بشری نواز ۔۔۔۔۔ ۔ ۔ غذا سے علاج

جب ہم بیمار ہوتے ہیں تو سب سے پہلے ہمارا دھیان ڈاکٹر اور دوا کی طرف جاتا ہے بعض دوائیں ایسی ہوتیں ہیں جن سے انسان فائدے کی بجائے نقصان سے دوچار ہوجاتا ہے کچھ دوائیں ایسی ہوتیں ہیں جن کے کھانے سے منہ پک جاتا ہے اور پیٹ خراب ہوجاتا ہے بعض اوقات کچھ دوائیوں سے جلد بھی متاثر ہوتی ہے کائنات بنانے والے مالک نے ہمارے لیے بہت ساری غذاوں میں بھی شفاء رکھی ہے جن میں پھل اور سبزیاں دونوں ہی شامل ہیں کچھ غذائیں دوا سے بھی زیادہ جلدی ہماری صحت کی بحالی میں مدد کرتی ہیں  آج کل فاسٹ فوڈ ہماری زندگی کا حصہ بن چکا ہے ہر کوئی اسے شوق سے کھاتا ہے اس میں شامل اجزاء ہمارے معدے میں گیس اور بھاری پن پیدا کر دیتا ہے اس کے ازالے کے لیے
ایک لیموں ایک گلاس پانی میں نچوڑ کر پینے سے سکون حاصل کیا جاسکتا ہےدہی بھی صحت کے لیے نہایت مفید ہے اس میں probiotic نامی جراثیم ہوتے ہیں جو ہمارے اندرونی نظام کو درست رکھتا ہے دہی کا استعمال دوائیوں کے سائیڈ افیکٹس سے محفوظ رکھتا ہے
دنیا بھر میں ڈپریشن کا مرض عام  ہو چکا ہے اس مرض سے بچا و  کے لیے لوگ ہزاروں روپے کی دوائیں استمعال۔ کرتے ہیں۔ لیکن کبھی اس سے بھی۔ فرق نہیں پڑتا ڈپریشن دور کرنے کے لیے بہترین مشروب  ہے coffee
کیا مرد کیا خوا تین۔ سب ہی بہترین اور چمکدار جلد پسند کرتے ہیں اگر جلد پھولی ہوئی محسوس ہو تو skin specialist  کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔ آپ کچھ عرصہ سبز چاۓ کا استمعال کریں بعض اوقات نیند نہیں آتی اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں اور نیند کا نا آنا ہی بہت سی بیماریوں کو جنم دیتا ہے اگر نیند کی دوا لینے لگیں تو یہ عادت بن جاتیں ہیں اور پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ دوا کھانے کے بغیر ہمیں نیند نہیں آتی اس کا حل ماہرین نے kiwi فروٹ کی شکل میں نکالا ہے اس پھل میں نیند  پیدا کرنے والےserotonen neuro transmeter  کی تعداد بڑھا دیتا ہے اور کیوی کھانے سے اچھی نیند  خاصل کی جاسکتی ہے آدھے سر کا درد جسے درد شقیقہ بھی کہا جاتا ہے ایک تکلیف دہ مرض ہے
ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ انسانی جسم میں میگنیشیئم کی کمی کی وجہ سے یہ مرض پیدا ہوتا ہے لہٰذا ایسی غذاوں کا استعمال کیا جائے جس میں میگنیشیئم زیادہ مقدار میں موجود ہو جیسے کہ پھلیاں یا خشک میوہ جات  ہیں ایک مسئلہ بڑھتی عمر کے ساتھ نظر کی خرابی کا بھی ہے جیسے جیسے عمر بڑھتی جاتی ہے نظر دھندلاتی جاتی ہے گوبھی ۔ پالک ۔  سلاد اور دیگر سبز پتوں والی غذائیں کھانے سے یہ عمل سست  یا ختم ہو جاتا ہے کمزور اعصاب کے مالک روزانہ ایک سیب چھلکے سمیت کھائیں سیب میں ursolic ایسڈ پایا جاتا ہے یہ اعصاب کی نشونما میں مدد دیتا ہے گلہ خراب ہو یا کھانسی اس کا علاج سنت نبویؐ میں موجود ہے شہد ہمارے نبی کریمؐ کی پسندیدہ غذا تھی شہد میں موجود جراثیم کش خصوصیات اسے بہترین اور فائدے مند غذا بنا دیتی ہے ایک پیالی نیم گرم پانی میں دو چمچ شہد ملا کر پینے سے کھانسی جیسے ظالم مرض سے نجات مل سکتی ہے کچی سبزیاں جیسے مولی گاجر چقندر پیاز ٹماٹر کھیرا ان کی سلاد بنا کر کھانے سے نظام ہضم ٹھیک ریتا ہے اور کسی دوا کی ضرورت نہیں رہتی اگر معدے کی خرابی کی وجہ سے منہ میں چھالے ہوجائیں تو کوئی بھی دوائی کھانے کی بجائے دو چار بار تربوز کھانے سے منہ کے چھالےختم ہو جاتے ہیں
بعض دفعہ تھکاوٹ سے یا کوئی وزنی کام کرنے سے جسم میں کھچاو پیدا ہو جاتا جس کی وجہ سے اٹھنا بیٹھنا دوبھر ہو جاتا ہے ایسے میں ادرک کا استعمال جسم کے پٹھے نرم کرنے میں مدد دیتا ہے اس کی چائے بنا کر پیئں یا اس کو بھون کر سالن کی شکل میں کھائیں کھانے سے جلدی آرام محسوس ہوگا ادرک میں شامل gingereols انسانی جسم میں سوزش کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے
جب انسانی جسم میں پروٹین اور کولاجن کم ہوجائے تو جلد سخت ہو جاتی ہے  اور پھر اس پر جھریاں پڑنے لگتی ہیں وٹامن سی ہی کولاجن پیدا کرتا ہے ہمیں اپنی جلد کی بہتری کے لیے وٹامن سی سے بھرپور غذائیں استعمال کرنی چاہیے جیسے کنو ۔ مالٹا ۔ امرود۔  لیموں ۔ شکرقندی۔  لیچی وغیرہ ان میں وٹامن سی کافی مقدار میں موجود ہوتا ہے
اپنی روزمرہ کی زندگی میں ان چیزوں کو اہمیت دیں تاکہ ہم کم سےکم   بیمار ہوں اپنی زندگی میں علاج بالغذا کو اہمیت دیں
(اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو)

تبصرے

  1. آسان طریقہ علاج یہ سب چیزیں گھر میں آسانی سے دستیاب ہو جاتی ہیں علاج گھر میں۔ آسانی کے ساتھ بہت خوب جی

    جواب دیںحذف کریں
  2. آسان طریقہ علاج یہ سب چیزیں گھر میں آسانی سے دستیاب ہو جاتی ہیں علاج گھر میں۔ آسانی کے ساتھ بہت خوب جی

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل تحریر: بشرہ نواز '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' اگرچہ خواتین معاشرےکی معاشی ترقی کے لیے حیات افزا کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کے اس کردار کو شاذونادر ہی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خواتین عام طور پرگھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں اور ملازمت کا انتخاب خواہش کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت کی بنیاد پر کرتی ہیں ۔وہ اپنے خاندان اور گھر کی ذمہ داریوں کے لیے ناکافی وقت دینے پر اپنے آپ کو قصووار تصور کرتی ہیں۔اس دہری ذمہ داری کے سبب ان پر دوگنا بوجھ پڑتا ہے اور نتیجتا ً اانہیں بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے ۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ابھی تک پاکستانی معاشرے نے مکمل طور پر ملازمت پیشہ خاتون کے تصور کو قبول نہیں کیاہے۔ شادی شدہ خواتین کی یہ بھی مشکل ہے کہ سسرال میں کہا جاتا ہے کہ اگرملازمت کرے گی توگھر کون سنبھالے گا؟ خاندان والے کیا سوچیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود ایسی خواتین سب کو وقت دینے اور خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ انھیں ساری دنیا کو باور کرانا ہوتا ہے کہ اپنی ملازمت کے ساتھ وہ گھر، بچے، فیملی اور باقی تمام معاملات خوش اسلوبی سے نبھا رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کو چکی کے دو باٹ کہا جا تا ہے۔۔ جس طرح خواتین زندگی کی گاڑی چلانے میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اسی طرح مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ گھریلو امور میں ان کا ہاتھ بٹایا کریں۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرد عورت کا ہاتھ بٹانے میں اپنی توہین سمجھتا ہے اور ہمارے معاشرے میں کچھ جگہوں پر مرد کا گھر کےکام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹانے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ترقی کی اس جدوجہد میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ اب عورت اس بات پر قناعت نہیں کرسکتی کہ صرف مرد ہی کما کر لائے اورخاندان کی ضروریات پوری کرے۔ آج کی عورت یہ سمجھتی ہے کہ اسے بھی مرد کی طرح آزادی اور مساوات کے اظہار کے لیے ذاتی سرمایہ اور ملکیت چاہیے۔ اس لیے اب دنیا کے ہر ملک میں خواتین کے لیے گھر سے باہر ملازمت کرنا ایک ضرورت بن چکی ہے جس کا ماضی میں تصور بھی ممکن نہ تھا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں جن میں بڑی تعداد میں خواتین میڈیکل،ٹیچنگ، بینکنگ، ٹیلیفون آپریٹر، نرسنگ، گارمنٹس، صحافت، شوشل میڈیا، ، وکالت ، تدریس ، طب ، بزنس ، مارکیٹنگ ، شو بز انجینئرنگ ،اکاونٹنس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر اہنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں شعبہ ابلاغ عامہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز میں اپنے فرائض انجام دے رہی یں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہیں ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو بری الزمہ سمجھتی ہے جو انتہائی احمقانہ سوچ ہے اور یہ سوچ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مرد عورت پر اپنا تسلط چاہتا ہے ۔ اپنے گھر اور خاندان کے حوالے سے آپ کو خود ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور جب آپ اپنے خاندان کے بہترین مفاد میں کوئی فیصلہ کر لیں تو پھر آپ کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آپ کا یہ فیصلہ کچھ دیگر لوگوں سے مختلف کیوں ہے۔ کیونکہ ہر گھر اور خاندان کی ضروریات، حالات، وسائل مختلف ہوتے ہیں ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اسی طرح آپ کا کوئی فیصلہ آپ کے خاندان کے بہترین مفاد میں ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر گھر اور خاندان کے لیے قابلِ عمل ہو۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے کچھ جاہل لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ جہاں ملازمت پیشہ خواتین کو آزاد خیال اور گھر والوں کو ہر معاملے میں اپنا رعب داب رکھنے والی عورت تصور کیا جاتا ھے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں اپنے گھر والوں بچوں کیللے جدوجہد یہی ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔ یہ خواتین بھرپور طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتی ہیں، کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے نبھاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورتیں اپنا معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاہ رہی ہیں، اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنے بچوں اور خاندان کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔ جس طرح علم حاصل کرنا ہر عورت کا حق ہے ، اسی طرح اپنا مستقبل بنانا بھی ہر عورت کا حق ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ملازم پیشہ خواتین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں معاشرے کی گھریلو مشکلات ، پسماندہ سوچ ، صنفی امتیاز ، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور جنسی ہراسانی wo mxklat oiN jw سرفہرست ہیں۔ خواتین کو معاشرے میں مساوی سیاسی ، معاشی و سماجی حقوق دینے والے بالشویک انقلاب کے لیڈر ولادیمیر لینن نے کہا کہ ہماری خواتین شاندار طبقاتی جنگجو ہوتی ہیں ۔ محنت کشوں کی کوئی بھی تحریک خواتین کی شعوری مداخلت کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی ۔ روسی انقلاب ہو یا اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی سعودی عرب یا ایران کی خواتین ، بحرین میں ریاستی جارحیت کے خلاف احتجاج یا ترکی میں جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازش کا راستہ روکنے کی تحریک ، ہر موقع پر خواتین ایک بڑی طاقت کی صورت میں سامنے آئی ہیں اور اپنا کردار ادا ادا کیا ہے۔۔