پاک بھارت جنگ امکانات کیا ہیں؟

بشریٰ نواز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم نے جب سے آنکھ کھولی ہے، پاکستان میں سکون کم دیکھا ہے اور انتشار زیادہ۔ آئے روز سرحدوں پرگولہ باری۔ کبھی لائن آف کنٹرول پر، کبھی پاک افغان بارڈر پر اور کبھی پاکستان بھارت کی سرحد پر۔

پاکستان اور ہندوستان اب تک دوبڑی جنگیں لڑ چکے ہیں، شاید اب فائنل رائونڈ کی تیاری ہے۔ اللہ پاک رحم فرمائے جنگیں کون سا مسائل کا حل ہوا کرتی ہیں ۔ ہمارے خال میں تو جنگ ٹلتی نظر نہیں آرہی۔ اس وقت چاروں طرف کے حالات یہی عندیہ دے رہے ہیں۔ اللہ کریم ہی بہتر جانتے ہیں۔

عسکری تجزیہ نگاروں کی تحریروں کا مطالعہ کرنے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اس جنگ کا بہت پہلے منصوبہ بنالیاگیاتھا، بس! حالات کی موافقت کا انتظار تھا۔ اب چونکہ عالمی دہشت گردوں نے پاکستان میں موجود اپنے سہولت کاروں کے ساتھ مل کر ملک کو اس حد تک کمزور کردیا ہے کہ جنگ کا خطرہ نظر واضح نظرآنے لگا ہے۔ اس کے دیگراسباب کیا ہیں:

اول: پاکستان کی معیشت کو خاص پلاننگ کے تحت کمزور کردیا گیا۔

دوم: الیکشن 2018 کے بعد لولی لنگڑی جمہوریت معرض وجود میں آئی جو کوئی بھی قانون سازی نہیں کرسکتی۔۔۔ قومی اسمبلی ہو یا صوبائی، یہاں ایک سال کے دوران میں سوائے فساد کے کچھ نہ ہوسکا۔

سوم: پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی مراسم جن میں CPEC قابل ذکر ہے۔ امریکا، اسرائیل، ہندوستان اور کچھ اپنے مسلمان بھائی بھی اس منصوبے کے چھپے ہوئے مخالف ہیں۔

چہارم : ہندوستان میں ہندو انتہا پسندوں کی حکومت جن کا ماٹو ہی ہندوستان سے مسلمانوں کو نکالنا ہے۔

پنجم: پاکستان کے پاس ہندوستان کے ساتھ جنگ کا ایک ہی جواز ہے اور وہ ہے کشمیر جس پر بھارت کا قبضہ ہے۔ پاکستان کے پاس بھی کشمیر کا کچھ حصہ ہے جس کی ایک آزادانہ حیثیت ہے۔ اب جبکہ ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر کی آزادانہ حثیت ختم کردی ہے، اس نے پچاس سے زائد روز سے اس کا محاصرہ کر رکھا۔ یہ تصادم کی بڑی وجہ ثابت ہوگا، ہندوستان سپریم کورٹ نے بھی کمزور سا آرڈر پاس کیا ہے اور اپنی فوج کو موقع دیا ہے کہ کچھ کرسکتے ہو تو کر لو۔

ششم : یوں تو ہر ملک میں کچھ نہ کچھ دشمن قوتوں کے آلہ کار ہوتے ہیں لیکن اس معاملے میں پاکستان کافی “زرخیز” ثابت ہوا ہے ، بھارت کے تابع داروں کی بڑی تعداد یہاں‌ موجود ہے۔

ہفتم: پاکستان میں مختلف مکاتب فکر کے لوگ بستے ہیں۔ ہم سب کو ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا احترام کرنا چاہیے، فرقہ واریت سے جس قدر ہوسکے دور رہناچاہئے کیونکہ یہ سب سے خطرناک بیماری ہے۔

ہشتم : اپوزیشن کا لانگ مارچ، ایک ایسے وقت میں ہونے جارہاہے جب دشمن پوری طرح حملے کے لیے تیار ہے۔

کبھی کبھی ہم پریشان ہو جاتے ہیں کہ کوڑے کی فصل کی اس قدر زیادہ آبیاری ہوئی، اس کے مقاصد کیا تھے؟

آنے والے دنوں میں حالات کسی اچھی سمت جائیں، مشکل محسوس ہوتاہے۔ جنگ کے خدشات بہت زیادہ ہیں اللہ پاک سے دعا ہے کہ پاکستان کو شر انگیز اور ملک دشمن قوتوں سے محفوظ رکھے۔ آمین
ہم اس ملک کے باسی ہیں۔ ہمیں ہی اس مٹی کا قرض ہر طرح سے ادا کرنا ہے ، قلم سے، زبان سے یا پھر ہتھیار سے۔

تبصرے

مشہور اشاعتیں

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل تحریر: بشرہ نواز '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' اگرچہ خواتین معاشرےکی معاشی ترقی کے لیے حیات افزا کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کے اس کردار کو شاذونادر ہی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خواتین عام طور پرگھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں اور ملازمت کا انتخاب خواہش کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت کی بنیاد پر کرتی ہیں ۔وہ اپنے خاندان اور گھر کی ذمہ داریوں کے لیے ناکافی وقت دینے پر اپنے آپ کو قصووار تصور کرتی ہیں۔اس دہری ذمہ داری کے سبب ان پر دوگنا بوجھ پڑتا ہے اور نتیجتا ً اانہیں بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے ۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ابھی تک پاکستانی معاشرے نے مکمل طور پر ملازمت پیشہ خاتون کے تصور کو قبول نہیں کیاہے۔ شادی شدہ خواتین کی یہ بھی مشکل ہے کہ سسرال میں کہا جاتا ہے کہ اگرملازمت کرے گی توگھر کون سنبھالے گا؟ خاندان والے کیا سوچیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود ایسی خواتین سب کو وقت دینے اور خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ انھیں ساری دنیا کو باور کرانا ہوتا ہے کہ اپنی ملازمت کے ساتھ وہ گھر، بچے، فیملی اور باقی تمام معاملات خوش اسلوبی سے نبھا رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کو چکی کے دو باٹ کہا جا تا ہے۔۔ جس طرح خواتین زندگی کی گاڑی چلانے میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اسی طرح مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ گھریلو امور میں ان کا ہاتھ بٹایا کریں۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرد عورت کا ہاتھ بٹانے میں اپنی توہین سمجھتا ہے اور ہمارے معاشرے میں کچھ جگہوں پر مرد کا گھر کےکام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹانے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ترقی کی اس جدوجہد میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ اب عورت اس بات پر قناعت نہیں کرسکتی کہ صرف مرد ہی کما کر لائے اورخاندان کی ضروریات پوری کرے۔ آج کی عورت یہ سمجھتی ہے کہ اسے بھی مرد کی طرح آزادی اور مساوات کے اظہار کے لیے ذاتی سرمایہ اور ملکیت چاہیے۔ اس لیے اب دنیا کے ہر ملک میں خواتین کے لیے گھر سے باہر ملازمت کرنا ایک ضرورت بن چکی ہے جس کا ماضی میں تصور بھی ممکن نہ تھا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں جن میں بڑی تعداد میں خواتین میڈیکل،ٹیچنگ، بینکنگ، ٹیلیفون آپریٹر، نرسنگ، گارمنٹس، صحافت، شوشل میڈیا، ، وکالت ، تدریس ، طب ، بزنس ، مارکیٹنگ ، شو بز انجینئرنگ ،اکاونٹنس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر اہنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں شعبہ ابلاغ عامہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز میں اپنے فرائض انجام دے رہی یں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہیں ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو بری الزمہ سمجھتی ہے جو انتہائی احمقانہ سوچ ہے اور یہ سوچ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مرد عورت پر اپنا تسلط چاہتا ہے ۔ اپنے گھر اور خاندان کے حوالے سے آپ کو خود ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور جب آپ اپنے خاندان کے بہترین مفاد میں کوئی فیصلہ کر لیں تو پھر آپ کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آپ کا یہ فیصلہ کچھ دیگر لوگوں سے مختلف کیوں ہے۔ کیونکہ ہر گھر اور خاندان کی ضروریات، حالات، وسائل مختلف ہوتے ہیں ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اسی طرح آپ کا کوئی فیصلہ آپ کے خاندان کے بہترین مفاد میں ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر گھر اور خاندان کے لیے قابلِ عمل ہو۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے کچھ جاہل لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ جہاں ملازمت پیشہ خواتین کو آزاد خیال اور گھر والوں کو ہر معاملے میں اپنا رعب داب رکھنے والی عورت تصور کیا جاتا ھے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں اپنے گھر والوں بچوں کیللے جدوجہد یہی ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔ یہ خواتین بھرپور طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتی ہیں، کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے نبھاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورتیں اپنا معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاہ رہی ہیں، اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنے بچوں اور خاندان کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔ جس طرح علم حاصل کرنا ہر عورت کا حق ہے ، اسی طرح اپنا مستقبل بنانا بھی ہر عورت کا حق ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ملازم پیشہ خواتین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں معاشرے کی گھریلو مشکلات ، پسماندہ سوچ ، صنفی امتیاز ، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور جنسی ہراسانی wo mxklat oiN jw سرفہرست ہیں۔ خواتین کو معاشرے میں مساوی سیاسی ، معاشی و سماجی حقوق دینے والے بالشویک انقلاب کے لیڈر ولادیمیر لینن نے کہا کہ ہماری خواتین شاندار طبقاتی جنگجو ہوتی ہیں ۔ محنت کشوں کی کوئی بھی تحریک خواتین کی شعوری مداخلت کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی ۔ روسی انقلاب ہو یا اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی سعودی عرب یا ایران کی خواتین ، بحرین میں ریاستی جارحیت کے خلاف احتجاج یا ترکی میں جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازش کا راستہ روکنے کی تحریک ، ہر موقع پر خواتین ایک بڑی طاقت کی صورت میں سامنے آئی ہیں اور اپنا کردار ادا ادا کیا ہے۔۔