کر مارا ،،،،،
جو اپنی بیمار ماں کے ساتھ ہسپتال آیا تھا ایک مریض  کا بھائی تھا یا بیٹا اسکا سر پھاڑ دیا لعنت ھے تمہاری ےتعلیم اور تربیت کرنے والوں پر۔۔۔۔

اگر تم نے یہ  اپنی  بدمعاشی اپنی مرضی سے کی ھے تببلونتوں کے حقدار ھو اور اگر اس کے  پیچھے سیاستدانوں کا ھاتھ ھے تو وہ لعنتوں کے حقدار ہیں ،،،،

 مرد تو مرد تھے خواتین وکلا  بھی کسی سے پیچھے نہ رہیں حیران کن بات ھے ان سب سرکردہ  غنڈوں کی نون لیگ کی ہی  لیڈر شپ کے ساتھ  قربت جو  تصاویر کی صورت میں سامنے آئی ہیں ،،،،

خان صاحب کے بھانجھے  حسان یا حسن کے نام کا بڑھا چرچا ھو رھا ھے۔۔۔  بھانجھے کا نام اور اسکی تصویر کو سیاست کی غلاظت کے طور پر استعمال کیا جا رھا ھے ۔۔لیکن یہ نہیں بتایا جا رھا کہ موصوف کے والد حفیظ اللہ نیازی ہیں ،،،،جنکی زبان میاں صاحبان کے لیے تعریفیں کرتے تھکتی نہیں  اور موصوف کوئی بھی  ایسا موقع ھاتھ سے نہیں جانے دیتے جس میں عمران خان کی تضحیک کا پہلو نکلتا ھو۔۔۔۔

ہم با اختیار اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ انکو سخت سے سخت سزایں دیں ورنہ یہ آگ ملک میں اسقدر پھیل جاے گی کہ اس کا مداوا ممکن نہیں ھوگا۔۔۔۔

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل تحریر: بشرہ نواز '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' اگرچہ خواتین معاشرےکی معاشی ترقی کے لیے حیات افزا کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کے اس کردار کو شاذونادر ہی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خواتین عام طور پرگھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں اور ملازمت کا انتخاب خواہش کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت کی بنیاد پر کرتی ہیں ۔وہ اپنے خاندان اور گھر کی ذمہ داریوں کے لیے ناکافی وقت دینے پر اپنے آپ کو قصووار تصور کرتی ہیں۔اس دہری ذمہ داری کے سبب ان پر دوگنا بوجھ پڑتا ہے اور نتیجتا ً اانہیں بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے ۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ابھی تک پاکستانی معاشرے نے مکمل طور پر ملازمت پیشہ خاتون کے تصور کو قبول نہیں کیاہے۔ شادی شدہ خواتین کی یہ بھی مشکل ہے کہ سسرال میں کہا جاتا ہے کہ اگرملازمت کرے گی توگھر کون سنبھالے گا؟ خاندان والے کیا سوچیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود ایسی خواتین سب کو وقت دینے اور خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ انھیں ساری دنیا کو باور کرانا ہوتا ہے کہ اپنی ملازمت کے ساتھ وہ گھر، بچے، فیملی اور باقی تمام معاملات خوش اسلوبی سے نبھا رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کو چکی کے دو باٹ کہا جا تا ہے۔۔ جس طرح خواتین زندگی کی گاڑی چلانے میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اسی طرح مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ گھریلو امور میں ان کا ہاتھ بٹایا کریں۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرد عورت کا ہاتھ بٹانے میں اپنی توہین سمجھتا ہے اور ہمارے معاشرے میں کچھ جگہوں پر مرد کا گھر کےکام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹانے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ترقی کی اس جدوجہد میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ اب عورت اس بات پر قناعت نہیں کرسکتی کہ صرف مرد ہی کما کر لائے اورخاندان کی ضروریات پوری کرے۔ آج کی عورت یہ سمجھتی ہے کہ اسے بھی مرد کی طرح آزادی اور مساوات کے اظہار کے لیے ذاتی سرمایہ اور ملکیت چاہیے۔ اس لیے اب دنیا کے ہر ملک میں خواتین کے لیے گھر سے باہر ملازمت کرنا ایک ضرورت بن چکی ہے جس کا ماضی میں تصور بھی ممکن نہ تھا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں جن میں بڑی تعداد میں خواتین میڈیکل،ٹیچنگ، بینکنگ، ٹیلیفون آپریٹر، نرسنگ، گارمنٹس، صحافت، شوشل میڈیا، ، وکالت ، تدریس ، طب ، بزنس ، مارکیٹنگ ، شو بز انجینئرنگ ،اکاونٹنس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر اہنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں شعبہ ابلاغ عامہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز میں اپنے فرائض انجام دے رہی یں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہیں ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو بری الزمہ سمجھتی ہے جو انتہائی احمقانہ سوچ ہے اور یہ سوچ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مرد عورت پر اپنا تسلط چاہتا ہے ۔ اپنے گھر اور خاندان کے حوالے سے آپ کو خود ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور جب آپ اپنے خاندان کے بہترین مفاد میں کوئی فیصلہ کر لیں تو پھر آپ کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آپ کا یہ فیصلہ کچھ دیگر لوگوں سے مختلف کیوں ہے۔ کیونکہ ہر گھر اور خاندان کی ضروریات، حالات، وسائل مختلف ہوتے ہیں ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اسی طرح آپ کا کوئی فیصلہ آپ کے خاندان کے بہترین مفاد میں ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر گھر اور خاندان کے لیے قابلِ عمل ہو۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے کچھ جاہل لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ جہاں ملازمت پیشہ خواتین کو آزاد خیال اور گھر والوں کو ہر معاملے میں اپنا رعب داب رکھنے والی عورت تصور کیا جاتا ھے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں اپنے گھر والوں بچوں کیللے جدوجہد یہی ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔ یہ خواتین بھرپور طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتی ہیں، کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے نبھاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورتیں اپنا معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاہ رہی ہیں، اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنے بچوں اور خاندان کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔ جس طرح علم حاصل کرنا ہر عورت کا حق ہے ، اسی طرح اپنا مستقبل بنانا بھی ہر عورت کا حق ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ملازم پیشہ خواتین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں معاشرے کی گھریلو مشکلات ، پسماندہ سوچ ، صنفی امتیاز ، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور جنسی ہراسانی wo mxklat oiN jw سرفہرست ہیں۔ خواتین کو معاشرے میں مساوی سیاسی ، معاشی و سماجی حقوق دینے والے بالشویک انقلاب کے لیڈر ولادیمیر لینن نے کہا کہ ہماری خواتین شاندار طبقاتی جنگجو ہوتی ہیں ۔ محنت کشوں کی کوئی بھی تحریک خواتین کی شعوری مداخلت کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی ۔ روسی انقلاب ہو یا اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی سعودی عرب یا ایران کی خواتین ، بحرین میں ریاستی جارحیت کے خلاف احتجاج یا ترکی میں جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازش کا راستہ روکنے کی تحریک ، ہر موقع پر خواتین ایک بڑی طاقت کی صورت میں سامنے آئی ہیں اور اپنا کردار ادا ادا کیا ہے۔۔