پاکستان اور سیاسی عدم استحکام

یوں تو جب سے پی ٹی آئی کی حکومت بنی ہے اسی دن سے اپوزیشن نے اسے دل سے قبول نہیں کیا اسی طرح جس طرح ہندوستان نے پاکستان کو دل سے ایک آزاد ملک تسلیم نہیں کیا اسی وجہ سے ملک میں سیاسی عدم استحکام کا ماحول بکثرت میسر ہے.... پہلے دن ہی وزیراعظم عمران خان کو اسمبلی میں تقریر نہیں کرنے دی گئی, اسی دن آنے والے دنوں کی تصویر بننا شروع ہوگئی کہنے کو اب موجودہ سیٹ آپ کو لگ بھگ ڈھائی سال سے زائد دن ہوچکے مگر آج بھی امن کا فقدان ہے,,, . اور باقی کے حالات بھی خاص قابل ذکر نہیں, ہمیں یہ تو معلوم ہے کہ موجودہ حکمران پارٹی کے ساتھ جو اتحاد ہے بظاہر تو ساتھ ہیں مگر یہ غیر فطری اتحاد ابھی تک قائم ہے, ابھی کچھ دن پہلے ضمنی الیکشن ہوئے اس کے بعد سینٹ ممبران کی سلیکشن کے لئے الیکشن مرتب کیا گیا دونوں طرف ہارنے والی سیٹوں پر اعتراض اور جیتنے کا سہرا اپنے سر پر سجانے کاکام زور شور سے جاری و ساری ہے اور رہے گا.... بات عدم برداشت کی ہے اور اسی وجہ سے نہ سیاست مستحکم اور اور نہ سیاست دان , موجودہ حکومت کو گرانے میں کتنےلوگ اخلاق سے گرے اللہ کی پناہ... 2019 کو اقوام متحدہ کے فورم پر وزیراعظم عمران خان کی گئی تقریر کا اثر ذائل کرنے کے لیے مولانا فضل رحمان نے لانگ مارچ شروع کیا ,گو اس سے قبل ایک دو دھرنے لبیک یا رسول اللہ والوں نے بھی دیے تھے. جنکی بدولت حالات کافی دگرگوں ہو گئے انکی کی دیکھا دیکھی مولانا بھی ٹرک پر سوار ہوئے اور اسلام آباد کا رخ کیا ہماری دانست میں جلدی اور عجلت میں اٹھاے ہوے قدم منزل مقصود تک کم ہی پہنچتے ہیں اور یہ وجہ تھی اس لانگ مارچ کا حشر نشر ہوگیا..... اپوزیشن کی طرف سے چلایا پہلا دھرنا بارش اور ٹھنڈ کی نظر ہوگیا اس کے بعد اپوزیشن سر جوڑ کر بیٹھ گئی اور پھر پی ڈی ایم کا الائنس بن گیا اور جلسوں کا موسم شروع ہوا خیبر پختون خواہ اور سندھ میں جلسے کسی حد تک کامیاب ہوئے مگر پنجاب میں کوئی خاص پزیرائی نہیں مل سکی ماسوائے گجرانولا کے جلسہ کے... پریس کانفرنسوں اور سیاسی محاذ آرائی نے زور پکڑا اور لاہور اور اسلام آباد کے جلسوں کے بعد لانگ مارچ کی باری آنا تھی اس دوران سینٹ کا الیکشن بھی ہوگیا اور نمائندے منتخب بھی اس معرکہ میں حکمران جماعت اور اتحادیوں کا پلہ بھاری رہا اور مسلم نون پنجاب کے علاوہ ناکام اور نامراد رہی... اس پی ڈی ایم کا اولین مقصد موجودہ حکومت کو ختم کرکے نئے الیکشن کی راہ ہموار کرنا تھی مگر یہ ہو نہ سکا سیاست بڑا بے رحم کھیل ہے ہر کوئی اپنے آنکھوں میں مستقبل قریب میں اپنے حکمران ہونے کے خواب دیکھتا ہے اور اپنے اس مفاد کی خاطر بے دریغ جائز اور ناجائز حربے استعمال کرتا ہے اب جبکہ پی ڈی ایم ناکام ہوچکی ہے اسکے وجوہات پر غور کریں... شروع دن سے نون لیگ اور مولانا فضل الرحمان کا بیانیہ ایک تھا اس کی جو وجہ سمجھ میں آتی ہے کیونکہ میاّں محمد نواز شریف, مریم صفدر نواز, اور جناب فضل الرحمن حکومت سے باہر تھے باپ بیٹی کو نا اہلی کا سامنا تھا اور فضل الرحمن کو شکست کی ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا... اب چونکہ یہ تین لیڈر باہر تھے انکے لئے اسمبلی اور سیٹیں سب بے معنی تھیں لہٰذا ان کا ایک ہی موقف تھا اسمبلی سے استعفے دیے جایں اور نئے الیکشن کی راہ ہموار ہوسکے مگر,,,,,,, گو کہ ان کے ساتھ کچھ اور جماعتیں بھی تھیں جنکی آواز اتنی موثر نہ تھیں وہ بھی کسی نہ کسی حوالے سے نون لیگ اور مولانا کے بیانیہ کے ساتھ تھے مگر پیپلز پارٹی جو اس اتحاد میں سب سے بڑی دوسری سیاسی جماعت تھی وہ نہ تو سندھ حکومت چھوڑنا چاہتی تھی اور نہ اسمبلیوں کو توڑنا چاہتی تھیں مگر ہاں میں ہاں خوب ملائی, اور دوسری جماعتوں لولی پاپ دے کے رکھا مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی جو کے ماضی میں ایک دوسرے کے سب سے بڑے ناقد اور حریف تھے عمران خان کی حکومت گرانے میں ایک ہوگئے مگر حاصل کچھ نہ ہوسکا جس کے آئندہ بھی امکانات کم لگتے ہیں,,,, اس ساری گیم میں سب سے زیادہ نقصان مولانا فضل رحمان کی ساکھ کو پہنچا جو ماضی کی ہر حکومت کا حصہ رہے جبکہ مریم صفدر نواز صاحبہ کو ایک ایکسپوژر درکار تھا وہ ضرور مل گیا میڈیا, صحافت اور کیمروں نے انہیں خوب پروموٹ کیا , کل مورخہ 16 مارچ کو پی ڈی ایم کا اہم اجلاس تھا جس میں گیاراں میں سے دس پارٹیوں کا ارادہ تھا کہ اسمبلیوں سے پہلے استعفے دیے جایں اور پھر لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کیا جاے مگر اس اتحاد کی دوسری سب سے بڑی پارٹی پیپلزپارٹی نے صاف انکار کر دیا اور شرط بھی وہ رکھی جو بظاہر پوری ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی کہ جناب میاں محمد نواز شریف پاکستان تشریف لائیں تو تب ہم اسمبلیوں سے استعفے دیں گے , اب نہ تو نو من تیل ہو گا اور نہ رادھا ناچے گی,, ابھی کچھ دیر پہلے نون لیگ کے بڑے بڑے لیڈران پریس کانفرنس کر رہے تھے اور عندیہ دے رہے تھے کہ ہم پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر متحد ہیں اور موجودہ حکومت ختم کرکے ہی دم لیں گے گو کہ اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے مگر ارادے نیک نہیں لگتے اب دیکھیں کیا ہوتا ہے مستقبل قریب میں, اپنا آراء سے ضرور مستفید کیا کریں آپ کی تاثرات ہی ہمیں اور لکھنے کی ترغیب دیتے ہیں..یوں تو جب سے پی ٹی آئی کی حکومت بنی ہے اسی دن سے اپوزیشن نے اسے دل سے قبول نہیں کیا اسی طرح جس طرح ہندوستان نے پاکستان کو دل سے ایک آزاد ملک تسلیم نہیں کیا اسی وجہ سے ملک میں سیاسی عدم استحکام کا ماحول بکثرت میسر ہے.... پہلے دن ہی وزیراعظم عمران خان کو اسمبلی میں تقریر نہیں کرنے دی گئی, اسی دن آنے والے دنوں کی تصویر بننا شروع ہوگئی کہنے کو اب موجودہ سیٹ آپ کو لگ بھگ ڈھائی سال سے زائد دن ہوچکے مگر آج بھی امن کا فقدان ہے,,, . اور باقی کے حالات بھی خاص قابل ذکر نہیں, ہمیں یہ تو معلوم ہے کہ موجودہ حکمران پارٹی کے ساتھ جو اتحاد ہے بظاہر تو ساتھ ہیں مگر یہ غیر فطری اتحاد ابھی تک قائم ہے, ابھی کچھ دن پہلے ضمنی الیکشن ہوئے اس کے بعد سینٹ ممبران کی سلیکشن کے لئے الیکشن مرتب کیا گیا دونوں طرف ہارنے والی سیٹوں پر اعتراض اور جیتنے کا سہرا اپنے سر پر سجانے کاکام زور شور سے جاری و ساری ہے اور رہے گا.... بات عدم برداشت کی ہے اور اسی وجہ سے نہ سیاست مستحکم اور اور نہ سیاست دان , موجودہ حکومت کو گرانے میں کتنےلوگ اخلاق سے گرے اللہ کی پناہ... 2019 کو اقوام متحدہ کے فورم پر وزیراعظم عمران خان کی گئی تقریر کا اثر ذائل کرنے کے لیے مولانا فضل رحمان نے لانگ مارچ شروع کیا ,گو اس سے قبل ایک دو دھرنے لبیک یا رسول اللہ والوں نے بھی دیے تھے. جنکی بدولت حالات کافی دگرگوں ہو گئے انکی کی دیکھا دیکھی مولانا بھی ٹرک پر سوار ہوئے اور اسلام آباد کا رخ کیا ہماری دانست میں جلدی اور عجلت میں اٹھاے ہوے قدم منزل مقصود تک کم ہی پہنچتے ہیں اور یہ وجہ تھی اس لانگ مارچ کا حشر نشر ہوگیا..... اپوزیشن کی طرف سے چلایا پہلا دھرنا بارش اور ٹھنڈ کی نظر ہوگیا اس کے بعد اپوزیشن سر جوڑ کر بیٹھ گئی اور پھر پی ڈی ایم کا الائنس بن گیا اور جلسوں کا موسم شروع ہوا خیبر پختون خواہ اور سندھ میں جلسے کسی حد تک کامیاب ہوئے مگر پنجاب میں کوئی خاص پزیرائی نہیں مل سکی ماسوائے گجرانولا کے جلسہ کے... پریس کانفرنسوں اور سیاسی محاذ آرائی نے زور پکڑا اور لاہور اور اسلام آباد کے جلسوں کے بعد لانگ مارچ کی باری آنا تھی اس دوران سینٹ کا الیکشن بھی ہوگیا اور نمائندے منتخب بھی اس معرکہ میں حکمران جماعت اور اتحادیوں کا پلہ بھاری رہا اور مسلم نون پنجاب کے علاوہ ناکام اور نامراد رہی... اس پی ڈی ایم کا اولین مقصد موجودہ حکومت کو ختم کرکے نئے الیکشن کی راہ ہموار کرنا تھی مگر یہ ہو نہ سکا سیاست بڑا بے رحم کھیل ہے ہر کوئی اپنے آنکھوں میں مستقبل قریب میں اپنے حکمران ہونے کے خواب دیکھتا ہے اور اپنے اس مفاد کی خاطر بے دریغ جائز اور ناجائز حربے استعمال کرتا ہے اب جبکہ پی ڈی ایم ناکام ہوچکی ہے اسکے وجوہات پر غور کریں... شروع دن سے نون لیگ اور مولانا فضل الرحمان کا بیانیہ ایک تھا اس کی جو وجہ سمجھ میں آتی ہے کیونکہ میاّں محمد نواز شریف, مریم صفدر نواز, اور جناب فضل الرحمن حکومت سے باہر تھے باپ بیٹی کو نا اہلی کا سامنا تھا اور فضل الرحمن کو شکست کی ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا... اب چونکہ یہ تین لیڈر باہر تھے انکے لئے اسمبلی اور سیٹیں سب بے معنی تھیں لہٰذا ان کا ایک ہی موقف تھا اسمبلی سے استعفے دیے جایں اور نئے الیکشن کی راہ ہموار ہوسکے مگر,,,,,,, گو کہ ان کے ساتھ کچھ اور جماعتیں بھی تھیں جنکی آواز اتنی موثر نہ تھیں وہ بھی کسی نہ کسی حوالے سے نون لیگ اور مولانا کے بیانیہ کے ساتھ تھے مگر پیپلز پارٹی جو اس اتحاد میں سب سے بڑی دوسری سیاسی جماعت تھی وہ نہ تو سندھ حکومت چھوڑنا چاہتی تھی اور نہ اسمبلیوں کو توڑنا چاہتی تھیں مگر ہاں میں ہاں خوب ملائی, اور دوسری جماعتوں لولی پاپ دے کے رکھا مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی جو کے ماضی میں ایک دوسرے کے سب سے بڑے ناقد اور حریف تھے عمران خان کی حکومت گرانے میں ایک ہوگئے مگر حاصل کچھ نہ ہوسکا جس کے آئندہ بھی امکانات کم لگتے ہیں,,,, اس ساری گیم میں سب سے زیادہ نقصان مولانا فضل رحمان کی ساکھ کو پہنچا جو ماضی کی ہر حکومت کا حصہ رہے جبکہ مریم صفدر نواز صاحبہ کو ایک ایکسپوژر درکار تھا وہ ضرور مل گیا میڈیا, صحافت اور کیمروں نے انہیں خوب پروموٹ کیا , کل مورخہ 16 مارچ کو پی ڈی ایم کا اہم اجلاس تھا جس میں گیاراں میں سے دس پارٹیوں کا ارادہ تھا کہ اسمبلیوں سے پہلے استعفے دیے جایں اور پھر لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کیا جاے مگر اس اتحاد کی دوسری سب سے بڑی پارٹی پیپلزپارٹی نے صاف انکار کر دیا اور شرط بھی وہ رکھی جو بظاہر پوری ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی کہ جناب میاں محمد نواز شریف پاکستان تشریف لائیں تو تب ہم اسمبلیوں سے استعفے دیں گے , اب نہ تو نو من تیل ہو گا اور نہ رادھا ناچے گی,, ابھی کچھ دیر پہلے نون لیگ کے بڑے بڑے لیڈران پریس کانفرنس کر رہے تھے اور عندیہ دے رہے تھے کہ ہم پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر متحد ہیں اور موجودہ حکومت ختم کرکے ہی دم لیں گے گو کہ اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے مگر ارادے نیک نہیں لگتے اب دیکھیں کیا ہوتا ہے مستقبل قریب میں, اپنا آراء سے ضرور مستفید کیا کریں آپ کی تاثرات ہی ہمیں اور لکھنے کی ترغیب دیتے ہیں..

تبصرے

مشہور اشاعتیں