لکھنے والے روز ہی۔ عشق محبت پے تحریریں لکھتے ہیں۔ آج سوچا کچھ ہم بھی لکھیں  ۔۔۔
اب پہلا لفظ ھے پیار جو واقعی پیارا اور ہر دل عزیز ھے جو مشترکہ طور پر بلا جھجک فیملی کے سبھی افراد کے لیے بولا جا سکتاھے۔۔۔لیکن یہ لفظ ایک خطرناک رخ بھی اختیار کر جاتا ھے جو زندگی کو روگ لگا کر  اور  جوگیوں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیتا ھے  ۔۔۔
مثال کے طور پر ماں کو بیٹے سے بہت پیار ھے بہن بھائی میں بھی پیار ھوتا اور اسی طرح مقدس ترین رشتوں کے لیے  پیار کا لفظ بولا جاتا ھے جیسے پیارے ابا جان پیاری امی جان وغیرہ وغیرہ۔۔
 لیکن جب یہی لفظ کسی غیر محرم کے لیے بولا جاتا ھے تو پھر اسکے معنی ذومعنی ھوجاتے ہیں  یعنی کہ خطرے کی گھنٹی بج گئی ۔ جس پر کہنے اور کرنے والے کا بھی اختیار نہیں رہتا اور یہ لفظ عشق کی قربت میں ھوتے ھوے عشق کا روپ دھار لیتا ھے ۔۔۔
اب پیار پیار نہیں رھا جنون اور عشق کا روپ دھار گیا ۔۔۔ عربی زبان میں عشقہ کا لفظ ایک بوٹی کے لیے بولا جاتا جو اکثر ہم سب نے دیکھی ھوگی جو پیلے اور سبز رنگ کی تاریں سی ھوتی جو موٹی نوڈلز کے ساتھ ملتی جلتی ہیں جنکی کی کوئی جڑیں وغیرہ نہیں ھوتیں لیکن جس درخت پر وہ پھینک دی جایں وہ سوکھ جاتا ھے ۔۔۔
اب آپ لوگوں کو اس لفظ کا بھی پتہ چل گیا اور اسکی کارستانیوں کا بھی ۔۔
عشق کی یہ بیل جس درخت کو لگ گئی اسکی بربادی یقینی ھے اب یہ بیل انسانوں کو بھی لگ جاتی ھے جو تباہی مچا دیتی ھے جہاں تک ہمارا علم یا معلومات کا تعلق ھے دین اسلام کی کسی کتاب میں اس لفظ کا استعمال کہیں نہیں ھوا بلکہ آپ یوں کہیے یہ ممنوع لفظ ھے ۔۔۔
 ہماری شاعری اور لوک داستانیں اس لفظ سے بھری پڑی ہیں عشق ایسا نامراد ھے کچھ صوفیا اور مذہبی لوگوں نے بھی اسکو استعمال کیا ھے لیکن اب تو اس لفظ کا استعمال بتدریج بڑھتا جا رھا ھے ۔۔۔
 یہ عشق جب بھی ھوا کسی غیرمحرم مردکو کسی غیر محرم عورت سے ھوا۔ اس لحاظ سے اسکو خاص پزیرائی اور تکریم نہیں ملی لیکن احباب کو اختلاف کا ہورا حق ھے ۔۔۔
اب ذرا عشق کرنے والوں کا حال تو دیکھیں فیس بک پے سب سے بے حال تصویریں عشق  سے منسوب  عاشقوں کی ھوتی ہیں  کوئی دریا کے کنارے اکیلے بینچ پر بیٹھا یا بیٹھی ھے اور یا جنگل بیابان میں مٹر گشت کرتا ھوا کوئی آدم زاد بڑھی ھوئی شیویں بکھرے بال پٹھے ھوے کپڑے وغیرہ۔۔۔
لیکن اگر شاعری سے اس لفظ کو نکال دیا جاے تو شاعری پلے کچھ بچتا ہی نہیں ۔۔۔۔
عشق پر اشعار بھی بے شمار ہیں لیکن ان پے بات پھر کبھی سہی ۔۔۔۔۔
اب ذرا محبت کے لفظ کی بات کر لیں پیار کی طرح اس کے بھی چار حروف ہیں نہائیت معتبر اور مقدم لفظ یہ جب بھی استعمال ھوا خوبصورت رشتوں کا تقدس لیے ھوے ھوا جہاں جی چاہیں لگایں عشق کی طرح رشتوں کے لیے ممنوع نہیں ھے ۔۔۔۔۔
لیکن محبت کے لفظ کی خوبصورتی ایسی ھے جب استعمال ھوا اپنے ساتھ خوبصورت رشتے لیکر آیا باپ کو بیٹے بڑی محبت ماں کو بیٹے سے بڑی محبت بھائی اور بہن ایک دوسرے بہت محبت ھے اور سب اے بڑھ اللہ پاک کی اہنی مخلوق اے محبت انبیا اکرام کی اپنی امت سے محبت  اور یہی لفظ قران اور حدیث میں استعمال ھوا حب یا حبیب کے طور پر ۔۔۔

ہمارا مطمع نظر فقط اتنا تھا محبت کیجیے ضرور پیار بھی کیجیے  لیکن بچیے اس پیار سے جو غیر سے ھوجاے پھر جو قصہ عام ھوجاے اور رسوائی کا سامان ھوجاے لیکن کچھ کاموں کا  اختیار بندے کے پاس نہیں ھوتا
پیار اور محبت کب عشق کا روپ دھار لے کیا پتہ اور جب عشق یا عشقہ والی بات ھوگئی پھر تو تباہی ھوگئی پھر کوئی بن میں جا بسرام کرے یا پھر جو بھی کرے ۔۔۔
البتہ کچھ خوش قسمت لوگ بھی ھوتے ہیں جنکو پیار کے بعد عشق کرنا بھی میسر آجاتا ھے اور پھر شادی کے بندھن میں بندھ جانے کے بعد محبت جیسے پاکیزہ رشتہ بھی مل جاتا ھے
 لیکن ایسا کم ہی ھوتا ھے ورنہ لیلٰی مجنوں ۔ ہیر رانجھا۔  سسی پنوں ۔ سوہنی مہینوال۔  کی کہانیاں نہ بنتی۔۔۔۔
خوش رہیں آباد رہیں ۔۔ ۔

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل تحریر: بشرہ نواز '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' اگرچہ خواتین معاشرےکی معاشی ترقی کے لیے حیات افزا کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کے اس کردار کو شاذونادر ہی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خواتین عام طور پرگھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں اور ملازمت کا انتخاب خواہش کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت کی بنیاد پر کرتی ہیں ۔وہ اپنے خاندان اور گھر کی ذمہ داریوں کے لیے ناکافی وقت دینے پر اپنے آپ کو قصووار تصور کرتی ہیں۔اس دہری ذمہ داری کے سبب ان پر دوگنا بوجھ پڑتا ہے اور نتیجتا ً اانہیں بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے ۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ابھی تک پاکستانی معاشرے نے مکمل طور پر ملازمت پیشہ خاتون کے تصور کو قبول نہیں کیاہے۔ شادی شدہ خواتین کی یہ بھی مشکل ہے کہ سسرال میں کہا جاتا ہے کہ اگرملازمت کرے گی توگھر کون سنبھالے گا؟ خاندان والے کیا سوچیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود ایسی خواتین سب کو وقت دینے اور خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ انھیں ساری دنیا کو باور کرانا ہوتا ہے کہ اپنی ملازمت کے ساتھ وہ گھر، بچے، فیملی اور باقی تمام معاملات خوش اسلوبی سے نبھا رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کو چکی کے دو باٹ کہا جا تا ہے۔۔ جس طرح خواتین زندگی کی گاڑی چلانے میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اسی طرح مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ گھریلو امور میں ان کا ہاتھ بٹایا کریں۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرد عورت کا ہاتھ بٹانے میں اپنی توہین سمجھتا ہے اور ہمارے معاشرے میں کچھ جگہوں پر مرد کا گھر کےکام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹانے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ترقی کی اس جدوجہد میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ اب عورت اس بات پر قناعت نہیں کرسکتی کہ صرف مرد ہی کما کر لائے اورخاندان کی ضروریات پوری کرے۔ آج کی عورت یہ سمجھتی ہے کہ اسے بھی مرد کی طرح آزادی اور مساوات کے اظہار کے لیے ذاتی سرمایہ اور ملکیت چاہیے۔ اس لیے اب دنیا کے ہر ملک میں خواتین کے لیے گھر سے باہر ملازمت کرنا ایک ضرورت بن چکی ہے جس کا ماضی میں تصور بھی ممکن نہ تھا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں جن میں بڑی تعداد میں خواتین میڈیکل،ٹیچنگ، بینکنگ، ٹیلیفون آپریٹر، نرسنگ، گارمنٹس، صحافت، شوشل میڈیا، ، وکالت ، تدریس ، طب ، بزنس ، مارکیٹنگ ، شو بز انجینئرنگ ،اکاونٹنس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر اہنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں شعبہ ابلاغ عامہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز میں اپنے فرائض انجام دے رہی یں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہیں ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو بری الزمہ سمجھتی ہے جو انتہائی احمقانہ سوچ ہے اور یہ سوچ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مرد عورت پر اپنا تسلط چاہتا ہے ۔ اپنے گھر اور خاندان کے حوالے سے آپ کو خود ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور جب آپ اپنے خاندان کے بہترین مفاد میں کوئی فیصلہ کر لیں تو پھر آپ کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آپ کا یہ فیصلہ کچھ دیگر لوگوں سے مختلف کیوں ہے۔ کیونکہ ہر گھر اور خاندان کی ضروریات، حالات، وسائل مختلف ہوتے ہیں ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اسی طرح آپ کا کوئی فیصلہ آپ کے خاندان کے بہترین مفاد میں ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر گھر اور خاندان کے لیے قابلِ عمل ہو۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے کچھ جاہل لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ جہاں ملازمت پیشہ خواتین کو آزاد خیال اور گھر والوں کو ہر معاملے میں اپنا رعب داب رکھنے والی عورت تصور کیا جاتا ھے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں اپنے گھر والوں بچوں کیللے جدوجہد یہی ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔ یہ خواتین بھرپور طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتی ہیں، کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے نبھاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورتیں اپنا معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاہ رہی ہیں، اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنے بچوں اور خاندان کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔ جس طرح علم حاصل کرنا ہر عورت کا حق ہے ، اسی طرح اپنا مستقبل بنانا بھی ہر عورت کا حق ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ملازم پیشہ خواتین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں معاشرے کی گھریلو مشکلات ، پسماندہ سوچ ، صنفی امتیاز ، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور جنسی ہراسانی wo mxklat oiN jw سرفہرست ہیں۔ خواتین کو معاشرے میں مساوی سیاسی ، معاشی و سماجی حقوق دینے والے بالشویک انقلاب کے لیڈر ولادیمیر لینن نے کہا کہ ہماری خواتین شاندار طبقاتی جنگجو ہوتی ہیں ۔ محنت کشوں کی کوئی بھی تحریک خواتین کی شعوری مداخلت کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی ۔ روسی انقلاب ہو یا اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی سعودی عرب یا ایران کی خواتین ، بحرین میں ریاستی جارحیت کے خلاف احتجاج یا ترکی میں جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازش کا راستہ روکنے کی تحریک ، ہر موقع پر خواتین ایک بڑی طاقت کی صورت میں سامنے آئی ہیں اور اپنا کردار ادا ادا کیا ہے۔۔