زیتون
اللہ تعالی نے انسانوں کے لیے بے شمار نعمتیں عطا فرمائیں
ہیں جن میں صحت مند جسم اور صحت کو قائم رکھنے کے لیے مزید نعمتیں شامل ہیں ۔ بے شمار سبزیاں میوہ جات مغزیات شامل ہیں آج زکر کرتے ہیں ایسے پھل کا جس کا ذکر قرآن مجید کے تیسویں پارے میں آیا ہےاس پھل کا ذکر حدیث نبوی میں بھی ملتا ہے زیتون ایک چھوٹا درخت ہوتا ہے جو یورپ ۔سعودی عرب۔ افریقہ اور امارات کے علاقوں میں پایا جاتا ہے زیتون کو انگریزی میں olive کہتے ہیں جبکہ اردو اور عربی میں اسے زیتون کہا جاتا ہے یہ ایک سدابہار درخت ہےاس کی زیادہ سے زیادہ لمبائی عموما ٢١/ ٢۵فٹ ہوتی ہےاس کے خوبصورت سرسبز پتے لمبے اور چوڑے ہوتے ہیں زیتون کے درخت پر چھوٹے چھوٹے پھول ہوتے ہیں اس کے پھل کو drupe کہا جاتا ہے زیتون کا پھل پہلے تو سبز رنگ کا ہوتا ہے اور پھر جامنی رنگ اختیار کر لیتا ہے
- زیتون کے درخت سب سے پہلے اٹلی کے علاقوں میں دریافت ہوئے اور اس کی باضابطہ کاشت آٹھ ہزار برس پہلے شروع ہوئی اور اس کے بعد سے لوگوں نے زیتون کا پھل کھانا شروع کیا آہستہ آہستہ لوگ اس کی طبی اہمیت سے واقف ہوتے گئے یونان میں جس کے گھر زیتون کے درخت ہوتے تھے وہ لوگ اپنے علاقے کے امیر لوگ تصور کیے جاتے تھے بائبل میں بھی زیتون کا زکر موجود ہے یونانی لوگ زیتون سے تیل حاصل کرتے تھے اسے بالوں اور جسم کی مالش میں استعمال کرتے تھے اسلامی دور میں زیتون کی بہت اہمیںت تھی اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس کا زکر قرآن پاک میں سات بار آیا ہے حد تو یہ ہے کہ اللہ نے اس درخت کی قسم کھائی ہے زیتون کے تیل سے حاصل شدہ فوائد پر نظر ڈالی جائے تو اس کا بے مثال کردار سامنے آتا ہے یہ جسمانی ۔دماغی کمزوری کے لیے بے مثال ہےاس کا پھل دل کے امراض کے لیے اکسیر ہے اللہ رب العزت نے زیتون کو غذائی اعتبار سے زبردست بنایا ہے اس وٹامن ای اور ڈی وٹامن ای ذہنی نشونما کے لیے اہم ہے یہ پٹھوں کو مضبوط کرتی ہے کمزور لوگوں کے لیے یہ کسی تحفے سے کم نہیں زیتون کے تیل میں شوگر کم ہوتی ہے اسی لیے شوگر کے مریض بلا خوف استعمال کر سکتے ہیں اس میں پروٹین کی مناسب مقدار نے اس کی غذائی اہمیت کو بڑھا دیا ہے یہ vitamins کا خزانہ ہے اس کے تیل میں choline بھی موجود ہے جو پانی میں حل ہو جاتا ہے یہ جگر کو مضبوط کرتا ہے اور حاملہ خواتین کے بچے کی نشونما میں اہم قردار ادا کرتا ہے آج دنیا نے olive tree کی اہمیت کو تسلیم کر لیا ہے یہی وجہ ہے کہ زیتون کی سالانہ پیداوار اور اس کے استعمال
- میں اضافہ ہو رہا ہے اس وقت دنیا میں زیتون پیدا کرنے والے ممالک میں spain پہلے نمبر پر ہے اس کے علاوہ اٹلی ۔یونان۔ ترکی بھی زیتون پیدا کرتےہیں اب پاکستان میں بھی زیتون کی کاشت کی تیاریاں ہو رہی ہے اور انشاللہ جلد ہی پاکستان بھی شامل ہو جائیگا ۔
ہیں جن میں صحت مند جسم اور صحت کو قائم رکھنے کے لیے مزید نعمتیں شامل ہیں ۔ بے شمار سبزیاں میوہ جات مغزیات شامل ہیں آج زکر کرتے ہیں ایسے پھل کا جس کا ذکر قرآن مجید کے تیسویں پارے میں آیا ہےاس پھل کا ذکر حدیث نبوی میں بھی ملتا ہے زیتون ایک چھوٹا درخت ہوتا ہے جو یورپ ۔سعودی عرب۔ افریقہ اور امارات کے علاقوں میں پایا جاتا ہے زیتون کو انگریزی میں olive کہتے ہیں جبکہ اردو اور عربی میں اسے زیتون کہا جاتا ہے یہ ایک سدابہار درخت ہےاس کی زیادہ سے زیادہ لمبائی عموما ٢١/ ٢۵فٹ ہوتی ہےاس کے خوبصورت سرسبز پتے لمبے اور چوڑے ہوتے ہیں زیتون کے درخت پر چھوٹے چھوٹے پھول ہوتے ہیں اس کے پھل کو drupe کہا جاتا ہے زیتون کا پھل پہلے تو سبز رنگ کا ہوتا ہے اور پھر جامنی رنگ اختیار کر لیتا ہے
- زیتون کے درخت سب سے پہلے اٹلی کے علاقوں میں دریافت ہوئے اور اس کی باضابطہ کاشت آٹھ ہزار برس پہلے شروع ہوئی اور اس کے بعد سے لوگوں نے زیتون کا پھل کھانا شروع کیا آہستہ آہستہ لوگ اس کی طبی اہمیت سے واقف ہوتے گئے یونان میں جس کے گھر زیتون کے درخت ہوتے تھے وہ لوگ اپنے علاقے کے امیر لوگ تصور کیے جاتے تھے بائبل میں بھی زیتون کا زکر موجود ہے یونانی لوگ زیتون سے تیل حاصل کرتے تھے اسے بالوں اور جسم کی مالش میں استعمال کرتے تھے اسلامی دور میں زیتون کی بہت اہمیںت تھی اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس کا زکر قرآن پاک میں سات بار آیا ہے حد تو یہ ہے کہ اللہ نے اس درخت کی قسم کھائی ہے زیتون کے تیل سے حاصل شدہ فوائد پر نظر ڈالی جائے تو اس کا بے مثال کردار سامنے آتا ہے یہ جسمانی ۔دماغی کمزوری کے لیے بے مثال ہےاس کا پھل دل کے امراض کے لیے اکسیر ہے اللہ رب العزت نے زیتون کو غذائی اعتبار سے زبردست بنایا ہے اس وٹامن ای اور ڈی وٹامن ای ذہنی نشونما کے لیے اہم ہے یہ پٹھوں کو مضبوط کرتی ہے کمزور لوگوں کے لیے یہ کسی تحفے سے کم نہیں زیتون کے تیل میں شوگر کم ہوتی ہے اسی لیے شوگر کے مریض بلا خوف استعمال کر سکتے ہیں اس میں پروٹین کی مناسب مقدار نے اس کی غذائی اہمیت کو بڑھا دیا ہے یہ vitamins کا خزانہ ہے اس کے تیل میں choline بھی موجود ہے جو پانی میں حل ہو جاتا ہے یہ جگر کو مضبوط کرتا ہے اور حاملہ خواتین کے بچے کی نشونما میں اہم قردار ادا کرتا ہے آج دنیا نے olive tree کی اہمیت کو تسلیم کر لیا ہے یہی وجہ ہے کہ زیتون کی سالانہ پیداوار اور اس کے استعمال
- میں اضافہ ہو رہا ہے اس وقت دنیا میں زیتون پیدا کرنے والے ممالک میں spain پہلے نمبر پر ہے اس کے علاوہ اٹلی ۔یونان۔ ترکی بھی زیتون پیدا کرتےہیں اب پاکستان میں بھی زیتون کی کاشت کی تیاریاں ہو رہی ہے اور انشاللہ جلد ہی پاکستان بھی شامل ہو جائیگا ۔


بہترین زبردست تحریر مفید معلومات
جواب دیںحذف کریں