جوائنٹ فیملی
ہمارا معاشرہ بکھرتا ھوا جا رھا ھے جسطرح معاشرہ انتشار کا شکار ھے اسی طرح گھر بھی ٹوٹ ٹوٹ کر بکھر رہے ہیں اسی وجہ سے استحکام میں کمی آتی جا رہی ھے
 اتفاق ایک ایسی طاقت ھے جو افراد کو اکٹھا کرکے ایک مضبوط چٹان بنا دیتی ھے اگر کوئی توڑنا بھی چاہے تو توڑ نہیں سکتا ۔۔۔
اب ہو کیا رھا ھے اور اسکی وجوھات کیا ہیں اس کی طرف چلتے ہیں
 ایک باپ کی اولاد جب ایک دسترخوان سے پل کر بڑی ھوتی ھے تو شادی ھونے کے بعد ہر بچہ اپنا الگ گھر بناتا ھے اور اسطرح دوسرے بھائی بھی اپنا بوریا بستر سمیٹ کر الگ تھلگ زندگی گزارنا شروع کر دیتے ہیں  اور یہ ٹوٹ پھوٹ تب تک ھوتی رہتی ھے جب تک آخری بھائی کی شادی نہیں ھوجاتی ۔۔۔
ہمارے مشاہدے میں آیاھے ایسے لوگ بھی آۓ ہیں جو اپنے والدین کی واحد اولاد ھوتے ہیں اور جب انکی شادی ھوجاتی ھے تو وہ بھی اپنے والدین کو تنہا چھوڑ کر الگ زندگی بسر کرنا شروع کر دیتے ہیں اور ہم نے ایسے بھی افراد کو دیکھا ھے جو اپنے ہی والدین کو گھر سے باہر ہھینک دیتے ہیں ۔۔م
اس معاملے میں اب بڑا قصور وار کون ھے کیا تعلیم ھے یا معاشرہ۔۔۔۔۔
 لیکن ایسا نہیں ھے۔۔۔ ھوسکتا ھے اس میں معاشرے اور تعلیم کا بھی کچھ حصہ ھو لیکن ہماری نظر میں سب سے زیادہ قصور وار  والدین ھوتے ہیں اگر اماں جان نے اپنی ساس اور سسر کے ساتھ زندگی گزاری ھوگی تو انکی اولاد کبھی اپنے والدین کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاے گی
 وہ لڑکی جو بہو بن کر نئے گھر میں آئی کیا اس نے اپنے والدین کے  ایک اکٹھے گھر میں  پرورش پائی
 لیکن وہی بچی جب بہو بنی اپنے گھر کا مطالبہ کر دیا اس علیدگی میں سب بڑا فساد ساس بہو کی لڑائی ھے جو ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتیں اور پھر ایک ہنستہ باتہ گھر میدان جنگ بنا
ہھر پتہ چلا وہ اپنی میاں کو لے کر الگ ھوگی اب یہاں ایک بات نہائیت باریکی کی ھے اگر آنے والی بہو ایک اچھے اور بڑے خاندان سے آئی ھوگی تو کبھی گھر نہیں توڑے گی لیکن اگر وہ ایک بالکل چھوٹی فیملی سے آۓ گی تو اسکا ظرف بھی ویسا ہی ھوگا۔۔۔
ہماری سوچ کا کہاں کہاں بیڑہ غرق نہیں ھوا بیٹی کی شادی کہاں کرنی ھے چھوٹی فیملی ھونی چاہیے اپنا دل چھوٹا تھا انتخاب چھوٹا کیا اور بڑا اور مضبوط گھر کہاں سے معرض میں آۓ گا۔۔۔۔
اب ذرا مضمون کو سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں بڑے خاندان میں اگر خدا نخواستہ کوئی پرابلم آ جاے گھر کے سبھی لوگ بھاگ دوڑ کر کے جلد مسائل کو حل کر لیتے ہیں جبکہ چھوٹی اور الگ فیملی میں پڑا ھو ا مریض بھی مصیبت کا شکار ھو جاتا ھے اتفاق اور جوائنٹ فیملی اللہ کی رحمت ھے جبکی الگ تھلگ اور چھوٹی فیملی کمزور ترین فیملی ھے جسکو جس کا جی چاھے دھمکاے ڈراۓ ہمیشہ اپنے مرکز سے جڑے رہنے والے لوگوں کا برادری اور معاشرے پے رعب اور دب دبا رہتاھے کوئی گروہ یا جتھا اس طرف منہ نہیں کرتا
 لہذہ ہم اپنی بہنوں سے ایک ہی گزارش کریں گے اپنے بچوں کو اتحاد اور اتفاق کی نصیحت کرتے رھا کریں اس بات کا احساس تب زیادہ ہوتا ھے جب اپنے لخت جگر ہمیں چھوڑ کو دور گھر جا کر انجان سی زندگی گزارنا شروع کر دیتے ہیں یہ تبھی ممکن جب ہمارا ظرف اور برداشت بڑھا ھوگا۔

تبصرے

  1. مشترکہ خاندانی نظام بہترین ہے جہاں ابھی بھی سب ایک دوسرے کہ خیال رکھتے ہیں۔ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شامل ہوتے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. مشترکہ خاندانی نظام بہترین ہے جہاں ابھی بھی سب ایک دوسرے کہ خیال رکھتے ہیں۔ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شامل ہوتے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل تحریر: بشرہ نواز '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' اگرچہ خواتین معاشرےکی معاشی ترقی کے لیے حیات افزا کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کے اس کردار کو شاذونادر ہی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خواتین عام طور پرگھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں اور ملازمت کا انتخاب خواہش کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت کی بنیاد پر کرتی ہیں ۔وہ اپنے خاندان اور گھر کی ذمہ داریوں کے لیے ناکافی وقت دینے پر اپنے آپ کو قصووار تصور کرتی ہیں۔اس دہری ذمہ داری کے سبب ان پر دوگنا بوجھ پڑتا ہے اور نتیجتا ً اانہیں بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے ۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ابھی تک پاکستانی معاشرے نے مکمل طور پر ملازمت پیشہ خاتون کے تصور کو قبول نہیں کیاہے۔ شادی شدہ خواتین کی یہ بھی مشکل ہے کہ سسرال میں کہا جاتا ہے کہ اگرملازمت کرے گی توگھر کون سنبھالے گا؟ خاندان والے کیا سوچیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود ایسی خواتین سب کو وقت دینے اور خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ انھیں ساری دنیا کو باور کرانا ہوتا ہے کہ اپنی ملازمت کے ساتھ وہ گھر، بچے، فیملی اور باقی تمام معاملات خوش اسلوبی سے نبھا رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کو چکی کے دو باٹ کہا جا تا ہے۔۔ جس طرح خواتین زندگی کی گاڑی چلانے میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اسی طرح مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ گھریلو امور میں ان کا ہاتھ بٹایا کریں۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرد عورت کا ہاتھ بٹانے میں اپنی توہین سمجھتا ہے اور ہمارے معاشرے میں کچھ جگہوں پر مرد کا گھر کےکام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹانے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ترقی کی اس جدوجہد میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ اب عورت اس بات پر قناعت نہیں کرسکتی کہ صرف مرد ہی کما کر لائے اورخاندان کی ضروریات پوری کرے۔ آج کی عورت یہ سمجھتی ہے کہ اسے بھی مرد کی طرح آزادی اور مساوات کے اظہار کے لیے ذاتی سرمایہ اور ملکیت چاہیے۔ اس لیے اب دنیا کے ہر ملک میں خواتین کے لیے گھر سے باہر ملازمت کرنا ایک ضرورت بن چکی ہے جس کا ماضی میں تصور بھی ممکن نہ تھا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں جن میں بڑی تعداد میں خواتین میڈیکل،ٹیچنگ، بینکنگ، ٹیلیفون آپریٹر، نرسنگ، گارمنٹس، صحافت، شوشل میڈیا، ، وکالت ، تدریس ، طب ، بزنس ، مارکیٹنگ ، شو بز انجینئرنگ ،اکاونٹنس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر اہنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں شعبہ ابلاغ عامہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز میں اپنے فرائض انجام دے رہی یں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہیں ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو بری الزمہ سمجھتی ہے جو انتہائی احمقانہ سوچ ہے اور یہ سوچ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مرد عورت پر اپنا تسلط چاہتا ہے ۔ اپنے گھر اور خاندان کے حوالے سے آپ کو خود ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور جب آپ اپنے خاندان کے بہترین مفاد میں کوئی فیصلہ کر لیں تو پھر آپ کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آپ کا یہ فیصلہ کچھ دیگر لوگوں سے مختلف کیوں ہے۔ کیونکہ ہر گھر اور خاندان کی ضروریات، حالات، وسائل مختلف ہوتے ہیں ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اسی طرح آپ کا کوئی فیصلہ آپ کے خاندان کے بہترین مفاد میں ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر گھر اور خاندان کے لیے قابلِ عمل ہو۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے کچھ جاہل لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ جہاں ملازمت پیشہ خواتین کو آزاد خیال اور گھر والوں کو ہر معاملے میں اپنا رعب داب رکھنے والی عورت تصور کیا جاتا ھے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں اپنے گھر والوں بچوں کیللے جدوجہد یہی ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔ یہ خواتین بھرپور طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتی ہیں، کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے نبھاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورتیں اپنا معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاہ رہی ہیں، اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنے بچوں اور خاندان کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔ جس طرح علم حاصل کرنا ہر عورت کا حق ہے ، اسی طرح اپنا مستقبل بنانا بھی ہر عورت کا حق ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ملازم پیشہ خواتین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں معاشرے کی گھریلو مشکلات ، پسماندہ سوچ ، صنفی امتیاز ، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور جنسی ہراسانی wo mxklat oiN jw سرفہرست ہیں۔ خواتین کو معاشرے میں مساوی سیاسی ، معاشی و سماجی حقوق دینے والے بالشویک انقلاب کے لیڈر ولادیمیر لینن نے کہا کہ ہماری خواتین شاندار طبقاتی جنگجو ہوتی ہیں ۔ محنت کشوں کی کوئی بھی تحریک خواتین کی شعوری مداخلت کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی ۔ روسی انقلاب ہو یا اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی سعودی عرب یا ایران کی خواتین ، بحرین میں ریاستی جارحیت کے خلاف احتجاج یا ترکی میں جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازش کا راستہ روکنے کی تحریک ، ہر موقع پر خواتین ایک بڑی طاقت کی صورت میں سامنے آئی ہیں اور اپنا کردار ادا ادا کیا ہے۔۔