بلڈ پریشر


بلڈ پریشر عصر حاضر کا ایک عام مرض بن چکا ہے اس کو آسان لفظوں میں خاموش قاتل کہا جاتا ہے انگریزی میں اسے . blood pressure اور اردو میں اسے فشار خون کہا جاتا ہے تقریبا ۵٢ فیصد پاکستانی آبادی فشار خون کا شکار ہیں اور ۴٢ فیصد کو معلوم ہی نہیں کہ وہ اس مرض میں مبتلا ہیں اس بیماری کی بظاہر کوئی علامت نظر نہیں آتی جس سے پتہ چل سکے یہ اسی وقت محسوس ہوتا ہے جب صحت کو کافی نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے بلڈپریشر ایسی بیماری ہے جو دیگر کئی خطرناک امراض کو پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے جس میں دل کے دورے فالج کا سبب گردوں کا فیل ہونا اور نظر بند ہونا شامل ہیں مگر عوام کو اس مرض کے بارے میں آگاہی حاصل نہیں تعلیم اور شعور کی کمی کے باعث زیادہ تر لوگ صحت کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتے ہائی بلڈپریشر دل پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے دل ہمارے جسم میں ایک پمپ کی مانند ہے جس کے ساتھ کئی نالیاں جڑی ہوئی ہیں اور ان نالیوں میں تقریبا ۴/۵ لیٹر خون گردش کرتا ہے اسی عمل کو (یعنی خون کی گردش کو) برقرار رکھنے کے لیے نظام دوران خون میں دباو کا ہونا ضروری ہے اور یہی دباو بلڈ پریشر کہلاتا ہے ١٢٠/٨٠ یا اس سے کم بلڈپریشر معمول کا ہوتا ہے لیکن یہ اگر اسے جب بڑھ جائے تو پھر علاج کی ضروت ہوتی ہے امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے حوالے سے نئی گائیڈ لائن جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر کسی انسان کا بلڈپریشر ١٢٩/ ٧٩ سے زیادہ ہے تو یہ بھی ہائی بلڈپریشر سمجھا جائے اگر ١۴٠/ ٩٠ سے کم ہے تو اسے بلڈپریشر کی پہلی سیڑھی سمجھا جائے اس بیماری کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں یہ کسی بھی عمر میں سامنے آسکتا ہے پھر بھی کچھ ایسی علامات سامنے آجاتی ہیں جن کو محسوس کرنے کے بعد چیک اپ ضروری ہے چالیس سال کے بعد اس بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے لہٰذا چیک کروا لینا ہی بہتر ہے کچھ مرض خاندانی ہوتے ہیں تو انسان کبھی بھی اس مرض کی لپیٹ میں آسکتا ہے اس مرض کی ایسی کوئی خاص وجہ بھی نہیں ہوتی معمولی ٹینشن اور سٹریس کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے یہ عمر بڑھنے کے ساتھ لاحق ہوتاہے وجہ یہ ہے کہ عمر میں اضافے کے ساتھ ساتھ جسم میں خون والی رگیں سخت اور تنگ ہو جاتی ہیں اور خون پوری طرح گردش نہیں کر پاتا تو بلڈپریشر کہ تکلیف ظاہر ہو جاتی ہے بلڈ پریشر ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا جب ہم چل رہے ہوں یا بھاگ دوڑ کا کوئی کام کر رہے ہوں جس میں زور لگ رہا ہو تو اس وقت دل کر دھڑکن کی وجہ سے بلڈپریشر بڑھ جاتا ہے نیند یا آرام کی حالت میں کم ہوجاتا ہے بہت سے لوگ اس بیماری سے بے خبر ہوتے ہیں دیکھنے میں وہ صحت مند نظر آتے ہیں کبھی بھی شدید صورت میں بلڈپریشر کی علامات ظاہر ہوتی ہے ان علامات میں ناک سے خون آنا ۔ سر درد ۔ نیند کا نا آنا ؛ ذہنی پریشانی اور سانس کے مسائل شامل ہیں پھر بھی ان مسائل پر توجہ نا دی جائے تو دل کے دورے اور اسٹروک کے امکانات بڑھ جاتے ہیں دل کے دورے کے علاوہ گردوں کا فیل ہونا اور فالج کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے لیکن اگر مسلسل دوا لے رہے تو بار بار چیک کروانے کی بھی ضرورت نہیں دو چار ماہ کے بعد معمول کے مطابق ہیلتھ چیک اپ کروایا جا سکتا ہے دوا کے ساتھ کچھ احتیاطی تدابیر بھی ضروری ہیں جن میں چہل قدمی اور خود کو متحرک رکھنا ضروری ہے اگر کھانے میں نمک بہت کم رکھا جائے تو اس مرض کو کنٹرول میں رکھا جا سکتا ہے کیلا ۔ مالٹے ۔ خربوزے خشک آلو بخارے۔ لوبیا ۔ ایک گلاس روزانہ دودھ بھی بلیڈپریشر کو نارمل رکھنے میں مدد دیتا ہے سگریٹ نوش سگریٹ سے پرہیز کریں چاکلیٹ بھی بلڈپریشر کو بارمل رکھنے میں مدد دیتی ہے اگر وزن زیادہ ہے تو کم کرنے کی کوشش کریں چکنائی والی غذاوں سے اجتناب کریں احتیاط کے ساتھ خوبصورت زندگی گزاریں (اللہ ہن سب کا حامی و ناصر ہو )

تبصرے

  1. بہترین معلو ماتی تحریر ہے ان ہدایات پی عمل کر کے اس جان لیوا تکلیف سے بچا جا سکتا ہے

    جواب دیںحذف کریں
  2. بہترین معلو ماتی تحریر ہے ان ہدایات پی عمل کر کے اس جان لیوا تکلیف سے بچا جا سکتا ہے

    جواب دیںحذف کریں
  3. بہترین۔ معلوماتی تحریر ہے ان ہدایات پی عمل کر کے اس جان لیوا تکلیف سے بچا جا سکتا ہے

    جواب دیںحذف کریں
  4. بہترین۔ معلوماتی تحریر ہے ان ہدایات پی عمل کر کے اس جان لیوا تکلیف سے بچا جا سکتا ہے

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں