کیٹ واک


رنگ برنگی روشنیاں کیمرے اور موسیقی ایک کے بعد ایک ماڈل خوبصورت لباس عجیب و غریب بالوں کے انداز فخر و غرور سے گردنیں اکڑائے آ جا رہی ہیں اور یہ خوبصورت منظر دیکھنے کے لیے شہر بھر کے معززین اور مشہور شخصیات ایک جو ایک ہی چھت تلے جمع ہیں یہاں نا مسلک نہ فرقے کا جھگڑا سب ایک قوم بنے ہوئے ہیں ۔ حسیناوں کو داد دینے کے ساتھ ساتھ آنکھوں سے پیغام بھی دیتے ہیں سب ایک دوسرے کے بارے میں جانتے ہیں مگر پھر بھی انجان ہیں یہاں کوئی ایک دوسرے کے راز نہیں کھولتا یہ کون سا مقام ہے جہاں اس قدر یکجہتی کا مظاہرہ دیکھنے میں آرہا ہے یہ کوئی مغربی ملک نہیں بلکہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جہاں ایک فیشن شو کا آغاز ہوا ہے جو عوام کو براہ راست دکھایا جا رہا ہے عجیب و غریب لباس جسموں کی سر عام نمائش ڈنکے کی چوٹ پر گرم ہے کون ہے جو۔ اسے برا کہے یہ آج کا زمانہ ہے اور فیشن کے نام۔ پے یہ سب کچھ کرنا ضروری ہے اس کے بغیر تو ہم تو دنیا کے ساتھ چل ہی نہیں سکتے اور اگر ایسا نا کیا تو دنیا ہمیں بوسیدہ قوم کہے گی بس ہمیں ترقی کرنا ہے چاہے عزت نا رہے نام بنانے کے لیے ہمیں بد نام ہو نا بھی گوارہ ہےسوچنے کی بات یہ ہے کہ اب یہ کلچر اور فیشن کے نام پر بے ہودگی فلموں اور ٹی وی تک نہیں رہی بلکہ پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں جس طرح کے لباس پہلے ہم انڈین فلموں میں دیکھ کر توبہ کرتے تھے اب وہی لباس ہمارے معاشرے کا حصہ بن گئے ہیں ہماری خواتین اپنی مرضی سے خود کو بنا سنوار کر دنیا کے سامنے پیش کرتیں ہیں یوں ان تمام عظیم مسلمان خواتین کا مذاق اڑاتیں ہیں جنہوں نے ضرورت پڑ نے پر اپنی۔ ذِندگیاں تو دا و پر لگا دیں۔ مگر اسلامی۔ تعلیمات پر عمل۔ کرتے ہوئے اپنی ذات کو۔ بے پردہ نہیں ہونے دیا
عقل۔ حیران۔ ہے کوئی روکنے والا نہیں . جس کا جو دل۔ کہتا ہے الٹا سیدھا لباس فیشن کے نام۔ پر پہن۔ کر نکل کھڑا ہوتا ہے کچھ ہی دن بعد وہی۔ لباس جدید فیشن کہلانے لگتا ہے ایک دوسرے کی اندھی تقلید اور فیشن کا یہ بخار مرد و زن۔ پے چڑھ چکا ہے پہلے فیشن۔ صرف لباس تک ہی محدود تھا لیکن اب یہ بال . بیگز جوتی اور کلر غرض ہر چیز میں شامل ہو گیا ہے
پہلے فیشن کاشکار صرف خوا تین۔ تھیں۔ لیکن اب مردوں کے لیے بھی بیشمار چیزیں۔ ہیں۔ کہ اب مرد بھی اپنی خوا تین۔ کو۔ فیشن کی دوڑ میں شامل ہونے سے روک نہیں سکتے
– بیہودہ فیشن۔ کو بڑھاوا دینے میں کسی ایک فرد کا ہاتھ نہیں بلکہ پورا معاشرہ پوری قوم۔ ذمہ دار ہے کوئی ایسا شعبہ کوئی ایسی پا لیسی نہیں جی بیہودگی کے اس طوفاں کو۔روک۔ س

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل تحریر: بشرہ نواز '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' اگرچہ خواتین معاشرےکی معاشی ترقی کے لیے حیات افزا کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کے اس کردار کو شاذونادر ہی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خواتین عام طور پرگھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں اور ملازمت کا انتخاب خواہش کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت کی بنیاد پر کرتی ہیں ۔وہ اپنے خاندان اور گھر کی ذمہ داریوں کے لیے ناکافی وقت دینے پر اپنے آپ کو قصووار تصور کرتی ہیں۔اس دہری ذمہ داری کے سبب ان پر دوگنا بوجھ پڑتا ہے اور نتیجتا ً اانہیں بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے ۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ابھی تک پاکستانی معاشرے نے مکمل طور پر ملازمت پیشہ خاتون کے تصور کو قبول نہیں کیاہے۔ شادی شدہ خواتین کی یہ بھی مشکل ہے کہ سسرال میں کہا جاتا ہے کہ اگرملازمت کرے گی توگھر کون سنبھالے گا؟ خاندان والے کیا سوچیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود ایسی خواتین سب کو وقت دینے اور خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ انھیں ساری دنیا کو باور کرانا ہوتا ہے کہ اپنی ملازمت کے ساتھ وہ گھر، بچے، فیملی اور باقی تمام معاملات خوش اسلوبی سے نبھا رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کو چکی کے دو باٹ کہا جا تا ہے۔۔ جس طرح خواتین زندگی کی گاڑی چلانے میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اسی طرح مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ گھریلو امور میں ان کا ہاتھ بٹایا کریں۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرد عورت کا ہاتھ بٹانے میں اپنی توہین سمجھتا ہے اور ہمارے معاشرے میں کچھ جگہوں پر مرد کا گھر کےکام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹانے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ترقی کی اس جدوجہد میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ اب عورت اس بات پر قناعت نہیں کرسکتی کہ صرف مرد ہی کما کر لائے اورخاندان کی ضروریات پوری کرے۔ آج کی عورت یہ سمجھتی ہے کہ اسے بھی مرد کی طرح آزادی اور مساوات کے اظہار کے لیے ذاتی سرمایہ اور ملکیت چاہیے۔ اس لیے اب دنیا کے ہر ملک میں خواتین کے لیے گھر سے باہر ملازمت کرنا ایک ضرورت بن چکی ہے جس کا ماضی میں تصور بھی ممکن نہ تھا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں جن میں بڑی تعداد میں خواتین میڈیکل،ٹیچنگ، بینکنگ، ٹیلیفون آپریٹر، نرسنگ، گارمنٹس، صحافت، شوشل میڈیا، ، وکالت ، تدریس ، طب ، بزنس ، مارکیٹنگ ، شو بز انجینئرنگ ،اکاونٹنس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر اہنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں شعبہ ابلاغ عامہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز میں اپنے فرائض انجام دے رہی یں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہیں ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو بری الزمہ سمجھتی ہے جو انتہائی احمقانہ سوچ ہے اور یہ سوچ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مرد عورت پر اپنا تسلط چاہتا ہے ۔ اپنے گھر اور خاندان کے حوالے سے آپ کو خود ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور جب آپ اپنے خاندان کے بہترین مفاد میں کوئی فیصلہ کر لیں تو پھر آپ کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آپ کا یہ فیصلہ کچھ دیگر لوگوں سے مختلف کیوں ہے۔ کیونکہ ہر گھر اور خاندان کی ضروریات، حالات، وسائل مختلف ہوتے ہیں ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اسی طرح آپ کا کوئی فیصلہ آپ کے خاندان کے بہترین مفاد میں ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر گھر اور خاندان کے لیے قابلِ عمل ہو۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے کچھ جاہل لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ جہاں ملازمت پیشہ خواتین کو آزاد خیال اور گھر والوں کو ہر معاملے میں اپنا رعب داب رکھنے والی عورت تصور کیا جاتا ھے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں اپنے گھر والوں بچوں کیللے جدوجہد یہی ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔ یہ خواتین بھرپور طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتی ہیں، کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے نبھاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورتیں اپنا معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاہ رہی ہیں، اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنے بچوں اور خاندان کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔ جس طرح علم حاصل کرنا ہر عورت کا حق ہے ، اسی طرح اپنا مستقبل بنانا بھی ہر عورت کا حق ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ملازم پیشہ خواتین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں معاشرے کی گھریلو مشکلات ، پسماندہ سوچ ، صنفی امتیاز ، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور جنسی ہراسانی wo mxklat oiN jw سرفہرست ہیں۔ خواتین کو معاشرے میں مساوی سیاسی ، معاشی و سماجی حقوق دینے والے بالشویک انقلاب کے لیڈر ولادیمیر لینن نے کہا کہ ہماری خواتین شاندار طبقاتی جنگجو ہوتی ہیں ۔ محنت کشوں کی کوئی بھی تحریک خواتین کی شعوری مداخلت کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی ۔ روسی انقلاب ہو یا اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی سعودی عرب یا ایران کی خواتین ، بحرین میں ریاستی جارحیت کے خلاف احتجاج یا ترکی میں جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازش کا راستہ روکنے کی تحریک ، ہر موقع پر خواتین ایک بڑی طاقت کی صورت میں سامنے آئی ہیں اور اپنا کردار ادا ادا کیا ہے۔۔