مہنگائی کا طوفان

یوں تو مہنگائی پاکستان کا نہیں پوری دنیا کا مسلہ ھے لیکن پاکستان اس سے زیادہ متاثر ھوا ھے۔۔۔
اسکی وجہ یہ ھے کہ پاکستان کی اسوقت تقریباً  % 70 فیصد آبادی غربت کی لکیر تک یا نیچے ھے۔۔۔
اور اب تو پورا پاکستان ہی غریب نظر آتا ھے ماسواے انکے جو غربت کا باعث ہیں چلیں ہم یہ بھی نہیں کہتے مہنگائی تو بحرحال بہت بڑھی ھے اور موجودہ مہنگائی نے تو سابقہ سارے ریکارڈ دیے ۔۔۔
روز و مرہ کی اشیاء خوردونوش عام آدمی کی پہنچ سے دور ھوتی جا رہی ھے اب موجودہ حکومت اس مہنگائی کا سار نزلہ سابقہ حکومت پر گراۓ تو اس سے کیا عوام خوشحال اور مطمعن ھوجایں گی ؟؟؟؟
 بلکل ایسا نہیں ھے آج ایک ویڈیو کلپ دیکھ کر اس بات کا شدت سے احساس ھوا کہ اس موضوع کو اب تک کیوں نظر انداز کیا ۔۔۔

ایک پی ٹی آئی کا ورکر کسی ٹی وی چینل کو بتا رھا تھا میں ایک صاحب حثیت آدمی تھا اور اپنے بچوں کو اچھے سکولوں میں پڑھا رھا تھا لیکن مہنگائی کیوجہ سے میں نے اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں سے اٹھا لیا اور اب سرکاری سکولوں والے میرے بچوں کو داخل نہیں کر رھے اور یہ باتیں کرتے ھوے اسکی آنکھوں میں آنسو تھے خان صاحب آپکے دیرینہ ورکروں کو   آپکی توجہ درکار ھے !!!!!
 ورنہ پارٹی کے لیے لڑنے والے اپنی دال روٹی کی خاطر آپ سے بھی لڑنے لگیں گے۔۔۔۔

جو بھی ھے جیسا بھی ھے حکومت وقت کی ذمہ داری ھے لوگوں کو ریلیف دینا وہ حکومت وقت سے مطالبہ نہیں کریں گے تو کس سے کریں۔۔۔

ذخیرہ اندوزوں کو کنٹرول آپ نے کرنا ھے آپ کے اردگرد بھی تو مال بنانے والے لوگ جمع ہیں۔۔۔
اور انہی حضرات گرامیان  کا یہ سب  کیا دھرا ھے وہ ایک سازش کے تحت آپکی پارٹی میں آۓ یا لاۓ گئے یہ بات پرانی ھے۔۔۔
 جو ھوا اس میں آپ بھی برابر کے شریک ہیں کیوں دیے ان لوگوں کو ٹکٹ دیے ؟؟؟

 کیوں لاۓ پارٹی میں ؟؟؟؟

کیا ھوتا اگر آپ اپنی پارٹی ہی کے لوگوں کو الیکشن لڑواتے ھار ہی جاتے ناں !!!!!

 اپوزیشن میں بیٹھ جاتے اس قدر سبکی تو نہ ھوتی!!!!!

 اور ہم اب بھی یہ  سمجھتے ہیں  آپ بہتر ہرفارم کرتے
اب دیں جواب قوم کو !!!!

 جہاں تک قرضوں کا تعلق یہ عوام نے نہیں لیے تھے جن سے اب آپکی حکومت وصول کر رہی ھے کہاؔ گئیں وہ  باتیں اور وہ اربوں کی کرپشن کا کیا ھوا ؟؟؟؟؟

 سب ھوا ھوگئے ؟؟؟؟؟

اور جو ان میں ملوث تھے وہ سب رھا ھوگئے اب کریں انتظار وہ کب آیں گے وہ تب آیں جب تک وہ آپ کی حکومت کا بندوبست نہیں کر لیتے ۔۔۔

اب دو باتیں ہیں ۔۔۔
1 ۔ ان پر کرپشن کے چارجز جھوٹے تھے
2 ۔ کرہشن کے چارجز ٹھیک تھے لیکن وہ لوگ مضبوط تھے

اب عوام کیا کرے کیسے گزارا کرے اپنے بال بچوں کو کھانا کہاں سے کھلاے روزی روٹی کا بندوبست کون کرے گا اب تک لاکھوں لوگ بیروزگار ھوچکے کہاں گئی وہ ایک کروڑ نوکریاں کہاں گئے وہ پچاس لاکھ گھر ؟؟؟؟

قوم سوال کرتی ھے ؟؟؟؟؟

کیا وہ سب الیکشن جیتنے کا اسٹنٹ تھا ؟؟؟؟

دونوں وعدے دونوں جھوٹے نکلے اور رہی بات کرپٹ لوگوں اور کرپشن کی وہ تو آپکی صفوں میں بھی موجود ہیں ۔۔۔

اور آپکی حکومت کا حصہ ہیں آنکھیں کھولیں اگر اس لولے لنگڑے نظام میں سکت نہیں تو  اس نظام کوہی جڑ سے اکھاڑ دیں۔۔۔۔
 باو جی گئے کیا وہ سزا یافتہ نہیں تھے ان کے برادر انکے سمدھی اور  انکے بعد انکے داماد کیا سب چور نہیں تھے تو پھر چور کون ھے جواب جو صحیح بنتا ھے بس غریب عوام ھے جو اس ملک کا قرضہ چکا رہی ھے ٹیکسوں کی صورت میں مہنگائی کی صورت میں ۔۔۔

قوم مطالبہ کرتی ھے جیلیں کھول دیں بہت سے بیمارہیں جو  جیلوں میں مر رھے ہیں !!!!
 ان میں کئی مجرموں کو کینسر بھی ھوگا بہت ساروں کے پلیٹ لیٹس بھی ناہموار ھونگے ان سب کو بھی اپنے ماں باپ کے پاس رہ کر علاج کروانے دیں ۔۔۔۔۔

 انکی بیٹیاں بھی اپنے باپ کا یا  کوئی اپنے بھائی اور شوہر کی راہ  تک رہی ھے ۔۔۔

خدارا اگر آپ کے بس کی بات نہیں تو فقط چار حروف کی تقریر کیجے اور قوم کو اصلی صورتحال سے آگاہ کرکے دوبارہ الیکشن کروایں ۔۔۔۔۔۔

مزید مخلصانہ مشورہ یا تو سینٹ رکھیں یا اسمبلیاں یہ جو جونکیں قوم کا خون چوس رہی ہیں ان سے نجات دلاجایں یہی آپ کا اس قوم پر احسان ھوگا ۔۔۔۔

یقین جانیے   عوام کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کس کس نے کیا کیا انہیں تو اپنی دال روٹی کی فکر ھے۔۔۔

ماں کو اپنے بچے ہی فکر ھے جو دودھ پی رھا ھے ماں کھانا نہیں کھاے گی  تو دودھ کہاں سے اترے گا اور بچہ تو دودھ کے سہارے زندہ ھے ماں کو خوراک چاہیے اسے کیا پتہ۔۔۔
 آئی ایم ایف کیا ھے قرضہ اور کرپشن کیا ھے ؟؟؟؟

غریبوں کو اپنے بوڑھے ماں باپ کی دوائیوں کی فکر لگی ھے انہیں گیس کے بڑھتے ھوے نرخوں سے تکلیف ھے انہیں دال سستی چاہیے سبزی  سستی چاہیے۔۔۔

 لیکن یہ سب کچھ کیونکر ممکن ھوگا اگر آپ کی منیجمنٹ سے کالی بھیڑوں کا خاتمہ ھوجاے تب۔۔۔

 اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو عوام یہ سوچنے پر مجب

تبصرے

  1. بیشک مہنگائی کا جو عالم اس وقت ہے پہلے کبھی نہیں تھا معمو لی اشیا ضروری بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو تی جا رہی ہیں غریب اور متوسط طبقے کا جینا حرام ہو رہا ہے

    جواب دیںحذف کریں
  2. بہہہہہت عمممممممدہ لاجواب تحریر

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل تحریر: بشرہ نواز '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' اگرچہ خواتین معاشرےکی معاشی ترقی کے لیے حیات افزا کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کے اس کردار کو شاذونادر ہی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خواتین عام طور پرگھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں اور ملازمت کا انتخاب خواہش کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت کی بنیاد پر کرتی ہیں ۔وہ اپنے خاندان اور گھر کی ذمہ داریوں کے لیے ناکافی وقت دینے پر اپنے آپ کو قصووار تصور کرتی ہیں۔اس دہری ذمہ داری کے سبب ان پر دوگنا بوجھ پڑتا ہے اور نتیجتا ً اانہیں بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے ۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ابھی تک پاکستانی معاشرے نے مکمل طور پر ملازمت پیشہ خاتون کے تصور کو قبول نہیں کیاہے۔ شادی شدہ خواتین کی یہ بھی مشکل ہے کہ سسرال میں کہا جاتا ہے کہ اگرملازمت کرے گی توگھر کون سنبھالے گا؟ خاندان والے کیا سوچیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود ایسی خواتین سب کو وقت دینے اور خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ انھیں ساری دنیا کو باور کرانا ہوتا ہے کہ اپنی ملازمت کے ساتھ وہ گھر، بچے، فیملی اور باقی تمام معاملات خوش اسلوبی سے نبھا رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کو چکی کے دو باٹ کہا جا تا ہے۔۔ جس طرح خواتین زندگی کی گاڑی چلانے میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اسی طرح مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ گھریلو امور میں ان کا ہاتھ بٹایا کریں۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرد عورت کا ہاتھ بٹانے میں اپنی توہین سمجھتا ہے اور ہمارے معاشرے میں کچھ جگہوں پر مرد کا گھر کےکام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹانے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ترقی کی اس جدوجہد میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ اب عورت اس بات پر قناعت نہیں کرسکتی کہ صرف مرد ہی کما کر لائے اورخاندان کی ضروریات پوری کرے۔ آج کی عورت یہ سمجھتی ہے کہ اسے بھی مرد کی طرح آزادی اور مساوات کے اظہار کے لیے ذاتی سرمایہ اور ملکیت چاہیے۔ اس لیے اب دنیا کے ہر ملک میں خواتین کے لیے گھر سے باہر ملازمت کرنا ایک ضرورت بن چکی ہے جس کا ماضی میں تصور بھی ممکن نہ تھا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں جن میں بڑی تعداد میں خواتین میڈیکل،ٹیچنگ، بینکنگ، ٹیلیفون آپریٹر، نرسنگ، گارمنٹس، صحافت، شوشل میڈیا، ، وکالت ، تدریس ، طب ، بزنس ، مارکیٹنگ ، شو بز انجینئرنگ ،اکاونٹنس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر اہنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں شعبہ ابلاغ عامہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز میں اپنے فرائض انجام دے رہی یں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہیں ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو بری الزمہ سمجھتی ہے جو انتہائی احمقانہ سوچ ہے اور یہ سوچ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مرد عورت پر اپنا تسلط چاہتا ہے ۔ اپنے گھر اور خاندان کے حوالے سے آپ کو خود ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور جب آپ اپنے خاندان کے بہترین مفاد میں کوئی فیصلہ کر لیں تو پھر آپ کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آپ کا یہ فیصلہ کچھ دیگر لوگوں سے مختلف کیوں ہے۔ کیونکہ ہر گھر اور خاندان کی ضروریات، حالات، وسائل مختلف ہوتے ہیں ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اسی طرح آپ کا کوئی فیصلہ آپ کے خاندان کے بہترین مفاد میں ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر گھر اور خاندان کے لیے قابلِ عمل ہو۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے کچھ جاہل لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ جہاں ملازمت پیشہ خواتین کو آزاد خیال اور گھر والوں کو ہر معاملے میں اپنا رعب داب رکھنے والی عورت تصور کیا جاتا ھے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں اپنے گھر والوں بچوں کیللے جدوجہد یہی ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔ یہ خواتین بھرپور طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتی ہیں، کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے نبھاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورتیں اپنا معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاہ رہی ہیں، اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنے بچوں اور خاندان کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔ جس طرح علم حاصل کرنا ہر عورت کا حق ہے ، اسی طرح اپنا مستقبل بنانا بھی ہر عورت کا حق ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ملازم پیشہ خواتین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں معاشرے کی گھریلو مشکلات ، پسماندہ سوچ ، صنفی امتیاز ، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور جنسی ہراسانی wo mxklat oiN jw سرفہرست ہیں۔ خواتین کو معاشرے میں مساوی سیاسی ، معاشی و سماجی حقوق دینے والے بالشویک انقلاب کے لیڈر ولادیمیر لینن نے کہا کہ ہماری خواتین شاندار طبقاتی جنگجو ہوتی ہیں ۔ محنت کشوں کی کوئی بھی تحریک خواتین کی شعوری مداخلت کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی ۔ روسی انقلاب ہو یا اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی سعودی عرب یا ایران کی خواتین ، بحرین میں ریاستی جارحیت کے خلاف احتجاج یا ترکی میں جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازش کا راستہ روکنے کی تحریک ، ہر موقع پر خواتین ایک بڑی طاقت کی صورت میں سامنے آئی ہیں اور اپنا کردار ادا ادا کیا ہے۔۔