نکاح اور اسلامی معاشرہ
نکاح انسانی زندگی کے لیے
بڑی اہمیت رکھتا ہے نکاح ہر صحت مند مرد و زن کی ضرورت اور فطری تقاضا بھی ہے اور اللہ کے بنا ے ہوئے قانون فطرت پے عمل کرنے سے ہی ایک بہترین معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے لیکن جہاں ہم فطرت سے دور ہوتے ہیں۔ وہاں بے شمار حرام اور غیر فطری طریقے پیدا کر لیے جاتے ہیں۔ اوران ہی غیر فطری طریقوں سے جان لیوا بیمار یو ں کا شکار ہو کر اپنی جان سے یا صحت سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
اسی لیے نکا ح کی خاص اہمیت ہے دیکھا جاۓ تو نکاح ایک فطری اور بنیادی ضرورت بھی ہے اسی لیے بار بار اس کی تاکید کی گئی ہے حکم۔ یہ ہی ہے کہ جب اولاد بیٹی یا بیٹا شر عی طور پے بالغ ہو جایں تو وہ نکاح کے قابل ہیں۔ لیکن لوگ کم عمر ی میں بچے یا بچی۔ کی شادی۔ کو اہمیت نہیں دیتے اگر کوئ رشتہ آ بھی جاۓ تو خاص طور پے بچی کی پڑھائی کا بہا نہ بنا کے ٹال دیا جاتا ہے کچھ لوگوں نے اپنی سوچ بہت اونچی کر لی ہے ان کو اگر بہو چاہے تو اس کے لیے بھی۔ ایک معیار ہے گورا رنگ پتلی لمبی۔ زیادہ جہیز کا لالچ اور اگر داماد کی تلاش تو اس کو بزنس میں ہونا چاہے گھر گاڑ ی ہونے کے ساتھ خوبصورت بھی ہو یہ سب باتیں لوگوں کو مشکل میں ڈ ال رہی ہیں۔ اگر اللہ پے بھروسہ کر کے اپنی سوچ کو تھوڑا کم کر لیں۔ تو (ترچمہ) اگر وہ تنگ دست ہوں گے تو اللہ اپنے فضل۔ سے غنی کر دے گا
عام طور لوگ یہ سمجھتے ہیں۔ کہ اسلام۔ ہمیں پسند کی شادی کا حق نہیں دیتا،ایسا نہیں۔ ہے شریعت پسند کی شادی۔ کی اجازت دیتی ہے لیکن ہمارا سما جی نظا . م۔ ایسا ہے کہ ہم اس بات کو قبول۔ نہیں کرتے اور بطور والدین۔ اپنی۔ مرضی کرتے ہیں۔ رب اس بات کی اجازت دیتا ہے (ترجمہ) جو تمہیں۔ پسند ہو اس سے نکاح ۔کرو۔ نکاح ان عورتوں سے کرو۔ جو۔ تمہیں اچھی۔ لگتی ہوں (آنسا ء۴'٣) یہ اچھا لگنا مرد ار عورت دونوں کے لیے ہے لیکن عورت کے لیے شرط لازم ہے کہ وہ والدین۔ یا والدین نہ ہونے کی صورت میں ولی کی اجازت سے نکاح کرے
اگر کسی۔ خاتون کا شوھر یا مرد کی بیوی انتقال۔ کر جاۓ تو۔ ان کے بارے میں بھی حکم۔ ہے کہ ان کے بھی نکاح کئے جایں لیکن اگر کوئی نکاح کا ارادہ بھی۔ کرے تو۔ ہمارا معاشرہ دس باتیں۔ بناتا ہے پھر ایک ہی۔ بات کہی جاتی ہے اب بھلا کیا ضرورت تھی اب اس عمر میں اللہ کو یاد کریں۔ پوتے پوتیوں کو کھلا یں اپنا دھیان گھر میں۔ لگا یں۔ مشاہدہ ہے اگر کسی والد یا وا لدہ نے کوشش کی بھی تو اولاد رکاوٹ بن بیٹھی۔۔کتنے ہی لوگ ہیں جو لوگوں کے ڈر سے اللہ کے حکم سے انکار کر کے بیٹھے ہیں اللہ کا ہی حکم ہے اپنے ارد گرد دھیان رکھو اگر کوئی نکاح کے بغیر ہے تو اس کا نکا ح کرواؤ اور جو رکاوٹیں ہیں۔ ان کودور کریں۔ معاشرے میں کوئی بے نکاح نہ رہے اور یہ ہی مسلم معاشرے کی پاکیزگی کا اہم ستون ہے
عام طور پے لوگ سمجھتے ہیں۔ کہ رشتے میں۔ پہل صرف لڑکے والے کر سکتے ہیں۔ لڑکی والوں کو کوئی حق نہیں کہ وہ خود کہیں۔ رشتے کا پیغام بھج سکیں۔ اگر ہم اپنے دین کی طرف دیکھیں۔ تو ہمارے پیارے نبی۔ کو امی خد۔ؓیجہ نے خود نکاح کا پیغام بھیجا تھا اور سب ہی جانتے ہے حضرت موسیٰ جب مدین پہنچے تو جن دو لڑکیوں کو انہوں۔ نے پانی بھر کے دیا ان کے والد حضرت شعییبؑ . نے ان کو اپنے گھر بلا کے اپنی بیٹی کے ساتھ نکا ح کا پیغام۔ دیا تھا ، دین سے دوری نے ہمارے معاشرے کو ہر جگہ خوار کر دیا
ہمیں۔ اپنے دین۔ سے رہنما اصول سیکھنے چا ہیں رشتوں کے معاملے میں۔ لوگوں۔ کے اپنے معیار ہیں۔ لیکن اللہ کامعیار حیا ہے اللہ حیا کو پسند کر تا ہے وہ یہ ہی صفت انسانوں میں بھی دیکھنا چاہتا ہے مگر ان باتوں کو اب اہمیت نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے لوگ غیر مسلم سے بھی شادی کر لیتے ہیں۔ یوں۔ معاشرے میں ایک نئی خرابی پیدا ہوتی ہے
نکا ح ایک عہد ہے اور جب یہ عہد طے پا جاۓ تو ایک مسلمان خوا وہ مرد ہو یا عورت اس پے فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اس عہد کو نبها ے اور ہمیں بھی۔ چاہے نکاح کو آسان۔ بنانے کی۔ کوشش کریں۔ خود کو دین پے چلانے کی کوشش کریں۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو


بہترین موضوع پی ایک جا مع تحریر بشری نواز صاحبہ ہمیشہ اچھے موضوع کا انتخاب کرتی ہیں۔
جواب دیںحذف کریںبہترین موضوع پی ایک جا مع تحریر بشری نواز صاحبہ ہمیشہ اچھے موضوع کا انتخاب کرتی ہیں۔
جواب دیںحذف کریں