خواجہ سرا۔۔۔۔
خواجہ سرا ہمارےغلط معاشرتی رویوں اور رجحانات کا شکار ہیں:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دی جاتی ہے۔ مگر ان بیچاروں کی سننے والا کوئی نہیں ، یہ بے یار و مدد گار لوگ ایک ؑعرصے سے ظلم کا شکر ہوتے آ رہے ہیں مگر انکی شنوائی نہ ہی تھانوں میں ہوتی اور نہ ہی عدالتیں انکے لئے کچھ کر پاتی ہیں، اور نہ ہی ہماری ریاست انکے بارے میں کچھ سوچتی ہے۔۔ رہا مذہبی لوگوں کا معاملہ تو سماج جہاں انہیں تفنن طبع کے طور پر لیتے ہیں تو مولوی حضرات کی نفرت کا یہ عالم ہے کہ وہ انہیں فحاشی کا منبع کہتے دکھائی دیتے ہیں وہ خواجہ سراون کو مدرسے میں قران پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے ۔ خواجہ سراؤں میں ایسے بھی ہیں جو دین کی طرف رجحان رکھتے ہیں مگر معاشرے کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ دین سے دوری اختیار کر لیتے ہیں یہان تک کہ خواجہ سرا وں
کو اسلا آباد کی مسجد سے نماز پڑھنے پر مسجد سے نکال دیا گیا جب کہ اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا اور عبادت کیلئے مساجد کے دروازے ہر ایک کیلئے کھلا رکھنے کا کہتا ہے۔ ہمارے کچھ ملا ایسے ہیں جن کی کم عقلی پر بندہ سر پکڑ کے بیٹھ جاتا ہے یہ جب چاہیں حرام کو حلال اور حلال کوحرم قرار دے دیں انہپں کوئی طاقت پوچھنے کا حق نہیں رکھتی۔
خواجہ سرا وں کی زندگی میں زہر گھولنے والے کوئی دوسرے نہیں بلکہ وہ بہن بھائی اور والدین ہیں جو معاشرے کے خوف سے انہیں خود سے جدا ہونے پہ مجبور کرتے ہیں۔ خواجہ سرا بیمار ہو جائیں تو ان جیسے خواجہ سراوں کے علاوہ کوئی ان کی مدد کو نہیں آتا، مر جائیں تو ان کی لاش تک وصول کرنے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔۔ اور مرنے کی صورت میں انکا جنازہ پڑھانا تو دور کی بات انکے جنازے میں ہم لوگ شریک ہونا گناہ سمجھتے ہیں اور چند لوگ ہی ھوتے ہی ہوتے ہیں جو انہیں بے نام قبروں میں دفنا آتے ہیں۔
اگر ہم دیکھیں تو خواجہ سراؤں کیلئے حکومت کے ایجنڈہ پرانکی فلاح و بہبود کیلئے کچھ کام ہونے چاہیں اور کچھ نہیں تو انسانی حقوق کی۔ تنظیمیں ہی ان کے لیے بہت اقدام کریں اگر میڈیا ان کو۔ پرموٹ کرے تو بھی ان کے مسا ئیل حل ہو سکتے ہیں مگر ،میڈیا کے پاس حزب مخالف یا پھر ہنگاموںؐ اور آپس کے جھگڑون جیسے "اہم” موضوعات کے سوا کسی "غیراہم” اور غیر منافع بخش موضوع کے لیے وقت نہیں۔ اور پھر ایسے موضوعات پر ریٹنگ بھی تو نہیں بڑھتی۔ صبح شام نیکی کی تبلیغ کرنے والے مذ ہبی رہنماؤں کے پاس بھی خواجہ سراوں کے حقوق کی بات کرنے کیلئے کچھ نہیں وہ ان سے نفرت کرتے ہیں اور
انہیں انسان ہی نہیں سمجھتے اب کون بتائے کہ یہ بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں اور انکے بھی کچھ حقوق ہیں انکے حقوق کی بات کرنا بھی تونیکی ہی ہے۔ پارلیمنٹ میہں جہاں عورتوں کیلئے نشستیں مخصوص ہین وہیں ملازمتوں میں بھی اور دوسری سرگرمیوں میں بھی انکا حصہ ہونا بہت ہی ضروری ہے تا کہ یہ لوگ اپنی زندگی کو ناچ گانے تک محدود نہ رکھتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوتے اس معاشرے کے لئے کچھ اچھا کر سکیں ۔)


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں