جنید جمشید گلوکا ر سے مبلغ تک
دل پاکستان جاں
جاں پاکستان یہ گیت شعیب منصور کا لکھا ہوا تھا اور اس کو خوبصورتی سے گانے والا نیا گلوکار جنید جمشید تھا یہ گیت پہلی بار ١٩٨٧ یوم آزادی کے دن پی ٹی وی سے نشر ہوا اور چند ہی دنوں اتنا مقبول ہوا کہ ہر جگہ بچے یہی گیت گاتے دیکھائی دینے لگے یہ گیت گانے والا جنید جمشید ٣ ستمبر١٩٦٤ کو کراچی میں پیدا ہوا ان کے والد پاک فضائیہ سے وابستہ تھے وہ بھی اپنے والد کی طرح پاک فضائیہ میں جانا چاہتے تھے مگر وہاں ان کا انتخاب نہ ہو سکا تب انہوں نے لاہور کی U E T میں داخلہ لے لیا جب کبھی وہ پڑھائی سے فارغ ہوتے تو دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر گیت گاتے دوست اور اردگرد سننے والے ان کی آواز کو بہت پسند کرتے یہاں سے ان کا شوق بڑھا تو یونیورسٹی کی تقریبات میں گیت گانے لگے ایک ایسی تقریب میں ان کی ملاقات روحیل حیات اور شہزاد حسن سے ہوئی روحیل کی بوڑد جب کہ شہزاد گٹار بجاتا تھا انہوں نے مل کر ایک گروپ بنانے کا پروگرام بنا لیا اور گروپ کا نام ’'وائٹل سائنز '' رکھا ۔
- میوزک کے ساتھ ساتھ جمشید نے پارک فضائیہ میں بطور کنٹر یکٹر کام کرتے رہے جیسے میوزک میں مصروف ہوئے تو جاب چھوڑ دی اور اپنا سارا وقت اسی میں گزا رنے لگے ۔ اسی دوران جنید جمشید پر دولت شہرت عزت مہربان ہو گئی اور وہ ہیرو کا درجہ اختیار کر گئے لیکن 1995 میں جنید جمشید میں تبدیلی آگئی وہ اس چکا چوند کی زندگی سے اکتانے لگے تھے دراصل تمام دنیاوی راحتیں پا کر بھی وہ اپنے اندر ایک خالی پن محسوس کرتے تھے انہیں لگتا تھا کہ یہ دولت مجھے سکون نہیں دے سکتی بے چینی اور اکتاہٹ نے انہیں گھیرا ہوا تھا ایسے میں ایک دن ملاقات مولانا طارق جمیل صاحب سے ہو گئ اور یوں وہ اس نوجوان گلوکار کے راہنما بن گئے مولانا نے ہی انہیں سمجھایا کہ جو شخص دنیا کی ہوس میں گرقتار ہو جائے اس کے لیے تباہی ہے دنیاوی مال و دولت کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ انسان کو دین وآخرت سے دور کر دیتا ہے جیسے جیسے وہ دین کے قریب آتے گئےخود کو پر سکون محسوس کرتے گئے جب جنید نے موسیقی کو چھوڑا تو انہوں نے اپنا زریعہ معاش ایک کمپنی سے شروع کیا جہاں مردانہ شلوار قمیص تیار ہوتی تھی رفتہ رفتہ کاروبار میں ترقی ہوتی گئی اور . اس کی مصنوعات پورے پاکستان میں پھیل گئی اور وہ مالی طور پر آسورہ اور خوش حال ہو گئے جنید جمشید کی ایک خوبی یہ تھی کہ وہ مذھبی ہونے کے بعد انتہا پسندی کی طرف مائل نہیں ہوئے انہوں نے ہمیشہ اعتدال پسندی کی راہ اپنائی اور محبت سے غیر مسلموں کو ایمان کی طرف بلانے لگے جمشید اپنے ساتھیوں کو بتایا کرتے کہ اللہ اپنے پیارے بندوں کا امتحان لیتا ہے جو امتحان میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اللہ اس پر بے شمار نعمتیں نازل فرماتا ہے موسیقی کو چھوڑنے کے بعد وہ نعت خوانی کی طرف مائل ہو گئے رمضان میں دینی پروگام میں شرکت کرتے وہ شو میں آنے والے غریبوں کی مدد کرتے اورناظرین کو زندگی بدلنے والی باتیں بتاتے ان کا مثالی قول فعل دیکھ کر بہت سے لوگ نیکی کے کاموں کی طرف مائل ہوگئے جنید جمشید کی تبدیل شدہ شخصیت نے دوسروں کی شخصیت کو تبدیل کر دیا وہ لوگوں کو دین کی طرف بلاتے وہ اندرون اور بیرون ملک بھی تبلیغ کے لیے جاتے رہتے جنید کی دین سے محبت کا یہ عالم تھا کہ انہوںؑ نے قرآن پاک حفظ کرنا شروع کر دیا انہوں نے پندرہ یا سولہ سپارے حفظ کیے تھے کہ انہیں تبلیغی دورے پر چترال جانا پڑا واپسی پر بد قسمتی سے جہاز واپسی پر برے طریقے سے کریش ہوگیا جس میں جنید جمشید شہید ہو گئے اللہ ان کو جنت میں اعلی مقام عطا کرے آمین . .صبرو برداشت ان کی شخصیت کا حصہ تھی لوگوں کے سوالات کے جوابات برے سکون واطمینان سے دیتے ان کی شخصیت میں نفاست محبت نرم مزاجی تھی یہی وجہ ہے جب کوئی ان سے ملتا تو ان کا گرویدہ بن جاتا ان کی پیاری مسکراہٹ لوگوں کا دل جیت لیتی ایسی شخصیت کو زمانہ یاد رکھتا ہے جنید جمشید زمانہ آپ کو یاد رکھے گا


اللہ جب بھی چاہے کسی بھی راہ ہدایت سے بھٹکے ہوئے کو اپنی راہ پے ڈال۔ دے مالک کے سب رنگ نرا لے ہیں
جواب دیںحذف کریںاللہ جب بھی چاہے کسی بھی راہ ہدایت سے بھٹکے ہوئے کو اپنی راہ پے ڈال۔ دے مالک کے سب رنگ نرا لے ہیں
جواب دیںحذف کریںاللہجب بھی کسی کو اپنے راستے پی چلانا چاہتا ہے اس کو نور ہدایت عطا فرما دیتا ہے
جواب دیںحذف کریںاللہجب بھی کسی کو اپنے راستے پی چلانا چاہتا ہے اس کو نور ہدایت عطا فرما دیتا ہے
جواب دیںحذف کریںسارا مضمون پڑھنے کے بعد ایک بات سمجھ آئی کہ اللہ پاک جسے چاہتا ھے اسے ھدائیت یافرہ لوگوں میں شمار کرلیتا ھے اس میں بندے کا کوئی کمال نہیں ۔۔
جواب دیںحذف کریںاچھی کاوش ھے لیکن تشنگی رہی معلومات بڑی محدود سی تھیں ۔۔
اللہ پاک اچھے عمل کی جزا دے ۔۔آمین