جھوٹ گناہ کبیرہ
جھوٹ بلا شبہ تمام بڑائیو ں اور گناہوں کی جڑ ہے اسے ایک بیماری بھی کہا جاسکتا ہےیہ جھوٹ ہی ہے جس کے ذریعے لوگوں کے درمیان نفرت کا بیج بویا جاتا ہے ناجائز طریقوں سے لوگوں کے مال ہڑپ کیے جاتے ہیں جھوٹ بول کر لوگوں گھر برباد کیے جاتے ہیں کسی پر ناجائز الزام لگا کر اسے جیل میں دھکیل دیا جاتا ہے کچھ لوگ جھوٹ بول کر میاں بیوی کو جدا کردیتے ہیں جھوٹ گھروں کے گھر تباہ کر دیتا ہے ویسے تو ا س بیماری میں مرد وزن دونوں ہی مبتلا ہوتے ہیں .لیکن کچھ . خواتین اس معاملے میں مر دو .ں سے زیادہ آگے ہیں کچھ خو اتین اپنے سرکل کی دوسری خواتین سے ممتاز نظر آنے کے چکر میں جھوٹ بولتی ہیں اپنے خریدے ہوئے سوٹوں کی قیمت زیادہ بتاتی ہیں شوھروں کے پیار محبت کے قصے بڑھا چڑھا کر بیان کرتی ہیں کچھ عورتیں اپنے نالائق بچوں کی خوبیاں بڑھا چڑھا کر بتاتی ہیں کچھ خواتین جھوٹے خواب بیان کرکے بھی سامنے والی خاتون کو متاثر کرنےکی کوشش کرتی ہیں سنی سنائی باتوں کو بڑھا کر آگے پہنچا دیتی ہیں اسے بھی جھوٹ میں شمار . کیا جاتا ہے بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک خاتون خریداری کرتی ہے ایک ہزار کی اور سہیلیوں کو دوہزار کی بتاتی ہے جھوٹ بولنے والی خواتین جھوٹ بول کر جتنا چاہے خوش ہو لیں مگر وہ اپنا ۔ کردار مسخ کر رہی ہوتی ہیں
کچھ خوا تین۔ اپنی روز مرہ زندگی میں اتنے جھوٹ بولتی ہیں کہ انھیں۔ انداز ہ ہی۔ نہیں۔ ہوتا کہ وہ کتنا غلط کام۔ کر رہی۔ ہیں۔ ان کی اولاد پے اس جھوٹ کی عادت کیسے اثر انداز ہو رہی۔ ہے ان۔ کی زندگی۔ میں۔ جھوٹ کی آمیزش کیا زہر گھولے گا یہاں۔ سے ہی بچے جھوٹ بولنا سکھ لیتے ہیں۔ اب تو ایسا لگتا ہے جیسے ہر کوئی اس وبا کی زد میں۔ ہیں۔ اکثر عورتیں۔ بچوں۔ کو ڈرانے کے لیے کہ ؛ سو جاؤ بلی آ ۔جاۓ گی یا بھو ت آ جاۓ گا یا کسی بھی چیز سے ڈرایا جاتا ہے یہاں۔ جب ما ن۔ جھوٹ بولتی ہے تو وہ یہ بات سوچتی۔ ہی۔ نہیں۔ کہ یہ جھوٹ ہے اور میں ایک۔ غلط حرکت کر رہی ہون۔ اگر جھوٹ کا سہارا لیے بغیر کہا جاۓ ، سو جاؤ آپ جاگیں گے تو آپ کو۔ چیز منگوا کے دوں گی یا کوئی ایسا معمولی۔ وعدہ جو۔ بچے کے جاگنے پے والدہ ۔پورا کر سکے
قول و عمل۔ کے تضاد ، ظاہر اور باطن کے اختلاف اور جا ے دخول۔ و خروج کے تضاد کو۔ نفاق سمجھا جاتا ہے پیارے نبی نے جھوٹ کو منافق کی۔ علامات قرار دیا ہے جو خوا تین۔ بہت زیادہ جھوٹ بولتی۔ ہیں۔ وہ سمجھ لیں۔ کہ وہ اپنے لیے آ . گ جمع کر رہی۔ ہیں۔ جھوٹی عورت کبهی سکون سے نہیں رہ سکتی۔ کیونکہ اسے ہر وقت جھوٹ پکڑے جانے کا خدشہ بھی رہتا ہے پھر بدنامی کا ڈر بھی رہتا ہے کچھ خوا تین اتنی دیدہ دلیری سے جھوٹ بولتی ہیں۔ کے کہ دوسرا انسان یقین۔ کر لیتا ہے ،جھوٹ لوگوں۔ کو ہلاکت میں ڈالنے والی۔ لت ہے جھوٹ کی۔ انہی ہلاکت خیزیو ں کی وجہ سے رسول اکرم۔ نے اسے گنا ہ کبیرہ قرار دیا ہے حضرت ابو بکر سے مر و ی ہے کہ ہم سب حضور کی خد مت میں حاضر تھے
آپ۔ نے فرمایا ، کیا میں۔ تمہیں۔ سب سے بڑے گناہو ں کے بارے میں۔ نا بتاؤں۔ ؟
صحابہ نے عرض کی۔ کیوں نہیں۔
اللہ کے رسول۔ نے فرمایا
اللہ کے ساتھ کسی کو شر یک نا کرنا ۔ والدین۔ کی نا فرما نی نا کرنا پھر فرمایا سن۔ لو۔ سب سے بڑے گنا ہوں میں۔ تیسرا بڑا گنا ہ جھوٹ ہے آپ نے کتنی۔ ہی بار یہ بات د ہرا ی
ایک جھوٹ کہاں سے کہا ں لے جاتا ہے سب۔ کو۔ اپنا اپنا احتساب کرنا چاہے اپنی۔ اس عادت کو ختم کر کے گھر کے ماحول۔ کو بہتر کریں۔ زندگی سے جھوٹ کو نکا ل دیں۔ اور سکوں کی زندگی جییں
اللہ ہم۔ سب کا حامی و ناصر ہو
کچھ خوا تین۔ اپنی روز مرہ زندگی میں اتنے جھوٹ بولتی ہیں کہ انھیں۔ انداز ہ ہی۔ نہیں۔ ہوتا کہ وہ کتنا غلط کام۔ کر رہی۔ ہیں۔ ان کی اولاد پے اس جھوٹ کی عادت کیسے اثر انداز ہو رہی۔ ہے ان۔ کی زندگی۔ میں۔ جھوٹ کی آمیزش کیا زہر گھولے گا یہاں۔ سے ہی بچے جھوٹ بولنا سکھ لیتے ہیں۔ اب تو ایسا لگتا ہے جیسے ہر کوئی اس وبا کی زد میں۔ ہیں۔ اکثر عورتیں۔ بچوں۔ کو ڈرانے کے لیے کہ ؛ سو جاؤ بلی آ ۔جاۓ گی یا بھو ت آ جاۓ گا یا کسی بھی چیز سے ڈرایا جاتا ہے یہاں۔ جب ما ن۔ جھوٹ بولتی ہے تو وہ یہ بات سوچتی۔ ہی۔ نہیں۔ کہ یہ جھوٹ ہے اور میں ایک۔ غلط حرکت کر رہی ہون۔ اگر جھوٹ کا سہارا لیے بغیر کہا جاۓ ، سو جاؤ آپ جاگیں گے تو آپ کو۔ چیز منگوا کے دوں گی یا کوئی ایسا معمولی۔ وعدہ جو۔ بچے کے جاگنے پے والدہ ۔پورا کر سکے
قول و عمل۔ کے تضاد ، ظاہر اور باطن کے اختلاف اور جا ے دخول۔ و خروج کے تضاد کو۔ نفاق سمجھا جاتا ہے پیارے نبی نے جھوٹ کو منافق کی۔ علامات قرار دیا ہے جو خوا تین۔ بہت زیادہ جھوٹ بولتی۔ ہیں۔ وہ سمجھ لیں۔ کہ وہ اپنے لیے آ . گ جمع کر رہی۔ ہیں۔ جھوٹی عورت کبهی سکون سے نہیں رہ سکتی۔ کیونکہ اسے ہر وقت جھوٹ پکڑے جانے کا خدشہ بھی رہتا ہے پھر بدنامی کا ڈر بھی رہتا ہے کچھ خوا تین اتنی دیدہ دلیری سے جھوٹ بولتی ہیں۔ کے کہ دوسرا انسان یقین۔ کر لیتا ہے ،جھوٹ لوگوں۔ کو ہلاکت میں ڈالنے والی۔ لت ہے جھوٹ کی۔ انہی ہلاکت خیزیو ں کی وجہ سے رسول اکرم۔ نے اسے گنا ہ کبیرہ قرار دیا ہے حضرت ابو بکر سے مر و ی ہے کہ ہم سب حضور کی خد مت میں حاضر تھے
آپ۔ نے فرمایا ، کیا میں۔ تمہیں۔ سب سے بڑے گناہو ں کے بارے میں۔ نا بتاؤں۔ ؟
صحابہ نے عرض کی۔ کیوں نہیں۔
اللہ کے رسول۔ نے فرمایا
اللہ کے ساتھ کسی کو شر یک نا کرنا ۔ والدین۔ کی نا فرما نی نا کرنا پھر فرمایا سن۔ لو۔ سب سے بڑے گنا ہوں میں۔ تیسرا بڑا گنا ہ جھوٹ ہے آپ نے کتنی۔ ہی بار یہ بات د ہرا ی
ایک جھوٹ کہاں سے کہا ں لے جاتا ہے سب۔ کو۔ اپنا اپنا احتساب کرنا چاہے اپنی۔ اس عادت کو ختم کر کے گھر کے ماحول۔ کو بہتر کریں۔ زندگی سے جھوٹ کو نکا ل دیں۔ اور سکوں کی زندگی جییں
اللہ ہم۔ سب کا حامی و ناصر ہو


بیشک۔ ایسا ہی ہے مرد و زن ہی اس خطرناک بیماری میں مبتلا ہے اللہ سب کو نیکی ک ہدایت فرماے کوشش کریں کے اپنی زندگی سے جھوٹ کا خاتمہ کریں۔
جواب دیںحذف کریں