اپنا قبلہ درست کریں عمران خان صاحب!

بشریٰ نواز۔۔۔۔۔۔
ایک بندہ کسی دوسرے ملک سے آیا، ایک صحابی سے پوچھا کہ آپ کے بادشاہ کو ملنا ہے۔ صحابی نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
“جائو، دیکھو کسی درخت کے سائے میں سویا ہوا ہوگا” اور جلد ہی اس شخص نے امیرالمومین حضت عمرؓ کو پا لیا۔ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ایک درخت کے سائے میں پتھر کا سرھانہ بنائے سوئے ہوئے تھے۔ جاگے تو دریافت کیا:
“بھائی! کیا کام تھا؟”
“صرف آپ سے ملنے آیا تھا، دیکھنا چاہتا تھا کہ ساڑھے بائیس لاکھ مربع میل کا حکمران کیسا ہے؟”
“تو پھر کیا دیکھا؟”
“نہ تو آپ کا لباس بادشاہوں والا نہ لائو لشکر نہ پروٹوکول اور آپ تو آرام کر رہے ہیں”
فرمانے لگے:” میری سلطنت آرام اور سکون سے چل رہی ہے تو مجھے تھوڑا آرام کر ہی لینا چاہیے”
الفاظ اور بیان میں کچھ الفاظ کا ہیرپھیر ہوسکتا ہے لیکن واقعہ یہی ہے۔
اب ذرا مدینے کے سفر پہ گامزن پاکستانی ریاست کا احوال بھی دیکھتے ہیں۔ جہاں تک خان صاحب کی ذات کا تعلق ہے، اس پہ کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا البتہ اقدام درست سمت کی طرف نہیں جارہے۔ اس کی مثال وزارتوں اور اداروں میں ناموزوں افراد کی تقرریاں ہیں۔
اس کی سب سے بڑی مثال وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ہے۔ فواد چوہدری کو آپ جہاں بھی لگائیں گے وہ وزیر اطلاعات کے فرائض ہی انجام دیتے نظر آئیں گے۔ اب وزیراطلاعات کو دیکھ لیں۔ جہنیں لائیو سٹاک کی وزارت دی جاسکتی تھی انھیں وزیراطلاعات لگادیا گیا۔
وازرت اطلاعات سے ان کا کیا لینا دینا۔ محترمہ فردوس عاشق اعوان الفاظ اور تلفظ تک سے نابلد ہیں۔ اگر پیپلز پارٹی نے انہیں اس کام پہ لگایا تھا تو زرداری صاحب کی علمی قابلیت کو بھی مدنظر رکھیں۔ اس وقت کی حکومت تو انعامی یالاٹری والی تھی۔
جناب وزیراعظم! قوم کو آپ سے بڑی توقعات ہیں۔ صرف ایک ہی بیانیہ چل رہا ہے کہ “میں کسی کو NRO نہیں دوں گا۔ “
محترم! کارکردگی درکار ہے کارکردگی۔ ابھی چند دن پہلے ایک ٹیکنیکل ادارے پر ایک ایسے محترم مسلط تھے جن کا انجیئنرنگ اور ٹیکنالوجی سے دور دور کا کوئی واسطہ نہیں تھا. Right person on right job…
جب تک اس فارمولے پہ عمل نہیں کریں گے، کچھ ہاتھ نہیں آنے والا ۔ ہر جگہ بارہواں کھلاڑی نہیں چل سکتا، ریلو کٹوں سے ملک نہ چلوائیں۔ آپ ہر لیول پہ آ کے رہ بھی سکتے ہیں اور کارکردگی بھی جانچ سکتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ آپ دن رات جاگ رہے ہیں،آپ کی محنت ضرور رنگ لائے گی اگرآپ صحیح افراد کا انتخاب کریں گے ورنہ کارکردگی صفر رہے گی ۔۔۔
آپ کے نیچے یقیناً پرانے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جنہوں نے اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کیا۔ جی ہاں! سرکاری افسران جن کی جائیدادیں بیرون ملکوں تک پھیلی ہوئی ہیں، وہ آپ کو کیوں اچھا مشورہ دیں گے بھلا، وہ تو اندرکھاتے اپوزیشن کے خیر خواہ اور تابعدار ہیں، وہ آپ کی حکومت کے خاتمے کے انتظار میں ہیں۔
پرویز مشرف نے آپ کے بارے میں کہاتھا: باتیں کم کریں اور عمل زیادہ پروٹوکول اور ڈیکورم کے چکر سے آزاد ہوں، عام مارکیٹ سے لوگ لیں، لمبی زبانوں اور بڑی ڈگریوں والوں سے پرہیز کریں۔ اللہ نے آپ کو موقع دیا اچھی تاریخ بنانے کا ۔
زیادہ جذباتی تقاریر سے پرہیز فرمائیں اور اچھے کام کریں۔ فواد چوہدری اگر سائنس اور ٹیکنالوجی سنبھالے گا تو مذہبی امور کی وزارت کسی اکانومسٹ کو دے دیں کیا فرق پڑتا ہے ؟ اعجاز احمد نے بھی ورلڈ کپ فائنل میں بولنگ کرلی تھی۔ کرکٹ اور حکومت میں فرق سمجھیں ورنہ تاریخ یہ تو کہے گی بندہ ایماندار تھا لیکن کر کچھ نہ سکا۔۔۔
ہم نے آپ کو ووٹ دیا ہے، بحث ومباحثے کیے ہیں اور آج بھی ہراول دستے میں شامل ہیں لیکن آپ کو اپنے گمنام سپاہیوں کی بات اور سوچ کا پتہ ہی نہیں۔ اپوزیشن آپ کو جذباتی کرکے ٹریپ کرنا چاہتی ہے اور آپ ؟؟؟؟
لوگ ٹیکس دینا چاہتے ہیں لیکن طریقہ کار نہایت پیچیدہ ہے، اس کی تو بس ایک رسید ہونی چاہیے جیسے بینک میں بجلی کا بل جمع کرایا جاتا ہے۔ یہ پرانے بیوروکریٹ جو محکموں میں بیٹھ کر حرام کے پیسوں سے اپنا پیٹ بھر رہے ہیں وہ کبھی آپ کو ایسا نہیں کرنے دیں گے۔ کاغذات کا الجھائو ہی تو ان کی کمائی ہے۔ وکیلوں کے الگ سے پیٹ بھرو اور محکموں کے الگ سے !!!!!!!
سرکاری ملازمین کا ٹیکس محکمانہ طور پر حکومت کو جاتا ہے، اب ریٹرن جمع کرانے والا الگ سے فیس مانگتا ہے حالانکہ انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کو ہر سال انہیں سرٹیفیکٹ دینا چاہیے کہ آپ نے گورنمنٹ کو اتنے پیسے ٹیکس دیا۔
خدا کیلے اس کام کو نہایت آسان کریں ورنہ ایک ٹکہ بھی حکومت کو نہیں ملنے والا۔۔۔
اگر آپ ان باتوں کو پلے باندھ لیں تو ٹھیک ورنہ کل کو آپ کی جگہ کوئی اور بیٹھا ہوگا اور یہی راگ الاپ رہا ہوگا۔

تبصرے

مشہور اشاعتیں

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل تحریر: بشرہ نواز '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' اگرچہ خواتین معاشرےکی معاشی ترقی کے لیے حیات افزا کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کے اس کردار کو شاذونادر ہی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خواتین عام طور پرگھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں اور ملازمت کا انتخاب خواہش کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت کی بنیاد پر کرتی ہیں ۔وہ اپنے خاندان اور گھر کی ذمہ داریوں کے لیے ناکافی وقت دینے پر اپنے آپ کو قصووار تصور کرتی ہیں۔اس دہری ذمہ داری کے سبب ان پر دوگنا بوجھ پڑتا ہے اور نتیجتا ً اانہیں بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے ۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ابھی تک پاکستانی معاشرے نے مکمل طور پر ملازمت پیشہ خاتون کے تصور کو قبول نہیں کیاہے۔ شادی شدہ خواتین کی یہ بھی مشکل ہے کہ سسرال میں کہا جاتا ہے کہ اگرملازمت کرے گی توگھر کون سنبھالے گا؟ خاندان والے کیا سوچیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود ایسی خواتین سب کو وقت دینے اور خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ انھیں ساری دنیا کو باور کرانا ہوتا ہے کہ اپنی ملازمت کے ساتھ وہ گھر، بچے، فیملی اور باقی تمام معاملات خوش اسلوبی سے نبھا رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کو چکی کے دو باٹ کہا جا تا ہے۔۔ جس طرح خواتین زندگی کی گاڑی چلانے میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اسی طرح مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ گھریلو امور میں ان کا ہاتھ بٹایا کریں۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرد عورت کا ہاتھ بٹانے میں اپنی توہین سمجھتا ہے اور ہمارے معاشرے میں کچھ جگہوں پر مرد کا گھر کےکام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹانے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ترقی کی اس جدوجہد میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ اب عورت اس بات پر قناعت نہیں کرسکتی کہ صرف مرد ہی کما کر لائے اورخاندان کی ضروریات پوری کرے۔ آج کی عورت یہ سمجھتی ہے کہ اسے بھی مرد کی طرح آزادی اور مساوات کے اظہار کے لیے ذاتی سرمایہ اور ملکیت چاہیے۔ اس لیے اب دنیا کے ہر ملک میں خواتین کے لیے گھر سے باہر ملازمت کرنا ایک ضرورت بن چکی ہے جس کا ماضی میں تصور بھی ممکن نہ تھا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں جن میں بڑی تعداد میں خواتین میڈیکل،ٹیچنگ، بینکنگ، ٹیلیفون آپریٹر، نرسنگ، گارمنٹس، صحافت، شوشل میڈیا، ، وکالت ، تدریس ، طب ، بزنس ، مارکیٹنگ ، شو بز انجینئرنگ ،اکاونٹنس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر اہنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں شعبہ ابلاغ عامہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز میں اپنے فرائض انجام دے رہی یں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہیں ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو بری الزمہ سمجھتی ہے جو انتہائی احمقانہ سوچ ہے اور یہ سوچ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مرد عورت پر اپنا تسلط چاہتا ہے ۔ اپنے گھر اور خاندان کے حوالے سے آپ کو خود ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور جب آپ اپنے خاندان کے بہترین مفاد میں کوئی فیصلہ کر لیں تو پھر آپ کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آپ کا یہ فیصلہ کچھ دیگر لوگوں سے مختلف کیوں ہے۔ کیونکہ ہر گھر اور خاندان کی ضروریات، حالات، وسائل مختلف ہوتے ہیں ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اسی طرح آپ کا کوئی فیصلہ آپ کے خاندان کے بہترین مفاد میں ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر گھر اور خاندان کے لیے قابلِ عمل ہو۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے کچھ جاہل لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ جہاں ملازمت پیشہ خواتین کو آزاد خیال اور گھر والوں کو ہر معاملے میں اپنا رعب داب رکھنے والی عورت تصور کیا جاتا ھے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں اپنے گھر والوں بچوں کیللے جدوجہد یہی ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔ یہ خواتین بھرپور طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتی ہیں، کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے نبھاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورتیں اپنا معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاہ رہی ہیں، اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنے بچوں اور خاندان کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔ جس طرح علم حاصل کرنا ہر عورت کا حق ہے ، اسی طرح اپنا مستقبل بنانا بھی ہر عورت کا حق ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ملازم پیشہ خواتین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں معاشرے کی گھریلو مشکلات ، پسماندہ سوچ ، صنفی امتیاز ، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور جنسی ہراسانی wo mxklat oiN jw سرفہرست ہیں۔ خواتین کو معاشرے میں مساوی سیاسی ، معاشی و سماجی حقوق دینے والے بالشویک انقلاب کے لیڈر ولادیمیر لینن نے کہا کہ ہماری خواتین شاندار طبقاتی جنگجو ہوتی ہیں ۔ محنت کشوں کی کوئی بھی تحریک خواتین کی شعوری مداخلت کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی ۔ روسی انقلاب ہو یا اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی سعودی عرب یا ایران کی خواتین ، بحرین میں ریاستی جارحیت کے خلاف احتجاج یا ترکی میں جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازش کا راستہ روکنے کی تحریک ، ہر موقع پر خواتین ایک بڑی طاقت کی صورت میں سامنے آئی ہیں اور اپنا کردار ادا ادا کیا ہے۔۔