رمضان مبارک

رمضالمبارک اور ہماری ذمہ داریاں

الحمداللہ رمضان شریف اختتام پذیر ہونے کو ہے اور بڑے خوش قسمت  ہیں وہ مسلمان ہیں جنہوں نے ابھی تک نہایت کامیابی کے ساتھ اس ماہ صیام کے  اہتمام اور استقامت کے ساتھ روزے رکھے ہماری دعا ہے اللہ پاک تمام مومنین کی اس مہینے میں کی گئی عبادات قبول  فرما ے
 اور اللہ  پاک سے دعا ہے جو ہم سے اس ماہ میں نادانستہ اور کاہلی کی وجہ سے معصیتیں سرزد ہوئی ان پر اپنے کرم کا معاملہ فرماے..
قارئین کرام اب جبکہ رمضان مبارک کے تین یا غالباً چار روزے رہ گئے  ہیں , تو ہمارے کچھ فرائض تھے کیا ہم ان سے عہدہ برا ہ  ہو ے   , , کہ نہیں ہم سبکو اپنا  کا محاسبہ کرنا ہے...
14 مارچ سے ہونے والے لاک ڈاؤن سے  جہاں دنیا کے امیر اور غریب  ملکوں کی معیشت کو نقصان پہنچا,,وہاں غربت میں بھی بہت اضافہ  ہوا ,دو ماہ کے اس لاک ڈاؤن نے   کتنے لوگوں کو بیروزگار کیا, اس غربت کی بڑھی ہوئی  تعداد کو کیسے  کم کیا جا سکتا ہے اس کا حل کیا ہے  ؟صرف اسلام کے بتاے ہوے سنہری اصولوں پر عمل کرکے,اس وبا میں  گھر ے ہوئے  کچھ  لوگوں کی پریشانی دور کی جا سکتی ہے ہمار ا  دین ہمیں۔ دوسروں کی مدد کرنے کی تلقین  کرتا ہے اس کے لیے دین نے زکاة اور فطرانہ کا حکم۔ دیا ہے
 ایک تو ہماری مذہبی ذمہ داری  ہے ,کہ صدقہ فطر کو حقداروں تک پہنچایں اور اس کام کو یقیناً سبھی لوگوں نے انجام دے دیا ہوگا اگر ابھی تک نہیں کیا,,, تو جلدی کریں کیونکہ صدقہ فطر فرض ہے جسطرح روزے ,,
جن لوگوں نے رمضان المبارک کا اہتمام کیا انہیں جلد ازجلد  اس فرض کو ادا کردینا چاہیے اس میں سب سے پہلے حقدار آپ کے قریبی عزیز ہیں اور اسکے بعد یتیم مسکین اور بیوہ ہیں جن کو یہ ادا کیا جاسکتا ہے..
اب جو بات ہم کرنا چاہ رہے ہیں جسکا ذکر اوپر اشارۃً کیا وہ ہے ان حالات میں ان لوگوں کا خیال رکھنا جو دیہاڑی دار ہیں جنکو اس لاک ڈاؤن سے سب سے زیادہ نقصان ہوا,
سوال اٹھتا ہے  لاک ڈاؤن کیا کھلا بازاروں میں لوگوں کا ہجوم امڈ آیا ,, کہاں سے یہ قیدی برآمد ہوے ہیں,,بات کی جا ے  بے صبری  کی کہ عوام  کی
جانیں محفوظ رکھنے کے لیے لاک ڈا ون کیا گیا اب بازار کیا کھلے کہ لوگ سب احتیاط  بھول گے
 اللہ کی پناہ ہمیں ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے اگر پاکستان میں دوسرے ممالک کی نسبت کورونا کی تباہ کاریاں  کم ہوئی ہیں تو اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم  اپنے آپ کو سولی پر چڑھا لیں کوئی احتیاط اور نہ کوئی ( ایس. او .پی) کا خیال..
دنیا میں کرونا کے بارے میں  دو قسم کی آراء پائی جاتی ہیں  ایک کا خیال ہے قدرت کی طرف سے یہ آفت آئی ہے اور دوسری طرف لے لوگوں کا گمان ہے , یہ ایک سازش ہے  کہ دنیا کی آبادی کو کم کیا جائے تاکہ انہیں  کنٹرول کرنا آسان ہو...
 قارئین ہمارے لئے تو دونوں باتیں  اہم ترین ہیں اگر سازش ہے تو پھر تو بہت زیادہ احتیاط کی ضرور ہے....
 اور اگر خدانخواستہ اللہ پاک کی طرف سے دنیا پر عذاب ہے تو اس کا کیا تقاضہ ہے , ہمیں سوچنا ہوگا ورنہ جو ہمارے لچھن ہیں یہ بہت بڑے عذاب کو دعوت  دے رہے ہیں لوگ بھوک سے مر رہے اور ہمیں شاپنگ کی پڑی ہوئی واہ رے ہمارے پاکستانیوں...
یورپ اور امریکہ کی تباہی سے سبق سیکھ لیا ہوتا,,, خدارا جھک جاؤ اللہ کے حضور..
بلاؤں سے نجات خیرات اور صلہ رحمی سے ہوتی ہیں اپنے اردگرد کا خیال رہنے والے غریب اور مسکین لوگوں کا خیال رکھیں اور خاص کر ان سفید پوش لوگوں کو دیکھیں جو سوال نہیں کرتے,
 اپنی حفاظت کو بھی اہمیت دیں  اور اسی طرح اپنے اعمال صالح کی فکر کریں آنے والے دنوں میں اپنے آپ کو مزید مستعد رکھیں اگر تو سازش تو یہ پھر ٹریلر تھا اصل کام ابھی پیچھے, نہ عاقبت  اندیشوں کی طرح اپنی دولت کو نہ ضائع کرو اگر اس عید پر پرانے کپڑے پہن لو گے تو کیا ہوگا, کسی غریب کو نئے لے دیں یا انکی مالی مدد کردیں اسطرح بلایں بھی ٹل جایں گے اور صحت کو لاحق ہونے والے خطرات  بھی...
اللہ پاک آپ سب کا حامی و ناصر..

تبصرے

مشہور اشاعتیں

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل تحریر: بشرہ نواز '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' اگرچہ خواتین معاشرےکی معاشی ترقی کے لیے حیات افزا کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کے اس کردار کو شاذونادر ہی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خواتین عام طور پرگھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں اور ملازمت کا انتخاب خواہش کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت کی بنیاد پر کرتی ہیں ۔وہ اپنے خاندان اور گھر کی ذمہ داریوں کے لیے ناکافی وقت دینے پر اپنے آپ کو قصووار تصور کرتی ہیں۔اس دہری ذمہ داری کے سبب ان پر دوگنا بوجھ پڑتا ہے اور نتیجتا ً اانہیں بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے ۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ابھی تک پاکستانی معاشرے نے مکمل طور پر ملازمت پیشہ خاتون کے تصور کو قبول نہیں کیاہے۔ شادی شدہ خواتین کی یہ بھی مشکل ہے کہ سسرال میں کہا جاتا ہے کہ اگرملازمت کرے گی توگھر کون سنبھالے گا؟ خاندان والے کیا سوچیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود ایسی خواتین سب کو وقت دینے اور خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ انھیں ساری دنیا کو باور کرانا ہوتا ہے کہ اپنی ملازمت کے ساتھ وہ گھر، بچے، فیملی اور باقی تمام معاملات خوش اسلوبی سے نبھا رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کو چکی کے دو باٹ کہا جا تا ہے۔۔ جس طرح خواتین زندگی کی گاڑی چلانے میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اسی طرح مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ گھریلو امور میں ان کا ہاتھ بٹایا کریں۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرد عورت کا ہاتھ بٹانے میں اپنی توہین سمجھتا ہے اور ہمارے معاشرے میں کچھ جگہوں پر مرد کا گھر کےکام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹانے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ترقی کی اس جدوجہد میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ اب عورت اس بات پر قناعت نہیں کرسکتی کہ صرف مرد ہی کما کر لائے اورخاندان کی ضروریات پوری کرے۔ آج کی عورت یہ سمجھتی ہے کہ اسے بھی مرد کی طرح آزادی اور مساوات کے اظہار کے لیے ذاتی سرمایہ اور ملکیت چاہیے۔ اس لیے اب دنیا کے ہر ملک میں خواتین کے لیے گھر سے باہر ملازمت کرنا ایک ضرورت بن چکی ہے جس کا ماضی میں تصور بھی ممکن نہ تھا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں جن میں بڑی تعداد میں خواتین میڈیکل،ٹیچنگ، بینکنگ، ٹیلیفون آپریٹر، نرسنگ، گارمنٹس، صحافت، شوشل میڈیا، ، وکالت ، تدریس ، طب ، بزنس ، مارکیٹنگ ، شو بز انجینئرنگ ،اکاونٹنس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر اہنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں شعبہ ابلاغ عامہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز میں اپنے فرائض انجام دے رہی یں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہیں ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو بری الزمہ سمجھتی ہے جو انتہائی احمقانہ سوچ ہے اور یہ سوچ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مرد عورت پر اپنا تسلط چاہتا ہے ۔ اپنے گھر اور خاندان کے حوالے سے آپ کو خود ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور جب آپ اپنے خاندان کے بہترین مفاد میں کوئی فیصلہ کر لیں تو پھر آپ کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آپ کا یہ فیصلہ کچھ دیگر لوگوں سے مختلف کیوں ہے۔ کیونکہ ہر گھر اور خاندان کی ضروریات، حالات، وسائل مختلف ہوتے ہیں ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اسی طرح آپ کا کوئی فیصلہ آپ کے خاندان کے بہترین مفاد میں ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر گھر اور خاندان کے لیے قابلِ عمل ہو۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے کچھ جاہل لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ جہاں ملازمت پیشہ خواتین کو آزاد خیال اور گھر والوں کو ہر معاملے میں اپنا رعب داب رکھنے والی عورت تصور کیا جاتا ھے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں اپنے گھر والوں بچوں کیللے جدوجہد یہی ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔ یہ خواتین بھرپور طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتی ہیں، کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے نبھاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورتیں اپنا معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاہ رہی ہیں، اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنے بچوں اور خاندان کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔ جس طرح علم حاصل کرنا ہر عورت کا حق ہے ، اسی طرح اپنا مستقبل بنانا بھی ہر عورت کا حق ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ملازم پیشہ خواتین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں معاشرے کی گھریلو مشکلات ، پسماندہ سوچ ، صنفی امتیاز ، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور جنسی ہراسانی wo mxklat oiN jw سرفہرست ہیں۔ خواتین کو معاشرے میں مساوی سیاسی ، معاشی و سماجی حقوق دینے والے بالشویک انقلاب کے لیڈر ولادیمیر لینن نے کہا کہ ہماری خواتین شاندار طبقاتی جنگجو ہوتی ہیں ۔ محنت کشوں کی کوئی بھی تحریک خواتین کی شعوری مداخلت کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی ۔ روسی انقلاب ہو یا اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی سعودی عرب یا ایران کی خواتین ، بحرین میں ریاستی جارحیت کے خلاف احتجاج یا ترکی میں جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازش کا راستہ روکنے کی تحریک ، ہر موقع پر خواتین ایک بڑی طاقت کی صورت میں سامنے آئی ہیں اور اپنا کردار ادا ادا کیا ہے۔۔