جعلی انجکشن

پنجاب میں جعلی انجیکشن لگنے سے متعدد افراد بینائی سے محروم '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''پاکستان کے صوبہ پنجاب کے کے چند اضلاع میں ذیابیطس کے مریضوں کے آنکھوں کے علاج میں استعمال ہونے والے انجیکشن آوسٹن کے استعمال کے باعث مبینہ طور پر درجنوں مریض بینائی سے محروم ہو گئے ہیں۔ نگران وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ندیم جان اور صوبہ پنجاب کے نگران وزیر صحت ڈاکٹر جمال ناصر کے مطابق آنکھوں کی بینائی متاثر کرنے والے انجیکشن کے استعمال اور فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔اور تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے جبکہ پولیس اس انجیکشن کو فراہم کرنے والوں کی تلاش کر رہی ہے۔ انجیکشن آوسٹن ہے کیا اور کیا یہ صرف آنکھوں کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے؟ اس بارے میں آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر ناصر چوہدری نے اس بارے میں بتایا کہ ’اس انجیکشن میں اینٹی کینسر مواد بھی شامل ہوتا ہے جو عام طور پر کینسر کے مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ’اس کے علاوہ یہ انجیکشن عموماً شوگر کے مریضوں میں پائی جانے والی بیماری ’ریٹینو پیھتی‘ کے علاج کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔‘ ڈاکٹر ناصر چوہدری کے مطابق ’ریٹینو پیھتی‘ نامی بیماری میں مریض کا شوگر لیول زیادہ ہونے کی وجہ سے آنکھوں میں موجود باریک شریانیں لیک ہونا شروع ہو جاتی ہیں، جو نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ اس کے بعد آنکھوں میں نئی شریانیں بننا شروع ہو جاتی ہیں جو بہت مضبوط نہیں ہوتی ہیں۔ اس تمام تر عمل کو روکنے کے لیے ایسے مریضوں میں اس انجیکشن کا استعمال کیا جاتا ہے۔ آوسٹن نامی انجیکشن کے استعمال پر کئی ممالک میں پابندی ہے جس میں امریکہ اور انڈیا بھی شامل ہیں تو پھر پاکستان میں اس کا استعمال کیوں کیا جا رہا ہے؟ اس انجیکشن کے پاکستان میں استعمال کے بارے میں آنکھوں کے ڈاکٹر ناصر چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ انجیکشن کم قیمت کی وجہ سے دنیا کے ان ممالک میں بھی استعمال کئے جا رہے ہیں ، جہاں اس پر پابندی ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ اس انجیکشن میں استعمال ہونے والا سالٹ اگر ایک مریض کو بارہ سو میں پڑتا ہے تو اسی نسل کا دوسرا انجیکشن ہزاروں روپے میں ملتا ہے، اس لیے اس انجیکشن کے استعمال کو بند نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ایک سوالیہ نشان ہے؟؟یہ انجیکشن ’روش‘ نامی کمپنی بناتی تھی جس نے خود ہی چند کیسز میں مسئلہ سامنے آنے کے بعد اس دوائی کے مخصوص مریضوں میں اس کے استعمال کو روک دیا تھا۔ ڈاکٹر جمال ناصر نے بتایا کہ ’یہ انجکشن سو ملی گرام کا ہوتا ہے۔ تاہم ایک مریض کو 1.2 ملی گرام کی ڈوز کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ بارہ سے تیرہ سو روپے تک فروخت ہو رہا ہے، جس میں بے حد منافع ہے۔ان کے مطابق ’یہ بڑے ظلم کی بات ہے کہ جو لوگ ایک انجیکشن پر ایک، ایک لاکھ روپے کا منافع لے رہے ہیں۔ کیا ان لوگوں نے سوچا جو لوگ عمر بھر کیلئے اپنی نینائی سے محروم ہو جائینگے ان پر کیا گزرے گی ؟۔ نہیں کاش کہ ہم یہ بھی سوچ لیتے مگر دولت کے لالچ نے انکی آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے اور انہیں ہر طرف دولت ہی سجھائی دیتی ہے۔ جعلی ادویات کی گرم بازاری میں کمی آئی ہے نہ ہی حکمرانوں کی سیاسی لن ترانیاں رکنے کا نام لے رہی ہیں۔ ہر طرف افراتفری کا عالم ہے ، کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ، کھانے کے تیل میں ملاوٹ، پیٹرول میں ملاوٹ حتیٰ کہ پھلوں اور سبزیوں میں سکرین کے انجیکشن لگا کر انہیں میٹھا کرنے کی مکروہ حرکت، کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہم کہا ں جا رہے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امید اور ایمان کی بھی لاکھوں مشعلیں روشن ہیں۔ لوگ اپنے ضمیر اور اپنے مضبوط ارادے سے یقین اور توکل کی کرنوں سے دلوں کو منور کر رہی ہیں۔ طبی ہدایات اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل کرنے اور صفائی ستھرائی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ مگر ااسکے ساتھ ساتھ میں نے اہنی زندگی میں ایسے ایسے لوگ بھی دیکھے جو حج، روزہ اور نماز پڑھنے کے باوجود انکی حس لالچ کم نیہں ہوتی اور وہ دنیا کا ہر وہ کام کرتے ہیں جس سے انسانیت بھی شرما جائے، بڑے بڑے سرمایہ دار، جاگیر دار ، اور سیاسی مچھندر پاکستان میں ھر کاروبار پر چھائے ہوئے ہیں اور وہ اپنی مرضٰی سے کچھ بھی کر لیں کبھی بھی قانون کے شکنجے میں نہیں آتے اور انکے ضمیر اتنے مردہ ہو چکے ہیں کہ وہ انسانوں میں موت بانٹنے سے بھی نہیں ڈرتے۔ یہ معاملہ بھی کچھ دن خبروں میں ہائی لا ئٹ ہوگا اسکے بعد ہم اسے بھلا کر کسی اور سانحے کے منتظر ہونگے۔ ہمارے اس معاشرے میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو انسانیت کا حقیقی درد رکھنے والے ہیں روزانہ لاکھوں کی تعداد میں محتاجوں اور بے روزگار ہونے والوں اور مریضوں کا سہارا بن رہے ہیں۔ بہت سے لوگ گھروں میں بیٹھ کر کتاب سے جڑ رہے ہیں۔ اپنے اہلِ خانہ کو وقت دے رہے ہیں۔ بچوں میں محبتیں بانٹ رہے ہیں اور اپنے بچوں میں حلال رزق بانٹ رہے ہیں۔ دولت کا بیوپار کرنے والے یہ وہ لوگ ہیں جنکی فکری، اخلاقی اور ذہنی تربیت نہیں ہوئی اور یہ لوگ جو آنکھ کھلتے ہی خود کو دولت مند کرنے کے چکروں میں ہوتے ہیں ان لوگوں کو کم از کم اتنا تو سوچنا چاہیے کہ عذاب کے نزول کی گھڑیوں میں خدا کی بغاوت کرنے والوں کو تو توبہ کی مہلت بھی نہیں ملتی اور یہ دولت یہیں رکھی رہ جائیگی۔ اس انسانی المیے کے موقع پر تو حلال منافع سے بھی ہاتھ کھینچ لینا چاہیے۔ چہ جائیکہ ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی اور جعل سازی کا قبیح کاروبار شروع کر دیا جائے اور لوگوں کی جانوں کا بھی خیال نہ کیا ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ جو جو بھی اس گھناونے کاروبار میں ملوث ہیں انہیں پھانسی پر لٹکایا جائے تاکہ آئیندہ کسی خبیث کو یہ حرکت کرنے کی جرات نہ ہو۔ ۔

تبصرے

مشہور اشاعتیں