کشمیر کر تا ر پور راهداری

بشری نواز
آج کی تحریر
آج تحریر گو تلخ ھے لیکن اپنے اندر ایسے حقائق لیے بیٹھی ھے جو ہمارے لیے بحثیت قوم لمحہ فکریہ اور باعث ندامت ھے اتفاق کہ لیجے یہ تینوں مسائل لفظ "ک " سے ہی شروع ھوتے ہیں
1۔کشمیر
2۔کرتار پور
3۔کنٹینر
ہمارا المیہ یہ ھے کہ ھم تاریخ اور اہم واقعات کو یکسر بھول جاتے ہیں یا نظر انداز کر دیتے ہیں  مورخہ 5 اگست کو ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر کی آزادانہ ریاست کی حثیت ختم کرکے ہندوستان کی ریاست کا حصہ بنانے کی مذموم کوشش کی  اب ہماری بے اعتناعی کہ لیں بے حسی کہ یا پھر جو آپ کے من میں مناسب الفاظ آیں کہیں لیں پھر آہستہ آہستہ اس آگ کے شعلے بہت بڑھنے لگے اسی دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس آیا وزیراعظم پاکستان نے زبردست خطاب کیا جسکو پوری عالم اسلام اور دنیا میں سراہا گیا۔ لگنے لگا کہ اب کشمیر کا مسلہ حل ھوکر رھے گا لیکن اسی اثناء میں ملک خداد کی کچھ ہستیاں جن کا رزق بھی شائید  پاکستان کے مخالف بیانیہ سے وابسطہ ھے میدان عمل میں کود پڑیں
تمام اپوزیشن مولانا کی ہمنوا اور حمائیت میں برسرپیکار ھوگئ ہر ایک کی اپنی اپنی مرض اور تکلیف تھی انہوں نے مولوی صاحب کو ایک غنیمت جان کر اس آگ میں جلتی پہ تیل کا کام کیا اگر کوئی سیاسی حزب اختلاف کی جماعت یہ بات کہے کہ جی ہم نے منع کیا تھا یا ھم نے کشمیر کاز کے لیے آواز اٹھائی تھی اس سے بڑا جھوٹ کوئی نہ ھوگا جماعت اسلامی ھو یا جمعیت اہلحدیث سب نے اپنی اپنی بساط کے مطابق اس گناہ میں اپنا اپنا حصہ ڈالا نتیجہ کیا نکلا آج کشمیر کا پرسان حال کوئی نہیں ۔۔
رونا اس بات کا ھے کہ یہ کنٹینر جو کشمیر کاز کا نقصان پہچانے کی غرض نکلا تھا اس میں کس کس کے کیا مقاصد تھے اور کن کن لوگوں نے فائدہ اٹھایا سب جانتے ہیں لیکن میری یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا یہ جرم کبھی اللہ پاک معاف نہیں کرے گا اللہ پاک پوچھیں گے جب تمہاری مسلمان بہنوں کی عصمتیں تار تار ھو رہی تھیں تمہیں ہم نے حثیت اور طاقت دی تم نے کیا کیا جب مسلمانوں کی گھر جلاے جارپے تھے تم نے کیا کیا لوگوں یہ بات نہائیت باعث شرم اور باعث ندامت ھے کبھی سوچنا اگر رب تعالی نے توفیق دی تب۔۔۔۔
 اس بھارتی فوج میں جو کشمیر پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ھے کیا اس میں سکھ شامل نہیں کیا وہ ہماری ماوں بہنوں کی عزتوں کی پامالی میں شریک نہیں ۔۔۔
ایک سوال صرف کرتار پور راہداری پر کیا اتنی جلدی کیوں دیکھائی جا رہی ھے کیا کشمیر کاز کو ہمیشہ کے لیے ختم تو نہیں کر دیا گیا کیا ھم  1947 کو بھول گئے ۔۔۔۔۔پ
سب سے زیادہ سکھوں نے ہماری ماوں بہنوں اور بیٹیوں کی عزتوں کی پامالی کی۔۔
 میں آج بہت مضطرب اور پریشان ھوں کہ کل قیامت کو کشمیر کے مظالم پر جب اللہ پاک نے ہم سے باش پرس کی تو کیا ہمارا یہ گناہ بخش دیا جاے گا ۔۔

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں