بچوں کی کردار سازی میں والدین کی ذمہ داریاں۔ ------------------------------------------------------ جو لڑکی سے امتیازی برتاؤ کرتے ہیں وہ جاہلیت کے زمرے میں آتا ہے جسے ہم زہنی بیماری کا نام دیتے پیں۔ ہمارے معاشرے میں لڑکی کو کمتر سمجھنے والا درحقیقت اپنی اولاد کے درمیان برابری کرنے سے اسلئے گھبراتا ہے کہ کہیں اسے اسکی جائیداد میں سے حصہ نہ دینا پڑ جائے کیونکہ ایسے لوگ لڑکی کو بوجھ سمجھتے ہیں کہ لڑکا تعلیم حاصل کر کے . انہیں کما کر دے گا اسی وجہ سے کچھ لوگ بیٹیوں کو پڑھانا ضروری نہیں سمجھتے یہ ہی لوگ ہیں جو نہ ہی بیٹیوں کو پڑھاتے نا انھیں۔ ترقی کی راہ پی چلنے دیتے ہیں حالانکہ دنیا کا کوئی مذہب ا ور سماج اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ لڑکیوں پر علم کے دروازے بند رکھے جایں والدین اپنی اولاد کو جو سب سے بہتر تحفہ دیتے ہیں وہ ان کی اعلیٰ ، تعلیم و تربیت، اخلاق اور اخلاص ہیں۔ جس والد نے اپنے بیٹے یا بیٹی کو اچھا ادب سکھا دیا ،اچھا انسان بنا دیا وہ فلاح پا گیا۔ بچوں کی تربیت اور کردار سازی میں والدین کا کردار جس قدر اہم ہے اُتنا ہی اساتذہ کا بھی ہے ،والدین اوراساتذہ بچوں کے اخلاق کی تعمیر کے ذمہ دار ہیں ،ماں باپ اور ا ن سے جُڑے رشتے بچوں کو اپنے عمل سے ہمدردی ، محبت ، سچائی ، خوش اخلاقی کا درس دیں، دوسروں کا احترام ، ان کی عزت کی حفاظت کرنا سکھائیں تاکہ ایک اسلامی فلاحی ترقی یافتہ معاشرے کے خواب کو پورا کیا جاۓ چاہے کہ والدین اپنے بچے کو غیبت ، چغلی ، جھوٹ ، چوری دوسروں کی حق تلفی اور دیگر اخلاقی برائیوں سے باز رکھنے کے لیئے خود بھی اِ ن خرافات سے دور رہیں تاکہ بچہ والدین کو دیکھ کےان سے یہ ہی سیکھے، ماں اپنے بچوں کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہے جو اخلاقی وصف اُس میں پیدا کرے گی وہ اپنا لے گا اور جن برائیوں سے روکے گی وہ رک جاۓ گا خوبیاں ا سکی ذات کا حصہ بن جائیں گی والدین کے ساتھ اساتذہ بھی پوری دلجمعی سے بچوں کو پڑھائیں نصابی سرگرمی کے علاوہ ان۔ کی بیرونی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی جاۓ موجودہ دور میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اچھے اور مثبت انداز میں کریں دوران پڑھائی اساتذہ موبائل کا ا ستعمال نہ کریں اس طرح بچوں کا قیمتی وقت ضایع ہو گا ، کیونکہ استاد کا کام بچوں کو تعلیم کے ساتھ ان کی تربیت کرنا بھی ہے تعلیمی معیار کی بہتری کےلئے ضروری ہے کہ معاشرے میں استاد کی تکریم ہو ،اساتذہ کی سلیکشن کا معیار بھی سخت ہونا چاہیے کیونکہ آج کل بچوں کی تربیت سازی میں استاد کا کردار کم ہورہا ہے جبکہ والدین سکول کے بعد بچے کوٹیوشن پڑھانے کوزیادہ اہمیت دیتے ہیں جس کی وجہ سے بچہ چوبیس گھنٹوں میں آٹھ سے دس گھنٹے وقت اپنے استاد کے ساتھ صرف کرتا ہے ، بدقسمتی سے ہمارے ملک میں تعلیم کاروبار بن چکی ہے ہم ایک نصاب اور زریعہ تعلیم پر متفق نہیں ہوسکے ملک میں طبقاتی نظام تعلیم ہے جسکی وجہ سے امیر اور غریب کی تعلیم مختلف ہو گئی ہے ،۔ جب سے . لوگوں نے تعلیم کو کاروبار کا درجہ دے دیا ہے تب سے ہی بچوں میں اخلاقی تربیت کا فقدان واضح نظر آرہا ہے جسے کم کرنے کےلئے حکومت کا ایک نصاب مقرر کرنا ضروری ہے اور والدین اساتذہ کا ملکر بچے کی کردار سازی کرنا ہے ماں اپنے بچے کی تربیت میں زیادہ رول ادا کرتی ہے اسے بھی چاہے کہ بچے کی سرگرمیوں پر پوری نظر رکھے اور اسے دینی تعلیم سے آگاہی دے
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
مشہور اشاعتیں
ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل تحریر: بشرہ نواز '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' اگرچہ خواتین معاشرےکی معاشی ترقی کے لیے حیات افزا کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کے اس کردار کو شاذونادر ہی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خواتین عام طور پرگھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں اور ملازمت کا انتخاب خواہش کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت کی بنیاد پر کرتی ہیں ۔وہ اپنے خاندان اور گھر کی ذمہ داریوں کے لیے ناکافی وقت دینے پر اپنے آپ کو قصووار تصور کرتی ہیں۔اس دہری ذمہ داری کے سبب ان پر دوگنا بوجھ پڑتا ہے اور نتیجتا ً اانہیں بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے ۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ابھی تک پاکستانی معاشرے نے مکمل طور پر ملازمت پیشہ خاتون کے تصور کو قبول نہیں کیاہے۔ شادی شدہ خواتین کی یہ بھی مشکل ہے کہ سسرال میں کہا جاتا ہے کہ اگرملازمت کرے گی توگھر کون سنبھالے گا؟ خاندان والے کیا سوچیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود ایسی خواتین سب کو وقت دینے اور خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ انھیں ساری دنیا کو باور کرانا ہوتا ہے کہ اپنی ملازمت کے ساتھ وہ گھر، بچے، فیملی اور باقی تمام معاملات خوش اسلوبی سے نبھا رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کو چکی کے دو باٹ کہا جا تا ہے۔۔ جس طرح خواتین زندگی کی گاڑی چلانے میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اسی طرح مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ گھریلو امور میں ان کا ہاتھ بٹایا کریں۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرد عورت کا ہاتھ بٹانے میں اپنی توہین سمجھتا ہے اور ہمارے معاشرے میں کچھ جگہوں پر مرد کا گھر کےکام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹانے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ترقی کی اس جدوجہد میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ اب عورت اس بات پر قناعت نہیں کرسکتی کہ صرف مرد ہی کما کر لائے اورخاندان کی ضروریات پوری کرے۔ آج کی عورت یہ سمجھتی ہے کہ اسے بھی مرد کی طرح آزادی اور مساوات کے اظہار کے لیے ذاتی سرمایہ اور ملکیت چاہیے۔ اس لیے اب دنیا کے ہر ملک میں خواتین کے لیے گھر سے باہر ملازمت کرنا ایک ضرورت بن چکی ہے جس کا ماضی میں تصور بھی ممکن نہ تھا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں جن میں بڑی تعداد میں خواتین میڈیکل،ٹیچنگ، بینکنگ، ٹیلیفون آپریٹر، نرسنگ، گارمنٹس، صحافت، شوشل میڈیا، ، وکالت ، تدریس ، طب ، بزنس ، مارکیٹنگ ، شو بز انجینئرنگ ،اکاونٹنس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر اہنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں شعبہ ابلاغ عامہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز میں اپنے فرائض انجام دے رہی یں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہیں ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو بری الزمہ سمجھتی ہے جو انتہائی احمقانہ سوچ ہے اور یہ سوچ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مرد عورت پر اپنا تسلط چاہتا ہے ۔ اپنے گھر اور خاندان کے حوالے سے آپ کو خود ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور جب آپ اپنے خاندان کے بہترین مفاد میں کوئی فیصلہ کر لیں تو پھر آپ کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آپ کا یہ فیصلہ کچھ دیگر لوگوں سے مختلف کیوں ہے۔ کیونکہ ہر گھر اور خاندان کی ضروریات، حالات، وسائل مختلف ہوتے ہیں ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اسی طرح آپ کا کوئی فیصلہ آپ کے خاندان کے بہترین مفاد میں ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر گھر اور خاندان کے لیے قابلِ عمل ہو۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے کچھ جاہل لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ جہاں ملازمت پیشہ خواتین کو آزاد خیال اور گھر والوں کو ہر معاملے میں اپنا رعب داب رکھنے والی عورت تصور کیا جاتا ھے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں اپنے گھر والوں بچوں کیللے جدوجہد یہی ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔ یہ خواتین بھرپور طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتی ہیں، کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے نبھاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورتیں اپنا معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاہ رہی ہیں، اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنے بچوں اور خاندان کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔ جس طرح علم حاصل کرنا ہر عورت کا حق ہے ، اسی طرح اپنا مستقبل بنانا بھی ہر عورت کا حق ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ملازم پیشہ خواتین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں معاشرے کی گھریلو مشکلات ، پسماندہ سوچ ، صنفی امتیاز ، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور جنسی ہراسانی wo mxklat oiN jw سرفہرست ہیں۔ خواتین کو معاشرے میں مساوی سیاسی ، معاشی و سماجی حقوق دینے والے بالشویک انقلاب کے لیڈر ولادیمیر لینن نے کہا کہ ہماری خواتین شاندار طبقاتی جنگجو ہوتی ہیں ۔ محنت کشوں کی کوئی بھی تحریک خواتین کی شعوری مداخلت کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی ۔ روسی انقلاب ہو یا اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی سعودی عرب یا ایران کی خواتین ، بحرین میں ریاستی جارحیت کے خلاف احتجاج یا ترکی میں جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازش کا راستہ روکنے کی تحریک ، ہر موقع پر خواتین ایک بڑی طاقت کی صورت میں سامنے آئی ہیں اور اپنا کردار ادا ادا کیا ہے۔۔
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں