مہنگائی اور میڈیا

چار سو ایک ہی شور اٹھا ھوا ھے ھاے مہنگائی ھاۓ مہنگائی ۔۔۔
روز و مرہ کی زندگی  اور حالات میں ہمیں کوئی خاص فرق نظر نہیں آیا ٹماٹر کا شور اٹھا ۔۔۔کبھی پیاز ، اور اب آٹا ۔سوال یہ اٹھتا ھے کیا واقعی مہنگائی ھے یا اس کے پیچھے کوئی سازش اور پلاننگ ھے۔۔ یا پھر سسلین مافیا کی کارستانی ۔۔۔۔
جیو چینل کو دیکھو تو پاکستان ڈوبتا نظر آتا ھے اور اور اگر اے آر وائی کو آن کریں تو سب کچھ اچھا لاور بہترلگتا ھے تمام اینکر وں کی کا اپناپنا رویہ اور جانبداری صاف عیاں ھوتی ھے  سیاسی بحث و مباحثہ کی یہ بیماری سرکاری دفاتر میں بہت کم ھوا کرتی تھی
جب سے سیاسی بھرتیاں ھونا شروع ھوئیں یہ بیماری سرکاری اداروں میں بھی سرائیت کر گئی اب باقاعدہ سرکاری اداروں میں بھی سیاسی مباحث بر سر عام ھوتے ہیں ۔۔۔

چلیں اب مہنگائی کے اصلی اور نقلی ھونے پر بات کر لیں ہماری ذاتی راۓ کے مطابق یہ بھی بس چاۓکی پیالی میں طوفان بھرپا کرنے کی کوشش کی جا رہی ھے
جب ٹماٹر انڈیا سے آتے تھے تب سستےتھے اور اسوقت مارکیٹ میں ٹماٹروں کی بہتات تھی اور سبکو با آسانی دستیاب تھے جب ھندوستان کے ساتھ حالات خراب ھوۓ اور  تجارت بند ھوئی تو مارکیٹ میں ٹماٹر کمیاب ھوگئے ظاہر  ھے مارکیٹ میں شور تو اٹھنا تھا۔۔۔۔

 بحرحال ٹماٹر کے بحران کو اسقدر بڑھا چڑھا کے بیان کیا گیا جیسے ٹماٹر آکسیجن سے زیادہ ضروری ہیں اللہ اللہ کرکے ایران سے ٹماٹر درآمد کیے گئے تب جا کے کہیں یہ  شور تھماں۔۔۔
 اب آٹے کے بحران کا  تماشہ  لگا ھوا ھے جبکہ پاکستان میں گندم کا کؤئی بحران نہیں گورئمنٹ اور پاسکو کے گودام گندم سے بھر پڑیں ہیں۔۔۔
 ھاں اگر کمی آئی بھی تو اسوقت سندھ میں گندم کی نئی فصل کی کٹائی شروع ھوچکی ھوگی لیکن میڈیا کے صافی اور لفافی تو مکمل طور پر اپنے سابقہ آقاوں کو خوش کرنے میں جُٹے ھوے ہیں ۔۔۔۔

لگتا  یوں ھے تاجروں کو استعمال کرکے مصنوعی بحران پیدا کیا جاتا ھے اور اس  سے پہلے بکاو میڈیا سے شور اٹھتا ھے پھر سسیلین نیٹ ورک متحرک ھوجاتا ھے ہم اسی لیے ٹی وی کے ٹاک شو ڈاگ شو  نہیں دیکھتے خوامخواہ میں بلڈ پریشر بڑھا کے بیٹھ جایں ویسے بھی ہماری ننھی سی جان ایسے صدمات کو برداشت کرنے سے قاصر ھے ۔۔

ابھی دو دن قبل ایک اور تماشہ اسٹیج کیا گیا جو ٹرانپرنسی انٹرنیشنل کی خبر سے بھرپا ھوا کے جسکو ایک پاکستانی کردار نے لانچ کیا جس میں موجودہ دور کو سابقہ دور سے زیادہ کرپٹ دیکھایا گیا بھلا ھو اے آر وائی نیوز والوں کا  اور ایک دو اور چینلز کا جنہوں نے تحقیق کی تو یہ سب کچھ سابقہ حکمرانوں کچا چٹھا تھا
 یہ رپورٹ 2015۔ 2016۔اور 2017 کی تھی۔۔۔۔۔۔
جو ہردلعزیز میاں صاحبان کا دور حکومت تھا جہاں ہماری اور بہت سی کمزوریاں ہیں وھاں علم کی اور عقل کی کمی بھی آڑے آتی ھے ن لیگ ہمیشہ انگریزی رپورٹ سے مار کھا جاتی ھے لڈو کھانے میں دیر نہیں کرتی اور معذرت میں بھی۔۔۔

کان کو نہیں دیکھنا ساتھ ھے یا نہیں۔۔ لیکن کتے کے پیچھے دوڑ ضرور لگا دینی ھے ۔۔۔
اس ساری بے چینی اور افرا تفری کا ہمیں ایک سبب نظر آتا ھے سابقہ کرپٹ مافیا کی ایک ہی کوشش ھے کہ کسی طرح اس حکومت سے جان چھوٹ جاے
 انہیں اس بات کا پوری طرح ادراک ھے اگر موجودہ حکومت پانچ سال پورے کر گئی تو انکی نسلوں کی سیاست  ہمیشہ کے لیے ختم ھو جاے گی ۔۔۔۔

موجودہ حکومت بھلے ہی بیساکھیوں کے سہارے کھڑی ھے اس میں وہ لوگ شامل ہیں جو سابقہ ادوار میں  اس لولے لنگڑے جمہوری نظام کا حصہ تھے۔۔۔
 لیکن داد تو بنتی ھے اس حکومت کی کہ جس نے ابھی تک  سابقہ دور کا تقریبا آدھا قرض اتار دیا ھے لیکن عوام اس بات سے بے خبر ہیں   اس بے صبری قوم کا کیا کیا جاے جو کسی بھی قسم کی قربانی دینے کو تیار نہیں انہیں قرض اور ملک سے کیا غرض انہیں ہر چیز سستی اور دہلیز پے ملنی چاہیے ۔۔۔

ہم یہ کبھی نہیں کہیں گے کہ سب اچھا جا رھا ھے بہت سی کوتاہیاں ہیں جنکو درست کرنے کی ضرورت ھے
سوشل میڈیا سے حکومتیں نہیں چلا کرتیں کچھ عملی اقدامات کی بھی ضرورت ھوتی ھے جارحانہ رویہ اپنانے کا ہمیشہ نقصان ہی ھوتا ھے تھوڑا تدبر اور تحمل درکار ھوگا آہستگی اور شائستگی اپنایں مخالف کو گولی نہ ماریں الفاظ کا استعمال کریں مہنگائی یقینا بڑھی ھے اسکا تدارک ضروری ھے حکومت کو  اچھے اور سمجھدار پلانرز کی اشد ضرورت ھے ۔۔

تبصرے

  1. آج تک سمجھ نہیں سکے یہ مہنگائی کہاں سے شروع ہوتی ہے منڈی کا الگ ریٹ دکاندار اور پھر رہری والوں کا الگ ریٹ ہر کوئی ایک دوسرے کو لوٹنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے

    جواب دیںحذف کریں
  2. آج تک سمجھ نہیں سکے یہ مہنگائی کہاں سے شروع ہوتی ہے منڈی کا الگ ریٹ دکاندار اور پھر رہری والوں کا الگ ریٹ ہر کوئی ایک دوسرے کو لوٹنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل تحریر: بشرہ نواز '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' اگرچہ خواتین معاشرےکی معاشی ترقی کے لیے حیات افزا کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کے اس کردار کو شاذونادر ہی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خواتین عام طور پرگھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں اور ملازمت کا انتخاب خواہش کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت کی بنیاد پر کرتی ہیں ۔وہ اپنے خاندان اور گھر کی ذمہ داریوں کے لیے ناکافی وقت دینے پر اپنے آپ کو قصووار تصور کرتی ہیں۔اس دہری ذمہ داری کے سبب ان پر دوگنا بوجھ پڑتا ہے اور نتیجتا ً اانہیں بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے ۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ابھی تک پاکستانی معاشرے نے مکمل طور پر ملازمت پیشہ خاتون کے تصور کو قبول نہیں کیاہے۔ شادی شدہ خواتین کی یہ بھی مشکل ہے کہ سسرال میں کہا جاتا ہے کہ اگرملازمت کرے گی توگھر کون سنبھالے گا؟ خاندان والے کیا سوچیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود ایسی خواتین سب کو وقت دینے اور خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ انھیں ساری دنیا کو باور کرانا ہوتا ہے کہ اپنی ملازمت کے ساتھ وہ گھر، بچے، فیملی اور باقی تمام معاملات خوش اسلوبی سے نبھا رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کو چکی کے دو باٹ کہا جا تا ہے۔۔ جس طرح خواتین زندگی کی گاڑی چلانے میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اسی طرح مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ گھریلو امور میں ان کا ہاتھ بٹایا کریں۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرد عورت کا ہاتھ بٹانے میں اپنی توہین سمجھتا ہے اور ہمارے معاشرے میں کچھ جگہوں پر مرد کا گھر کےکام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹانے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ترقی کی اس جدوجہد میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ اب عورت اس بات پر قناعت نہیں کرسکتی کہ صرف مرد ہی کما کر لائے اورخاندان کی ضروریات پوری کرے۔ آج کی عورت یہ سمجھتی ہے کہ اسے بھی مرد کی طرح آزادی اور مساوات کے اظہار کے لیے ذاتی سرمایہ اور ملکیت چاہیے۔ اس لیے اب دنیا کے ہر ملک میں خواتین کے لیے گھر سے باہر ملازمت کرنا ایک ضرورت بن چکی ہے جس کا ماضی میں تصور بھی ممکن نہ تھا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں جن میں بڑی تعداد میں خواتین میڈیکل،ٹیچنگ، بینکنگ، ٹیلیفون آپریٹر، نرسنگ، گارمنٹس، صحافت، شوشل میڈیا، ، وکالت ، تدریس ، طب ، بزنس ، مارکیٹنگ ، شو بز انجینئرنگ ،اکاونٹنس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر اہنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں شعبہ ابلاغ عامہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز میں اپنے فرائض انجام دے رہی یں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہیں ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو بری الزمہ سمجھتی ہے جو انتہائی احمقانہ سوچ ہے اور یہ سوچ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مرد عورت پر اپنا تسلط چاہتا ہے ۔ اپنے گھر اور خاندان کے حوالے سے آپ کو خود ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور جب آپ اپنے خاندان کے بہترین مفاد میں کوئی فیصلہ کر لیں تو پھر آپ کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آپ کا یہ فیصلہ کچھ دیگر لوگوں سے مختلف کیوں ہے۔ کیونکہ ہر گھر اور خاندان کی ضروریات، حالات، وسائل مختلف ہوتے ہیں ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اسی طرح آپ کا کوئی فیصلہ آپ کے خاندان کے بہترین مفاد میں ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر گھر اور خاندان کے لیے قابلِ عمل ہو۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے کچھ جاہل لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ جہاں ملازمت پیشہ خواتین کو آزاد خیال اور گھر والوں کو ہر معاملے میں اپنا رعب داب رکھنے والی عورت تصور کیا جاتا ھے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں اپنے گھر والوں بچوں کیللے جدوجہد یہی ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔ یہ خواتین بھرپور طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتی ہیں، کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے نبھاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورتیں اپنا معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاہ رہی ہیں، اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنے بچوں اور خاندان کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔ جس طرح علم حاصل کرنا ہر عورت کا حق ہے ، اسی طرح اپنا مستقبل بنانا بھی ہر عورت کا حق ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ملازم پیشہ خواتین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں معاشرے کی گھریلو مشکلات ، پسماندہ سوچ ، صنفی امتیاز ، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور جنسی ہراسانی wo mxklat oiN jw سرفہرست ہیں۔ خواتین کو معاشرے میں مساوی سیاسی ، معاشی و سماجی حقوق دینے والے بالشویک انقلاب کے لیڈر ولادیمیر لینن نے کہا کہ ہماری خواتین شاندار طبقاتی جنگجو ہوتی ہیں ۔ محنت کشوں کی کوئی بھی تحریک خواتین کی شعوری مداخلت کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی ۔ روسی انقلاب ہو یا اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی سعودی عرب یا ایران کی خواتین ، بحرین میں ریاستی جارحیت کے خلاف احتجاج یا ترکی میں جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازش کا راستہ روکنے کی تحریک ، ہر موقع پر خواتین ایک بڑی طاقت کی صورت میں سامنے آئی ہیں اور اپنا کردار ادا ادا کیا ہے۔۔