مچھلی : صحت کا خزانہ


بشری نواز .  .  .  .  جہاں اللہ تعالی نے انسان کے لیے بے شمار نعمتیں عطا فرمائیں ہیں جسمانی نعمتوں کے علاوہ قدرت نے ہمیں بیرونی نعمتیں بھی عطا  فرمائیں ہیں جن میں پھل سبزیاں اور کئی اقسام کے گوشت شامل ہیں کئی جانور مسلمانوں کے لیے حلال کیے گئے ہیں جیسے اونٹ ۔ بھیڑ  ۔بکریاں ۔ مرغی  ۔گائے اور مچھلی شامل ہیں ہر گوشت کی افادیت اپنی جگہ ہے لیکن کئی سالوں کی تحقیق سے یہ بات واضح ہوئی ہےکہ مچھلی دل کی صحت کے لیے بہت مفید ہے مچھلی میں چکنائی کی مقدار کم ہوتی ہے اور مچھلی کھانے والے انسان کو امراض قلب کا امکان کم ہو جائے گا مچھلی کھانے سے کالیسٹرال لیول پر آجاتا ہے اور خون میں کلاٹس بننے کے امکانات کم رہ جاتے ہیں ہفتے میں ایک دن مچھلی کھانے سے کئی امراض سے چھٹکارا مل سکتا ہے لیکن اسکے لیے ضروری ہے کہ بیرونی چکنائیوں سے پرہیز کیا جائے جدید تحقیق کے مطابق شوگر کے مریضوں کے گردے  مچھلی کھانے سے بہتر ہو سکتے ہیں مچھلی میں موجود امیگا 3 فیٹی ایسڈ دل کی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے یہ مفید فیٹی ایسڈ شریانوں کو مضر صحت چکنائیوں سے دور رکھتا ہے جس کی وجہ سے دل کے دورے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں مچھلی کا تیل بڑھاپے میں آنکھوں کے امراض کے لیے بہترین ہے طبعی ماہرین کے مطابق مچھلی کے تیل میں موجود امیگا تھری فیٹی ایسڈ آنکھوں کے امراض ختم کرنے میں مدد دیتا ہے مچھلی کا باقائدہ استعمال کینسر جیسے مرض سے بھی محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے سالمن مچھلی صحت بخش چکنائی کی قسم DHA پائی جاتی ہے جو لوگ کم خوابی کا شکار ہوں ان کے لیے (Melatonin) کا اخراج بڑھا دیتا ہے جس سے اچھی نیند آنے لگتی ہے اور بے خوابی کا خاتمہ ہو جا تا ہے ڈی اہچ اے Docosahexaenoic ایسڈ کا محفف ہے ڈی ایچ اے کے علاوہ مچھلی میں EPA جو Eicosapentaenoic ایسڈ کا محفف ہے یہ دونوں چکنائیاں امیگا تھری سے تعلق رکھتی ہیں جو بہت سی بیماریوں کے لیے ڈھال ہے
مچھلی اور دودھ کے بارے میں بہت سی باتیں عام ہیں جن
میں ایک بات یہ ہے کہ مچھلی کھانے کے بعد  دودھ پینے سے برص کا مرض لاحق ہو جاتا ہے لیکن سائنس سے یہ بات ثابت نہیں ہوئی ہو سکتا ہے کہ مچھلی کی کوئی قسم ہو ایسی جسے کھانے کے بعد دودھ پینے سے برص کاعارضہ لاحق ہو لیکن ابھی تک اس قسم کی مچھلی کو دریافت نہیں کیا جاسکا کہا جاتا ہے کہ انگریزی کلینڈ کے جس مہینے میں" r" یا "ر" نا ہو اس مہینے میں مچھلی نا کھائی جائے جیسے مئی جون جولائی اور اگست ان کے علاوہ تمام مہینوں میں مچھلی کھائی جا سکتی ہے اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ یہ مہینے مچھلیوں کی افزائش کے ہوتے ہیں اور اس دوران مچھلی کھانے سے اس کی افزائش متاثر ہوتی ہے مچھلی کھائیں مگر اعتدال کے ساتھ
مچھلِی کا ذکر قرآن پاک میں بھی ہے اور ہمارے پیارے نبی مچھلی کا گوشت پسند کرتے تھے مچھلی سردیوں کی سوغات ہے صحت اور توانائی کا خرانہ ہے اس سے مختلف سالن اور سوپ بنائے جاتے ہیں غرض جیسے مرضی کھائیں
(اللہ ہم سب کا حامی ناصر ہو )

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل تحریر: بشرہ نواز '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' اگرچہ خواتین معاشرےکی معاشی ترقی کے لیے حیات افزا کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کے اس کردار کو شاذونادر ہی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خواتین عام طور پرگھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں اور ملازمت کا انتخاب خواہش کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت کی بنیاد پر کرتی ہیں ۔وہ اپنے خاندان اور گھر کی ذمہ داریوں کے لیے ناکافی وقت دینے پر اپنے آپ کو قصووار تصور کرتی ہیں۔اس دہری ذمہ داری کے سبب ان پر دوگنا بوجھ پڑتا ہے اور نتیجتا ً اانہیں بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے ۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ابھی تک پاکستانی معاشرے نے مکمل طور پر ملازمت پیشہ خاتون کے تصور کو قبول نہیں کیاہے۔ شادی شدہ خواتین کی یہ بھی مشکل ہے کہ سسرال میں کہا جاتا ہے کہ اگرملازمت کرے گی توگھر کون سنبھالے گا؟ خاندان والے کیا سوچیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود ایسی خواتین سب کو وقت دینے اور خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ انھیں ساری دنیا کو باور کرانا ہوتا ہے کہ اپنی ملازمت کے ساتھ وہ گھر، بچے، فیملی اور باقی تمام معاملات خوش اسلوبی سے نبھا رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کو چکی کے دو باٹ کہا جا تا ہے۔۔ جس طرح خواتین زندگی کی گاڑی چلانے میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اسی طرح مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ گھریلو امور میں ان کا ہاتھ بٹایا کریں۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرد عورت کا ہاتھ بٹانے میں اپنی توہین سمجھتا ہے اور ہمارے معاشرے میں کچھ جگہوں پر مرد کا گھر کےکام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹانے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ترقی کی اس جدوجہد میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ اب عورت اس بات پر قناعت نہیں کرسکتی کہ صرف مرد ہی کما کر لائے اورخاندان کی ضروریات پوری کرے۔ آج کی عورت یہ سمجھتی ہے کہ اسے بھی مرد کی طرح آزادی اور مساوات کے اظہار کے لیے ذاتی سرمایہ اور ملکیت چاہیے۔ اس لیے اب دنیا کے ہر ملک میں خواتین کے لیے گھر سے باہر ملازمت کرنا ایک ضرورت بن چکی ہے جس کا ماضی میں تصور بھی ممکن نہ تھا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں جن میں بڑی تعداد میں خواتین میڈیکل،ٹیچنگ، بینکنگ، ٹیلیفون آپریٹر، نرسنگ، گارمنٹس، صحافت، شوشل میڈیا، ، وکالت ، تدریس ، طب ، بزنس ، مارکیٹنگ ، شو بز انجینئرنگ ،اکاونٹنس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر اہنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں شعبہ ابلاغ عامہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز میں اپنے فرائض انجام دے رہی یں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہیں ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو بری الزمہ سمجھتی ہے جو انتہائی احمقانہ سوچ ہے اور یہ سوچ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مرد عورت پر اپنا تسلط چاہتا ہے ۔ اپنے گھر اور خاندان کے حوالے سے آپ کو خود ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور جب آپ اپنے خاندان کے بہترین مفاد میں کوئی فیصلہ کر لیں تو پھر آپ کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آپ کا یہ فیصلہ کچھ دیگر لوگوں سے مختلف کیوں ہے۔ کیونکہ ہر گھر اور خاندان کی ضروریات، حالات، وسائل مختلف ہوتے ہیں ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اسی طرح آپ کا کوئی فیصلہ آپ کے خاندان کے بہترین مفاد میں ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر گھر اور خاندان کے لیے قابلِ عمل ہو۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے کچھ جاہل لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ جہاں ملازمت پیشہ خواتین کو آزاد خیال اور گھر والوں کو ہر معاملے میں اپنا رعب داب رکھنے والی عورت تصور کیا جاتا ھے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں اپنے گھر والوں بچوں کیللے جدوجہد یہی ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔ یہ خواتین بھرپور طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتی ہیں، کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے نبھاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورتیں اپنا معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاہ رہی ہیں، اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنے بچوں اور خاندان کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔ جس طرح علم حاصل کرنا ہر عورت کا حق ہے ، اسی طرح اپنا مستقبل بنانا بھی ہر عورت کا حق ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ملازم پیشہ خواتین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں معاشرے کی گھریلو مشکلات ، پسماندہ سوچ ، صنفی امتیاز ، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور جنسی ہراسانی wo mxklat oiN jw سرفہرست ہیں۔ خواتین کو معاشرے میں مساوی سیاسی ، معاشی و سماجی حقوق دینے والے بالشویک انقلاب کے لیڈر ولادیمیر لینن نے کہا کہ ہماری خواتین شاندار طبقاتی جنگجو ہوتی ہیں ۔ محنت کشوں کی کوئی بھی تحریک خواتین کی شعوری مداخلت کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی ۔ روسی انقلاب ہو یا اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی سعودی عرب یا ایران کی خواتین ، بحرین میں ریاستی جارحیت کے خلاف احتجاج یا ترکی میں جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازش کا راستہ روکنے کی تحریک ، ہر موقع پر خواتین ایک بڑی طاقت کی صورت میں سامنے آئی ہیں اور اپنا کردار ادا ادا کیا ہے۔۔