Corona

کورونا کی اوٹ میں...

جی احباب کورونا کیا تھا اور کیا ہے اس کے کیا مضمرات نکلتے ہیں جلد سب   کے  سا منے  روشن ہوجایں گے ساری دنیا کا لاک ڈاؤن اور ایک خوف کی بیماری جس نے دنیا کو ہلا کے رکھ دیا کیا واقعی ایسی کوئی بیماری تھی یا یہ اب ڈرامہ اسٹیج کیا گیا پوری دنیا انگشت بدنداں ہے اس وقت ہلاکتوں کی تعدا د لاکھوں سے تجاوز کرچکی ہے لیکن کچھ کردار ایسے ہیں جنہوں نے یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ کچھ تو ہے جس کے پردہ داری ہے...

یہ حیرتیں  کب کھلیں گی اب اس زیادہ دن انتظار نہیں کرنا پڑے گا اس میں کچھ  پاور فل شخصیات کا نام آرھا ہے سر فہرست بل گیٹس ہیں اور اسکے بعد امریکی  صدر اور کچھ اور لوگ  بھی ہیں لیکن ہو کیا رھاہے اور ایسا کیوں ہورہا ہے دو قسم کی آراء ہیں دائیں بازو کے لوگ کہتے ہیں یہ جو اسوقت  دنیا میں ظلم و بر بریت کا بازار گرم ہے اللہ پاک نے اسکی سزا دی ہے اور بائیں بازو کی سوچ رکھنے والوں  کو اس میں سو قسم کی سازشیں نظر آر ہی  ہیں ایک بات تو طے یہ ایک بیماری ہے سوفیصد ڈرامہ نہیں اب اگر اسکی تخلیق انسان نے کی تب بھی اللہ کے اِذن کے بغیر تو کچھ ہو نہیں سکتا گولی چلانے والا چلاتا ہے لیکن جب اللہ کی طرف سے آگے والے شخص کی زندگی کا  وقت پورا ہو تب ہی  موت وا ر د  ہوتی ہے ورنہ ہزاروں گولیوں  کی بوچھاڑ میں بھی لوگ سلامت رہتے ہیں...

اگر بائیں بازو یا منفی سوچ کے لوگوں کی بات کی جائے تو وہ کہتے ہیں یہ ایک شیطانی ایجنڈا   . ہے ا  سی  کے تحت دنیا کی آبادی کو کنٹرول اور کم کیا جاے گا ایک اور بات  زو  رو شور سے کہی جارہی ہے کہ یہ ایک ٹریلر ہے  اور پکچر تو ابھی باقی ہے اس وائرس سے لوگوں کو صرف خوف زدہ کرنا مقصود تھا ابھی اصل پلان پیچھے ہے اور ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ویکسین  کی آڑ
 میں لوگوں کے جسم میں نینو سم  پہنچائی جاے گی اور پھر اس سے لوگوں کو کنٹرول کیا جاے گا اور اپنی مرضی کے مطابق کام لیا جائے گا اور جب جی کرے گا   ا نہیں موت کی نیند   سلا   دیا  جاے گا...

اب ایک تیسرا پہلو جو سب سے خطرناک ہے وہ بھوک اور افلاس کا , وہ عفریت ہے جو سب کچھ نگل جاے گا مسلسل لاک ڈاؤن کے بعد بھوک اور افلاس اسقدر بڑھے گا کہ لوگ لوگوں کو ہی کھانا شروع کردیں گے لوٹ مار کا ایسا بازار گرم ہوجاے گا کہ ملکوں کی سلامتی تک خطرے میں پڑ جائے گی......

 اور اس بات میں سب سے زیادہ وزن ہے دنیا کی دولت  کا   . جس پر تقریباً کنٹرول یہودیوں  کا ہے اور وہ یہی چاہتے ہیں کہ پوری دنیا کو ہم کنٹرول کریں ورلڈ بینک , یا آئی ایم ایف یہ سب کیا ہیں اور ان سب اداروں کا مالیاتی نظام کن کے ہاتھ میں وہ یہی تو ہیں پہلے ان ممالک کا خیال تھا کہ سود میں پوری دنیا کو جکڑ دیں گے لیکن اس میں انکو کافی حد تک تو کامیابی حاصل ہوئی لیکن کلی طور پر نہیں اب جو پلان ترتیب دیا جارہا ہے وہ یہ لگ رہا ہے غربت اور افلاس کا ہنگامہ کراؤ اور دنیا کی بے ہنگم آبادی سے جاں چھڑاؤ اور تابعدار قسم ایک جانور نما مخلوق رہ جاے جسے کنٹرول کرنا آسان ترین ہو...

اب ایک آخری بات جسکا نام لیا جارہا ہے وہ ہے  نیو ورلڈ آڈر ,  اہل دانش کا خیال ہے اس لاک ڈاؤن کی اوٹ سے اسے نافذ کیا جارہا اور جی فائیو اسکی ابتدا ہے ,اور راتو  ں رات جی فائیو کے سسٹم اسٹال کئے جارہے اور اگلا ہدف  ہے  کہ پوری دنیا پے    ایک ہی حکومت  ہونی چاہیے جسکا وقتأ  فوقتاً مختلف لیڈر اظہار خیال کر چکے ہیں اور کچھ لوگ تو یہاں تک کہے  بیٹھے ہیں کہ اقوم متحدہ ہی پوری دنیا کو کنٹرول کرے گا اور اقوم متحدہ کا سربراہ پوری دنیا کا سربراہ ہوگا کرنسی نام کی کوئی چیز کسی  کے پاس نہیں ہوگی اے ٹی ایم کارڈ ہی ہوگا اور جس سے ساری ضروریات زندگی پوری کی جائیں گے کارڈ  ڈ ا لو  اور بٹن دباو آٹا چینی گھی کپڑے سب لے لو اور بس...

اپنی آنکھیں  کھول کر رکھیں یا بند جو ہونا وہ تو ہو کر رہے گا ہمارے پاس ہے ہی  کیا  جس  کی فکر کریں...

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل تحریر: بشرہ نواز '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' اگرچہ خواتین معاشرےکی معاشی ترقی کے لیے حیات افزا کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کے اس کردار کو شاذونادر ہی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خواتین عام طور پرگھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں اور ملازمت کا انتخاب خواہش کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت کی بنیاد پر کرتی ہیں ۔وہ اپنے خاندان اور گھر کی ذمہ داریوں کے لیے ناکافی وقت دینے پر اپنے آپ کو قصووار تصور کرتی ہیں۔اس دہری ذمہ داری کے سبب ان پر دوگنا بوجھ پڑتا ہے اور نتیجتا ً اانہیں بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے ۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ابھی تک پاکستانی معاشرے نے مکمل طور پر ملازمت پیشہ خاتون کے تصور کو قبول نہیں کیاہے۔ شادی شدہ خواتین کی یہ بھی مشکل ہے کہ سسرال میں کہا جاتا ہے کہ اگرملازمت کرے گی توگھر کون سنبھالے گا؟ خاندان والے کیا سوچیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود ایسی خواتین سب کو وقت دینے اور خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ انھیں ساری دنیا کو باور کرانا ہوتا ہے کہ اپنی ملازمت کے ساتھ وہ گھر، بچے، فیملی اور باقی تمام معاملات خوش اسلوبی سے نبھا رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کو چکی کے دو باٹ کہا جا تا ہے۔۔ جس طرح خواتین زندگی کی گاڑی چلانے میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اسی طرح مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ گھریلو امور میں ان کا ہاتھ بٹایا کریں۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرد عورت کا ہاتھ بٹانے میں اپنی توہین سمجھتا ہے اور ہمارے معاشرے میں کچھ جگہوں پر مرد کا گھر کےکام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹانے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ترقی کی اس جدوجہد میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ اب عورت اس بات پر قناعت نہیں کرسکتی کہ صرف مرد ہی کما کر لائے اورخاندان کی ضروریات پوری کرے۔ آج کی عورت یہ سمجھتی ہے کہ اسے بھی مرد کی طرح آزادی اور مساوات کے اظہار کے لیے ذاتی سرمایہ اور ملکیت چاہیے۔ اس لیے اب دنیا کے ہر ملک میں خواتین کے لیے گھر سے باہر ملازمت کرنا ایک ضرورت بن چکی ہے جس کا ماضی میں تصور بھی ممکن نہ تھا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں جن میں بڑی تعداد میں خواتین میڈیکل،ٹیچنگ، بینکنگ، ٹیلیفون آپریٹر، نرسنگ، گارمنٹس، صحافت، شوشل میڈیا، ، وکالت ، تدریس ، طب ، بزنس ، مارکیٹنگ ، شو بز انجینئرنگ ،اکاونٹنس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر اہنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں شعبہ ابلاغ عامہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز میں اپنے فرائض انجام دے رہی یں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہیں ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو بری الزمہ سمجھتی ہے جو انتہائی احمقانہ سوچ ہے اور یہ سوچ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مرد عورت پر اپنا تسلط چاہتا ہے ۔ اپنے گھر اور خاندان کے حوالے سے آپ کو خود ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور جب آپ اپنے خاندان کے بہترین مفاد میں کوئی فیصلہ کر لیں تو پھر آپ کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آپ کا یہ فیصلہ کچھ دیگر لوگوں سے مختلف کیوں ہے۔ کیونکہ ہر گھر اور خاندان کی ضروریات، حالات، وسائل مختلف ہوتے ہیں ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اسی طرح آپ کا کوئی فیصلہ آپ کے خاندان کے بہترین مفاد میں ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر گھر اور خاندان کے لیے قابلِ عمل ہو۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے کچھ جاہل لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ جہاں ملازمت پیشہ خواتین کو آزاد خیال اور گھر والوں کو ہر معاملے میں اپنا رعب داب رکھنے والی عورت تصور کیا جاتا ھے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں اپنے گھر والوں بچوں کیللے جدوجہد یہی ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔ یہ خواتین بھرپور طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتی ہیں، کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے نبھاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورتیں اپنا معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاہ رہی ہیں، اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنے بچوں اور خاندان کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔ جس طرح علم حاصل کرنا ہر عورت کا حق ہے ، اسی طرح اپنا مستقبل بنانا بھی ہر عورت کا حق ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ملازم پیشہ خواتین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں معاشرے کی گھریلو مشکلات ، پسماندہ سوچ ، صنفی امتیاز ، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور جنسی ہراسانی wo mxklat oiN jw سرفہرست ہیں۔ خواتین کو معاشرے میں مساوی سیاسی ، معاشی و سماجی حقوق دینے والے بالشویک انقلاب کے لیڈر ولادیمیر لینن نے کہا کہ ہماری خواتین شاندار طبقاتی جنگجو ہوتی ہیں ۔ محنت کشوں کی کوئی بھی تحریک خواتین کی شعوری مداخلت کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی ۔ روسی انقلاب ہو یا اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی سعودی عرب یا ایران کی خواتین ، بحرین میں ریاستی جارحیت کے خلاف احتجاج یا ترکی میں جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازش کا راستہ روکنے کی تحریک ، ہر موقع پر خواتین ایک بڑی طاقت کی صورت میں سامنے آئی ہیں اور اپنا کردار ادا ادا کیا ہے۔۔