سیرت طیبہ

انسان کی
زندگی ایک مسلسل آزمائش ہے جب تک انسان سنجیدگی سے زندگی کے بارے میں نہیں سوچے گا زندگی کبھی اعتدال پر نہیں آسکتی ہم ایسا کیا کریں کہ ہم اپنی زندگی کو دوسروں کے لیے نمونہ بنا جائیں اس سوچ کا واحد جواب یہ ہے کہ ہم اپنے پیارے رسول محمدؐ کی اطاعت کریں اور انہی کے فکروعمل کا چراغ لے کر زندگی گزارتے ہوئے اپنے پروردگار سے جا ملیں بس کامیابی کا واحد طریقہ یہی ہے پیارے نبیؐ ہمیشہ سے ہی صادق اور امین تھے آپؐ کی کہی ہوئی ہر بات  پر یقین کیا جاتا کیونکہ آپؐ نے کبھی غلط بیانی نہیں کی تھی
- جب غارحرا میں پیارے نبیؐ پر پہلی وحی نازل ہوئی تو اللہ نے جبرائیل کے ذریعے آپؐ کو حکم دیا کہ تمام انسانوں کو ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیں آپؐ  وحی کی کیفیت  میں  گھر تشریف لائے آپ نے وحی کی کیفیت اور اپنی ذمہ داری  کے بارے میں خضرت خدیجہؓ کو بتا  دیاد یہ سنتے ہی ام الموءمنین نے بےساختہ کہا ہر گز نا گھبرایے اللہ کی قسم اللہ آپ کو آپؐ کو کبھی غم زدہ نہیں ہونے دے دیگا آپ عزیزوں اور رشتہ داروں سے حسن سلوک کرتے  ہیں غریبوں اور بے کسوں کی مدد کرتے ہیں مہمانوں کی تواضع کرتے ہیں اور مصیبت میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں اور ہمیشہ سچ  بولتے ہیں یہ آپ کی صداقت پر ایسی بیوی کی گواہی ہے جس نے زمانہ نبوت سے پہلے صرف آپ کی صداقت اور آپ کا اعلی کردار دیکھ کر ہی آپ سے شادی کی تھی رہبر انسانیت محمد رسول اللہ کی زندگی بتاتی ہے کہ آپ نے ہر حالت میں صبر کیا دین کی دعوت وتبلیغ میں پوری ہمت سے سرگرم عمل رہے آپ نے کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا اپنی زندگی کے آخری .  لمحات بھی اسلام کے فروغ اور تعمیر انسانیت کی ہدایت دیتے ہوئے بسر فرمائے قرآن مجید کی بہت سی آیات میں رسول اللہ کی حیات  طیبہ کا عکس نظر آتا ہے قرآن ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ یہ جس پر اترا وہ مقدس انسان کون تھا ؟کن لوگوں  میں آیا ؛ اس کے دوست اور دشمن۔ کون تھے ؟اس کی دعوت کیا تھی۔ اس  دعوت کے فیضان۔ سے یہ دنیا ارتقائی مرا حل طے  کرتے کرتے کہاں۔ سے کہاں۔ پہنچ گئی قرانی۔ آیات کا سرسری جائزہ ہی ان حقائق کے  ثبوت کے لیے کافی ہے حضرتؐ کی سیرت طیبہ میں وعظ اور نصیحت اور عبرت وحکمت  کے بے مثال نمونے جلوہ  گر ہیں جن سے ہر سمجھدار انسان فائدہ اٹھا سکتا ہے چاہے وہ حاکم ہو یا عوام سیرت طیبہ میں سب لوگوں کے لیے سبق ہیں پیارے نبیؐ ہر ایک سے محبت کرتے تھے وہ اپنے دشمنوں سے بھی بدلا نہیں لیتے تھے وہ گھر میں ایک محبت کرنے والے شوہر ایک شفیق باپ تھےاور میدان جبگ میں ایک کامیاب جرنیل رہے انہوں۔ نے ہمیشہ امن کو پسند کیا اور اپنی۔ سا ری زندگی قیام امن کے لیے مثالی  جدوجہد کی اعلان نبوت سے پہلے بھی آپ۔ نے اپنے عمل و کردار سے امن واما ن کو قائم رکھنے کے لیے بھرپور کوشش فرمائی  آپ نے ہمیشہ ا  من سلامتی کی۔ تعلیم دی  آپ نے اپنی۔ تعلیمات و عمل اور  کردار سے کچھ ایسے رہنما اصول مقرر فرما دیے جو رہتی دنیا تک۔ امن کے قیام اور اس کی بقا کے  ضامن ہیں۔
- کاش ہم سیرت طیبہ کے مطابق اپنے کردار کو ڈھال۔ لیں تو دنیا اور آخرت کی کامیابی ہمارا مقدر  بن جاۓ
- اللہ‎ ہمارا حامی و ناصر ہو 

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں