ہماری صحت اور دانت

ہمارے پیارے نبی ؐ کا فرمان ہے صفائی نصف ایمان ہے
صفائی کی بات آئے تو جسم کے ہر حصے کی صفائی بہت ضروری ہے جسم کے حصوں میں ہمارے دانت سب سے ضروری ہیں دانت ہماری شخصیت کے آئینہ دار ہوتے دانت اگر چمکدار اور بے داغ ہوں تو ملنے والے شخص پر ہماری شخصیت کا ایک اچھا تاثر پڑتا ہے
دانتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے اگر دانت سلامت ہیں تو صحت سلامت ہے دانتوں کا مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ چمکدار ہونا بھی ضروری ہے
دانت صرف کیمیائی توتھ پیسٹس سے ہی چمکدار نہیں ہو سکتے بلکہ دانتوں کی صحت کا سامان ہماری روزمرہ کی غذا میں موجود ہے جیسے کہ پھل جن میں سیب سٹرابیری  سیب   میں میلک ایسڈ پایا جاتا ہے یہ ایسڈ ہی ہمارے دانت قدرتی طور پر چمکاتا ہے سٹرابیری بھی سیب کی طرح ایک لذیز پھل ہے اس میں بھی میلک ایسڈ موجود ہے اس میں ایک اور ایلا جیٹا نینس نامی ایسڈ بھی پایا جاتا ہے جو ہمارے منہ میں سوزش اور زخم پیدا کر نے والے جراثیم کو ختم کرتا ہے اس میں شامل وٹامن سی ہمارے مسوروں کی سوجن دور کرنے کے لیے مفید ہے پانی اللہ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک ضروری نعمت ہے زیادہ پانی پینے سے دانت تیزابی اور غذائی ذروں سے محفوظ رہتے ہیں اسی لیے تاکید کی جاتی ہے کہ ہر کھانے کے بعد کلی کریں دانت صاف کرنے کے لیے مسواک بھی بہترین ہے ڈاکٹر کہتے ہیں ہمارے منہ میں جراثیم کی سات سو سے زیادہ اقسام نے ٹھکانا بنا رکھا ہے اگر دانت میں سوراخ ہو جائے تو وہاں بھی جراثیم اپنا ٹھکانا بنا لیتے ہیں  جراثیم مسوروں کو بھی کمزور کر دیتے ہیں اس کا یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ دانت نکلوانے پڑتے  ہیں کچھ لوگ اپنے دانتوں سے بہت لاپروائی برتتے ہیں  اس لاپروائی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کی دانتوں پر زرد رنگ کی تہ جم جاتی ہےیہ تہ بھی جراثیم کے چمٹنے سے بنتی ہے اسے plaque کہا جاتا ہے پلاک پیدا ہونے کی وجہ ہی یہی ہے کہ ہم کھانا کھانے کے بعد دانت صاف نہیں کرتے دانتوں پر پلاک کا ہونا خطرناک عمل ہے وجہ یہ ہے کہ جب غذائی ذرات پر جراثیم اپنا ٹھکانا بنالیں تو وہ جراثیم تیزاب بناتے ہیں تو اس تیزاب سے دانتوں کے ٹوٹ پھوٹ کے عمل کاآغاز ہوتا ہے انسان اگر باقائدگی سے اپنے دانتوں کی صفائی کی جائے تو یہ تحفہ خداوندی عمر بھر اس کا ساتھ دے سکتا ہے دانت تندرست رکھنے کے لیے کچھ مشوروں پر عمل کیجیے
فاسٹ فوڈ اور بازاری مشروبات سے پرہیز کیجیے چینی یا شکر کم استعمال کریں
دن کم از کم دو بار برش کریں
کچھ کھانے کے بعد کلی کریں
گاجر مولی کھیرا دانت مضبوط کرنے والی غذائیں ہیں انہیں اپنی زندگی میں شامل کریں
ایک ہی برانڈ کی ٹوتھ پیسٹ استعمال نا کریں ۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپکے دانت آخر تک آپکا ساتھ دیں تو ان کی حفاظت کریں
  .  .  (خوش رہیں خوشیاں بانٹیں)

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل تحریر: بشرہ نواز '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' اگرچہ خواتین معاشرےکی معاشی ترقی کے لیے حیات افزا کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کے اس کردار کو شاذونادر ہی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خواتین عام طور پرگھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں اور ملازمت کا انتخاب خواہش کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت کی بنیاد پر کرتی ہیں ۔وہ اپنے خاندان اور گھر کی ذمہ داریوں کے لیے ناکافی وقت دینے پر اپنے آپ کو قصووار تصور کرتی ہیں۔اس دہری ذمہ داری کے سبب ان پر دوگنا بوجھ پڑتا ہے اور نتیجتا ً اانہیں بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے ۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ابھی تک پاکستانی معاشرے نے مکمل طور پر ملازمت پیشہ خاتون کے تصور کو قبول نہیں کیاہے۔ شادی شدہ خواتین کی یہ بھی مشکل ہے کہ سسرال میں کہا جاتا ہے کہ اگرملازمت کرے گی توگھر کون سنبھالے گا؟ خاندان والے کیا سوچیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود ایسی خواتین سب کو وقت دینے اور خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ انھیں ساری دنیا کو باور کرانا ہوتا ہے کہ اپنی ملازمت کے ساتھ وہ گھر، بچے، فیملی اور باقی تمام معاملات خوش اسلوبی سے نبھا رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کو چکی کے دو باٹ کہا جا تا ہے۔۔ جس طرح خواتین زندگی کی گاڑی چلانے میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اسی طرح مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ گھریلو امور میں ان کا ہاتھ بٹایا کریں۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرد عورت کا ہاتھ بٹانے میں اپنی توہین سمجھتا ہے اور ہمارے معاشرے میں کچھ جگہوں پر مرد کا گھر کےکام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹانے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ترقی کی اس جدوجہد میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ اب عورت اس بات پر قناعت نہیں کرسکتی کہ صرف مرد ہی کما کر لائے اورخاندان کی ضروریات پوری کرے۔ آج کی عورت یہ سمجھتی ہے کہ اسے بھی مرد کی طرح آزادی اور مساوات کے اظہار کے لیے ذاتی سرمایہ اور ملکیت چاہیے۔ اس لیے اب دنیا کے ہر ملک میں خواتین کے لیے گھر سے باہر ملازمت کرنا ایک ضرورت بن چکی ہے جس کا ماضی میں تصور بھی ممکن نہ تھا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں جن میں بڑی تعداد میں خواتین میڈیکل،ٹیچنگ، بینکنگ، ٹیلیفون آپریٹر، نرسنگ، گارمنٹس، صحافت، شوشل میڈیا، ، وکالت ، تدریس ، طب ، بزنس ، مارکیٹنگ ، شو بز انجینئرنگ ،اکاونٹنس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر اہنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں شعبہ ابلاغ عامہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز میں اپنے فرائض انجام دے رہی یں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہیں ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو بری الزمہ سمجھتی ہے جو انتہائی احمقانہ سوچ ہے اور یہ سوچ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مرد عورت پر اپنا تسلط چاہتا ہے ۔ اپنے گھر اور خاندان کے حوالے سے آپ کو خود ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور جب آپ اپنے خاندان کے بہترین مفاد میں کوئی فیصلہ کر لیں تو پھر آپ کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آپ کا یہ فیصلہ کچھ دیگر لوگوں سے مختلف کیوں ہے۔ کیونکہ ہر گھر اور خاندان کی ضروریات، حالات، وسائل مختلف ہوتے ہیں ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اسی طرح آپ کا کوئی فیصلہ آپ کے خاندان کے بہترین مفاد میں ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر گھر اور خاندان کے لیے قابلِ عمل ہو۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے کچھ جاہل لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ جہاں ملازمت پیشہ خواتین کو آزاد خیال اور گھر والوں کو ہر معاملے میں اپنا رعب داب رکھنے والی عورت تصور کیا جاتا ھے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں اپنے گھر والوں بچوں کیللے جدوجہد یہی ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔ یہ خواتین بھرپور طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتی ہیں، کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے نبھاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورتیں اپنا معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاہ رہی ہیں، اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنے بچوں اور خاندان کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔ جس طرح علم حاصل کرنا ہر عورت کا حق ہے ، اسی طرح اپنا مستقبل بنانا بھی ہر عورت کا حق ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ملازم پیشہ خواتین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں معاشرے کی گھریلو مشکلات ، پسماندہ سوچ ، صنفی امتیاز ، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور جنسی ہراسانی wo mxklat oiN jw سرفہرست ہیں۔ خواتین کو معاشرے میں مساوی سیاسی ، معاشی و سماجی حقوق دینے والے بالشویک انقلاب کے لیڈر ولادیمیر لینن نے کہا کہ ہماری خواتین شاندار طبقاتی جنگجو ہوتی ہیں ۔ محنت کشوں کی کوئی بھی تحریک خواتین کی شعوری مداخلت کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی ۔ روسی انقلاب ہو یا اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی سعودی عرب یا ایران کی خواتین ، بحرین میں ریاستی جارحیت کے خلاف احتجاج یا ترکی میں جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازش کا راستہ روکنے کی تحریک ، ہر موقع پر خواتین ایک بڑی طاقت کی صورت میں سامنے آئی ہیں اور اپنا کردار ادا ادا کیا ہے۔۔