میڈیا کی ذمہ داری
بشریٰ نواز
ابلاغ کے معنی پیغام پہنچانے کے ہیں ۔ پیغام عوام تک پہنچانے کے لیے مختلف ذرائع جیسے کہ ریڈیو ' ٹی وی اخبارات وغیرہ استعمال کیے جاتے ہیں عام طور پر ان ذرائع کے لیے میڈیا کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اب میڈیا طاقت ور اثرات حاصل کر چکا ہے دنیا بھر میں ہونے والے واقعات کی خبریں اور مختلف موضوعات کے حوالے سے حقائق بھی مہیا کرتا ہے.
میڈیا کی اولین ذمہ داری سچائی کے ساتھ کے ساتھ عوام کو آگاہ کرنا ہے ان کی رہنمائی کرنا تعلیم اور تفریح مہیا کرنا ہے. میڈیا کوئی بھی ہو اپنا اثر رکھتا ہے پرنٹ میڈیا میں اخبارات کا سلسلہ چوبیس گھنٹوں کے طویل عرصےپر محیط ہے اب تو انٹرنیٹ کے باعث اس کی اہمیت اور بھی کم ہو چکی ہے لاکھوں لوگ انٹرنیٹ پر ہی تازہ ترین خبریں اور معلومات حاصل کر لیتے ہیں کچ
میڈیا کا مقصد صرف تفریح دینا ہی نہیں بلکہ عوام کی تربیت کرنا بھی ہے چینل مالکان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو تعمیروتربیت دیں نا کہ انہیں برائی کی طرف راغب کریں میڈیا چینلز کی بہتات اور غیر معیاری پروگرامز نے ہماری تہذیب کو بری طرح بدل دیا ہے ہر چینل پڑوسی دشمن ملکوں کے ڈرامے دکھاتا ہے جس کی وجہ سے ہمارے اپنے معاشرے میں بہت بگاڑ پیدا ہو چکا ہے نہایت ضروری ہے کہ حکومت ایسی پالیسیاں بنائے جو غیر ملکی مواد پر مکمل پابندی لگا دے میڈیا اور پیمرا بھی اپنی ذمہ داریاں نبھائے .
ابلاغ کے معنی پیغام پہنچانے کے ہیں ۔ پیغام عوام تک پہنچانے کے لیے مختلف ذرائع جیسے کہ ریڈیو ' ٹی وی اخبارات وغیرہ استعمال کیے جاتے ہیں عام طور پر ان ذرائع کے لیے میڈیا کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اب میڈیا طاقت ور اثرات حاصل کر چکا ہے دنیا بھر میں ہونے والے واقعات کی خبریں اور مختلف موضوعات کے حوالے سے حقائق بھی مہیا کرتا ہے.
میڈیا کی اولین ذمہ داری سچائی کے ساتھ کے ساتھ عوام کو آگاہ کرنا ہے ان کی رہنمائی کرنا تعلیم اور تفریح مہیا کرنا ہے. میڈیا کوئی بھی ہو اپنا اثر رکھتا ہے پرنٹ میڈیا میں اخبارات کا سلسلہ چوبیس گھنٹوں کے طویل عرصےپر محیط ہے اب تو انٹرنیٹ کے باعث اس کی اہمیت اور بھی کم ہو چکی ہے لاکھوں لوگ انٹرنیٹ پر ہی تازہ ترین خبریں اور معلومات حاصل کر لیتے ہیں کچ
میڈیا کا مقصد صرف تفریح دینا ہی نہیں بلکہ عوام کی تربیت کرنا بھی ہے چینل مالکان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو تعمیروتربیت دیں نا کہ انہیں برائی کی طرف راغب کریں میڈیا چینلز کی بہتات اور غیر معیاری پروگرامز نے ہماری تہذیب کو بری طرح بدل دیا ہے ہر چینل پڑوسی دشمن ملکوں کے ڈرامے دکھاتا ہے جس کی وجہ سے ہمارے اپنے معاشرے میں بہت بگاڑ پیدا ہو چکا ہے نہایت ضروری ہے کہ حکومت ایسی پالیسیاں بنائے جو غیر ملکی مواد پر مکمل پابندی لگا دے میڈیا اور پیمرا بھی اپنی ذمہ داریاں نبھائے .


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں