کورونا وائرس اور احتیاط
ہم جس ملک میں رہتے ہیں وہاں ہر پریشانی کو ایک مذاق لیا جاتا ہے اور جب وہ پریشانی واقعی سر چڑھ جاتی تو پھر میڈیا وار شروع ہوجاتی ہے....
پاکستان میں ہر بندہ لامتناہی اختیارات کے ساتھ بادشاہ بننا چاہتا ہے اور کوئی بندہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ وہ کمزور اور لاچار ہے جبکہ آئے دن ظلم کی داستانیں سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں .
پاکستان میں اسوقت پوری دنیا کی طرح کورونا وائرس اپنے پنجے گاڑنے کی کوشش میں ہے اور حکومت اپنے تئیں پوری کوشش میں ہے کہ اسے روکا جاے جیسا کہ آپ سب احباب کو معلوم ہے ہمارا ملک صحت کے میدان میں بہت ہی کم وسائل رکھتا ہے ...
پاکستان میں اس وقت ایک ایسی حکومت ہے جو بہت ہی کم اکثریت سے حکومت کر رہی ہے جسے ہر وقت شدید دباؤ اور ردعمل کا سامنا رہتا ہے اور اپوزیشن جو سابقہ حکمرانوں پر مشتمل ہے جو کوئی بھی تنقید کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی جو سواے نمبر ٹانکنے کے اور کچھ بندہ پوچھے انہیں حکومت میں جمعہ جمعہ آٹھ دن تم پچاس سال سے برف لگا کے بیٹھے تھے یہ آپ ہی کی کارستانیاں جو ملک قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہیں..
پورے پاکستان میں پرائیویٹ سیکٹر کو بھی شامل کردیا جاے تو بمشکل دو ہزار وینٹیلیٹرز بنتے ہیں اور پاکستان کی آبادی تقریباً بیس کروڑ اب آپ بتائیں اللہ نہ کرے یہ وائرس اگر مزید پھیل گیا تو کیا بنے گا موجودہ صورتحال میں حکومت کے جتنے بھی اقدامات ہیں سارے ہی قابل ستائش اور قابل قدر ہیں کمی ہے تو ہماری عوام کی عقل میں ہے جو احتیاط تدابیر اختیار کرنے کی بجائے پکنک اور سیر سپاٹے میں مصروف ہے حکومت کو چاہیے میڈیا کی آزادی کو بھی تھوڑی لگام ڈالے ہر ان پڑھ اور جاہل وہاں بیٹھ کر ایک انتشار پیدا کرنے کی کوشش میں ہے
وبا تو ساری دنیا میں پھیل گئی ہے اور پروڈکشن کا واحد سورس چائنہ ہے اب اس کے اوپر پوری دنیا کی ڈیمانڈ کا لوڈ ہے بھلا یہ کیسے ممکن ہے ہر سہولت آنناًفانناً میسر آجائے جب تک یہ سہولتیں ہماری دسترس سے باہر ہیں ہمیں صرف اور صرف احتیاط کرنی ہے
بلاوجہ گھروں سے باہر نہ نکلیں سوشل ڈسٹنس رکھیں اللہ نہ کرے کوئی اگر اس بیماری سے متاثر ہے بروقت علاج کروائے بہت سے لوگ عمرہ اور بیرون ملک سے واپس آئے جن میں اس وائرس کے اثرات تھے انہوں نے اپنے پراپر ٹیسٹ نہیں کروائے یا روپوش ہو گئے ہیں یہ ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے اور اسی رویہ کی بدولت یہ بیماری پاکستان میں پھیلنے کا خطرہ ھے پلیز احتیاط کیجئے اور مروجہ احتیاط اختیار کریں۔ ۔۔۔
- ابھی تک کرونا کا پھیلاو دنیا بھر میں جاری ہے اور اب تک کئی لاکھ انسان اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں ابھی اس کا کوئی مکمل علاج دریافت نہیں ہوسکا تاہم سائنسدان کوشش کر رہے ہیں جس میں کامیابی کے بہت چانس ہیں لیکن اس کا واحد حل احتیاط ہے سوشل میڈیا بار بار اس مرض سے بچنے کے لیے احتیاط بتا رہے ہیں اس احتیاط میں اول نمبر میں پر ہجوم جگہ پر جانے سے پرہیز کیا جائے اسی لیے اجتماعات اور ہر قسم کی gethering پر پابندی عائد ہو چکی ہے پوری دنیا میں کاروباری مراکز تعلیمی ادارے کارخانے وغیرہ سب بند ہیں پاکستان سمیت پوری دنیا میں لاک ڈاون اور کرفیو کی نوبت آچکی ہے یہاں تک کہ مساجد اور تمام مذاہب کے عبادت خانے بند ہیں ہر طرف زندگی جیسے رک سی گئ ہے یہ بیماری بھی رکنے کی بجائے بڑھتی ہی جارہی ہے اس بیماری کو پھیلانے والا جراثیم بہت تیزی سے ایک تندرست انسان کو بیمار کرنے میں مہارت رکھتا ہے اسی لیے بار بار کہا جارہا ہے کہ ایک دوسرے سے دور رھیں کیونکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تندرست نظر آنے والا انسان خود بھی بیمار ہو اگر کسی کو ایسی بیماری کی علامت ظاہر ہوتو گھبرائیں نہیں بس احتیاطی تدابیر کریں گھر والوں سے علیحدہ ایک کمرے میں شفٹ ہو جائیں خود کو گرم رکھیں بھاپ لیں بار بار ہاتھ دھوئیں زیادہ بخار کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں
ہم جس ملک میں رہتے ہیں وہاں ہر پریشانی کو ایک مذاق لیا جاتا ہے اور جب وہ پریشانی واقعی سر چڑھ جاتی تو پھر میڈیا وار شروع ہوجاتی ہے....
پاکستان میں ہر بندہ لامتناہی اختیارات کے ساتھ بادشاہ بننا چاہتا ہے اور کوئی بندہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ وہ کمزور اور لاچار ہے جبکہ آئے دن ظلم کی داستانیں سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں .
پاکستان میں اسوقت پوری دنیا کی طرح کورونا وائرس اپنے پنجے گاڑنے کی کوشش میں ہے اور حکومت اپنے تئیں پوری کوشش میں ہے کہ اسے روکا جاے جیسا کہ آپ سب احباب کو معلوم ہے ہمارا ملک صحت کے میدان میں بہت ہی کم وسائل رکھتا ہے ...
پاکستان میں اس وقت ایک ایسی حکومت ہے جو بہت ہی کم اکثریت سے حکومت کر رہی ہے جسے ہر وقت شدید دباؤ اور ردعمل کا سامنا رہتا ہے اور اپوزیشن جو سابقہ حکمرانوں پر مشتمل ہے جو کوئی بھی تنقید کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی جو سواے نمبر ٹانکنے کے اور کچھ بندہ پوچھے انہیں حکومت میں جمعہ جمعہ آٹھ دن تم پچاس سال سے برف لگا کے بیٹھے تھے یہ آپ ہی کی کارستانیاں جو ملک قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہیں..
پورے پاکستان میں پرائیویٹ سیکٹر کو بھی شامل کردیا جاے تو بمشکل دو ہزار وینٹیلیٹرز بنتے ہیں اور پاکستان کی آبادی تقریباً بیس کروڑ اب آپ بتائیں اللہ نہ کرے یہ وائرس اگر مزید پھیل گیا تو کیا بنے گا موجودہ صورتحال میں حکومت کے جتنے بھی اقدامات ہیں سارے ہی قابل ستائش اور قابل قدر ہیں کمی ہے تو ہماری عوام کی عقل میں ہے جو احتیاط تدابیر اختیار کرنے کی بجائے پکنک اور سیر سپاٹے میں مصروف ہے حکومت کو چاہیے میڈیا کی آزادی کو بھی تھوڑی لگام ڈالے ہر ان پڑھ اور جاہل وہاں بیٹھ کر ایک انتشار پیدا کرنے کی کوشش میں ہے
وبا تو ساری دنیا میں پھیل گئی ہے اور پروڈکشن کا واحد سورس چائنہ ہے اب اس کے اوپر پوری دنیا کی ڈیمانڈ کا لوڈ ہے بھلا یہ کیسے ممکن ہے ہر سہولت آنناًفانناً میسر آجائے جب تک یہ سہولتیں ہماری دسترس سے باہر ہیں ہمیں صرف اور صرف احتیاط کرنی ہے
بلاوجہ گھروں سے باہر نہ نکلیں سوشل ڈسٹنس رکھیں اللہ نہ کرے کوئی اگر اس بیماری سے متاثر ہے بروقت علاج کروائے بہت سے لوگ عمرہ اور بیرون ملک سے واپس آئے جن میں اس وائرس کے اثرات تھے انہوں نے اپنے پراپر ٹیسٹ نہیں کروائے یا روپوش ہو گئے ہیں یہ ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے اور اسی رویہ کی بدولت یہ بیماری پاکستان میں پھیلنے کا خطرہ ھے پلیز احتیاط کیجئے اور مروجہ احتیاط اختیار کریں۔ ۔۔۔
- ابھی تک کرونا کا پھیلاو دنیا بھر میں جاری ہے اور اب تک کئی لاکھ انسان اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں ابھی اس کا کوئی مکمل علاج دریافت نہیں ہوسکا تاہم سائنسدان کوشش کر رہے ہیں جس میں کامیابی کے بہت چانس ہیں لیکن اس کا واحد حل احتیاط ہے سوشل میڈیا بار بار اس مرض سے بچنے کے لیے احتیاط بتا رہے ہیں اس احتیاط میں اول نمبر میں پر ہجوم جگہ پر جانے سے پرہیز کیا جائے اسی لیے اجتماعات اور ہر قسم کی gethering پر پابندی عائد ہو چکی ہے پوری دنیا میں کاروباری مراکز تعلیمی ادارے کارخانے وغیرہ سب بند ہیں پاکستان سمیت پوری دنیا میں لاک ڈاون اور کرفیو کی نوبت آچکی ہے یہاں تک کہ مساجد اور تمام مذاہب کے عبادت خانے بند ہیں ہر طرف زندگی جیسے رک سی گئ ہے یہ بیماری بھی رکنے کی بجائے بڑھتی ہی جارہی ہے اس بیماری کو پھیلانے والا جراثیم بہت تیزی سے ایک تندرست انسان کو بیمار کرنے میں مہارت رکھتا ہے اسی لیے بار بار کہا جارہا ہے کہ ایک دوسرے سے دور رھیں کیونکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تندرست نظر آنے والا انسان خود بھی بیمار ہو اگر کسی کو ایسی بیماری کی علامت ظاہر ہوتو گھبرائیں نہیں بس احتیاطی تدابیر کریں گھر والوں سے علیحدہ ایک کمرے میں شفٹ ہو جائیں خود کو گرم رکھیں بھاپ لیں بار بار ہاتھ دھوئیں زیادہ بخار کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں


Very comprehensive article on Covid19
جواب دیںحذف کریں