عید قرباں اور ہماری ذمہ داریاں عیدالاضحیٰ میں تقریباً ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے مسلمانوں کے دو تہوار ہیں ایک عیدالفطر اور دوسری عیدالاضحیٰ.. عیدالاضحیٰ کو بڑی اور اور عید بکرا بھی کہا جاتا ہے یہ عید اس عظیم قربانی کی یادگار ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ پاک کی رضا کے لئے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی دی اور جسے اللہ کریم نے قبول کرکے جنت سے ایک مینڈھا یا دنبہ بھیج دیا اور آج تک اللہ پاک کو ماننے والے اس سنت ابراہیمی کا اعادہ کئے ہوئے ہیں.. اب قربانی کیا ہے اور کیوں کی کی جاتی ہے فقط اللہ پاک کی رضا کی خاطر ... نہ تو اللہ پاک کو گوشت چاہیے اور نہ خون.. صرف خالص نیت کا سودا پے لیکن نہایت افسوسناک بات جو معاشرے میں پنپ چکی ہے ایک تو ریا کاری اور دوسری خود غرضی اب ہو کیا رھا پے سال بھر لوگ جسطرح بھی اپنا وقت گزاریں روکھی سوکھی کھایں لیکن بڑی عید پے لوگوں کو ایک آس اور امید ہوتی ہے . سال بھر کے بعد ہی سہی تھوڑا گوشت تو کھانے کو مل جاے گا خدارا یہ آس نہ توڑیں بہت لوگوں سے سنا کہ ہم گوشت کے انتظار میں سارا دن بھوکے بیٹھے رہے ایسا نہیں ہونا چاہے ضروری ہے کہ ایک لسٹ بنا لی جاۓ ان لوگوں کی جو قربانی نا کر سکے ان کو گوشت بھیجا جاۓ ،آ ج پاکستان میں بے شک کورونا اور مہنگائی کیوجہ سے حالات بہت خراب ہیں اور یہ تو ساری دنیا میں ہیں.. لیکن نظر آ رہا ہے کہ اس سال بھی قربانی کرنے والے کم نہیں۔ قربانی نام ہے اپنے مال اور احساسات کی قربانی کا جب تک انسان اپنے آپ کو خسارے میں رکھ کر اپنے مسلمان بھائیوں کی خدمت نہیں کرے بھائی چارہ اور محبت پروان نہیں چڑھے گی ہمیں چاہیے اپنوں کا بھی خیال رکھیں غریبوں اور مسکینوں کا بھی اپنی فریج اور فریزر کو ٹھوس کر بھرنے سے گریز کریں کوئی بات نہیں اگر ہم زبان کا چسکا نہ لگا سکیں.... اگر ہماری بھری فریج رہ گئی اور کوئی غریب خالی ہاتھ چلا گیا تو ہم نے کس بات کی قربانی کی.. عموماً قربانی کے گوشت کے تین حصے کئے جاتے ہیں اور یہی سنت طریقہ ہے.. ایک اپنا اور اپنے گھر والوں کا. دوسرا اپنے رشتے داروں کا تیسرا غریبوں اور مسکینوں کا.. ہمارا طریقہ کار ملاحظہ کریں اپنا حصہ تو رکھ لیا اور سوچ یہ کہ , ہم کونسا روز گوشت کھاتے چلو سال بھر کے بعد ہی صحیح کچھ کھایں تو سہی اپنے حصے میں مخصوص گوشت رکھ لیا اور دوسرا حصہ جو رشتے داروں میں تقسیم کرنا ہے اس میں بھی ان لوگوں کو منتخب کیا جاتا ہے جنہون قربانی دی ہوتی ہے ارادہ کیا ہے ہم ان کے بھیجھیں گے وہ بھی تو ہمارے گھر بھیجیں گے... اور اسی طرح غریبوں کا بھی خیال کم ہی رکھا جاتا ہے ایک طرف تو اللہ کے نبی علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی جان کے نذرانے سے گریز نہ کیا اور ہم گوشت بھی تقسیم کرنے میں بھی اللہ کے حکم کی۔ بجا ے دل کی۔ ما ن لیتے ہیں ... ریاکاری اور تصنع سے پرہیز کریں مال بھی لگایا اور کھوٹی نیت کی بدولت سارا کچھ برباد کرلیا..عید تو نام ہی خوشی کا ہے عید کے دن مستحقین کو بھی خوشیوں میں شامل کریں۔ انشااللہ آپ کی عید آپ کو بھر پور خوشی کا احساس دلا ے گی ایک گزارش یہ بھی ہے کہ قربانی کے بعد آلائش کو ٹھکانے لگا یں اگر ایسا نا کیا تو بیماریوں کو پنپنے کا موقع مل جاۓ گا اور بدبو سے ماحول بھی خراب ہو گا اس کے علاوہ کھانے میں احتیاط بھی کریں گوشت اچھی طرح پکا ہو کیونکہ سخت گوشت پیٹ خراب کر سکتا ہے اس کو اچھی طرح دھو کے پکا یں ہم امید رکھتے ہیں ہماری ان گزارشات کو مدنظر رکھ احباب اپنی قربانی کو خالص اللہ کی رضا کے لئے کریں گے .

تبصرے

مشہور اشاعتیں

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل تحریر: بشرہ نواز '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' اگرچہ خواتین معاشرےکی معاشی ترقی کے لیے حیات افزا کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کے اس کردار کو شاذونادر ہی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خواتین عام طور پرگھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں اور ملازمت کا انتخاب خواہش کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت کی بنیاد پر کرتی ہیں ۔وہ اپنے خاندان اور گھر کی ذمہ داریوں کے لیے ناکافی وقت دینے پر اپنے آپ کو قصووار تصور کرتی ہیں۔اس دہری ذمہ داری کے سبب ان پر دوگنا بوجھ پڑتا ہے اور نتیجتا ً اانہیں بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے ۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ابھی تک پاکستانی معاشرے نے مکمل طور پر ملازمت پیشہ خاتون کے تصور کو قبول نہیں کیاہے۔ شادی شدہ خواتین کی یہ بھی مشکل ہے کہ سسرال میں کہا جاتا ہے کہ اگرملازمت کرے گی توگھر کون سنبھالے گا؟ خاندان والے کیا سوچیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود ایسی خواتین سب کو وقت دینے اور خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ انھیں ساری دنیا کو باور کرانا ہوتا ہے کہ اپنی ملازمت کے ساتھ وہ گھر، بچے، فیملی اور باقی تمام معاملات خوش اسلوبی سے نبھا رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کو چکی کے دو باٹ کہا جا تا ہے۔۔ جس طرح خواتین زندگی کی گاڑی چلانے میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اسی طرح مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ گھریلو امور میں ان کا ہاتھ بٹایا کریں۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرد عورت کا ہاتھ بٹانے میں اپنی توہین سمجھتا ہے اور ہمارے معاشرے میں کچھ جگہوں پر مرد کا گھر کےکام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹانے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ترقی کی اس جدوجہد میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ اب عورت اس بات پر قناعت نہیں کرسکتی کہ صرف مرد ہی کما کر لائے اورخاندان کی ضروریات پوری کرے۔ آج کی عورت یہ سمجھتی ہے کہ اسے بھی مرد کی طرح آزادی اور مساوات کے اظہار کے لیے ذاتی سرمایہ اور ملکیت چاہیے۔ اس لیے اب دنیا کے ہر ملک میں خواتین کے لیے گھر سے باہر ملازمت کرنا ایک ضرورت بن چکی ہے جس کا ماضی میں تصور بھی ممکن نہ تھا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں جن میں بڑی تعداد میں خواتین میڈیکل،ٹیچنگ، بینکنگ، ٹیلیفون آپریٹر، نرسنگ، گارمنٹس، صحافت، شوشل میڈیا، ، وکالت ، تدریس ، طب ، بزنس ، مارکیٹنگ ، شو بز انجینئرنگ ،اکاونٹنس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر اہنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں شعبہ ابلاغ عامہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز میں اپنے فرائض انجام دے رہی یں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہیں ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو بری الزمہ سمجھتی ہے جو انتہائی احمقانہ سوچ ہے اور یہ سوچ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مرد عورت پر اپنا تسلط چاہتا ہے ۔ اپنے گھر اور خاندان کے حوالے سے آپ کو خود ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور جب آپ اپنے خاندان کے بہترین مفاد میں کوئی فیصلہ کر لیں تو پھر آپ کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آپ کا یہ فیصلہ کچھ دیگر لوگوں سے مختلف کیوں ہے۔ کیونکہ ہر گھر اور خاندان کی ضروریات، حالات، وسائل مختلف ہوتے ہیں ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اسی طرح آپ کا کوئی فیصلہ آپ کے خاندان کے بہترین مفاد میں ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر گھر اور خاندان کے لیے قابلِ عمل ہو۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے کچھ جاہل لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ جہاں ملازمت پیشہ خواتین کو آزاد خیال اور گھر والوں کو ہر معاملے میں اپنا رعب داب رکھنے والی عورت تصور کیا جاتا ھے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں اپنے گھر والوں بچوں کیللے جدوجہد یہی ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔ یہ خواتین بھرپور طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتی ہیں، کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے نبھاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورتیں اپنا معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاہ رہی ہیں، اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنے بچوں اور خاندان کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔ جس طرح علم حاصل کرنا ہر عورت کا حق ہے ، اسی طرح اپنا مستقبل بنانا بھی ہر عورت کا حق ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ملازم پیشہ خواتین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں معاشرے کی گھریلو مشکلات ، پسماندہ سوچ ، صنفی امتیاز ، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور جنسی ہراسانی wo mxklat oiN jw سرفہرست ہیں۔ خواتین کو معاشرے میں مساوی سیاسی ، معاشی و سماجی حقوق دینے والے بالشویک انقلاب کے لیڈر ولادیمیر لینن نے کہا کہ ہماری خواتین شاندار طبقاتی جنگجو ہوتی ہیں ۔ محنت کشوں کی کوئی بھی تحریک خواتین کی شعوری مداخلت کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی ۔ روسی انقلاب ہو یا اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی سعودی عرب یا ایران کی خواتین ، بحرین میں ریاستی جارحیت کے خلاف احتجاج یا ترکی میں جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازش کا راستہ روکنے کی تحریک ، ہر موقع پر خواتین ایک بڑی طاقت کی صورت میں سامنے آئی ہیں اور اپنا کردار ادا ادا کیا ہے۔۔