مشترکہ خاندانی نظام

ایک اتحاد واتفاق سے عاری خاندان جسے عرف عام میں الگ تھلگ کا نام دیا جاتا ہے۔ خاندانی غم و خوشی سے دور ایک الگ دنیا ہوتی ہے۔ ایک یا دو افراد اپنے بچوں کے ساتھ باقی خاندان سے کٹ کر اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔ عموماً انہیں آزاد زندگی سمجھا جاتا ہے، جس کی شرح وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جارہی ہے۔ دوسرا خاندان وہ ہے، جس میں سب گھر کے بزرگ بچے نوجوان سب مل جل کر رہتے ہیں۔ سب کا اپنا مقام و مرتبہ ہوتا اور اپنی اپنی حدود و قیود میں وہ آزاد بھی ہوتے ہیں مقید بھی۔اگر ہم بیتے وقتوں میں گھروں اور حویلیوں کا مطالعہ کریں تو ان خاندانوں کو ایک چھت کے نیچے ہنسی خوشی زندگی گزارتے ہوئے پائیں گے۔ مشترکہ خاندانی نظام تقریبا ہر گھر میں رائج تھا۔ جہاں ڈھیروں افراد ایک خاندان کی طرح ایک چھت تلے سکون اور مزے سے زندگی بسر کرتے نظر آتے تھے ان کے دکھ سانجھے اور خوشیاں اپنائیت بھری ہوا کرتی تھیں۔ ایک کو چوٹ لگتی تو پورے گھر میں فکر اور درد کی لہر دوڑ جاتی۔ اگر ایک فرد خوش ہوتا تو پورا گھر اس کی خوشیوں میں شریک ہونا اپنا فرض سمجھتا ہر فیصلے میں بڑے بزرگوں کی رائے سر تسلیم خم ہوتی ۔ آپس میں رشتوں کی ڈور نہایت مضبوط ہوتی۔ نہ ہنسی کسی سے چھپی رہتی اور نہ ہی درد کسی سے بے خبر ہوتا۔ ہنستے مسکراتے یہ لوگ رشتوں کو اپنے خون سے سینچتے اور ایک ہی خاندان کا حصہ ہوتے تھے۔ یوں سمجھ لیا جائے کہ جیسے گھر ایک مرکز ہوتا تھا اور پورا خاندان چھوٹے بچوں سے لے کر بڑوں تک سب اس ایک چھت کے تلے ایک ساتھ رہتے تھے۔مگر جیسے جیسے وقت گزررہا ہے ویسے ویسے ہم اس اتفاق و اتحاد کی نعمت سے محروم ہورہے ہیں۔ اب یوں لگنے لگا ہے کہ جیسے ہم اکیلے ہوکر رہے گئے ہیں۔ ایک یا دو کمرے کے الگ تھلگ مکان میں قید و بندکی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ خاندانی محبت اور خلوص کا شیرازہ ہم نے مغرب کی تقلید میں بکھیر کر رکھ دیا ہے۔ الگ تھلگ مکان کی سوچ ہمیں سمندر پار سے ملی ہے۔ مغرب زدہ معاشرے نے اپنے عزت و احترام کے قابل والدین اور بڑے بزرگوں کو گھر کے لئے ناکارہ قرار دے کر ان کے لیے ’’اولڈ ہوم‘‘ بنائے اور پھر انہیں وہاں کوڑے کے ڈھیر کی طرح پھینک آئے۔ کبھی کبھار جا کر ان سے مل آئے ورنہ سالانہ بنیادوں پر والدین کا دن منا کر اپنی جھوٹی محبت کا ثبوت دے دیا۔لاشعوری طور پر شاید ہم بھی اپنے والدین اور اس خاندانی نظام سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ اس قدر خود ساختہ مجبوریاں اور مصروفیات بناڈالی ہیں کہ والدین کے لئے وقت نکالنا بھی مشکل لگتا ہے۔شایدہم بھولتے جارہے ہیں کہ ہم اتنی بڑی نعمت سے محرومی کی طرف جارہے ہیں۔ یہ وہ نعمت ہے کہ جسے ہم برسوں بھی ڈھونڈنے نکلیں تو شاید کبھی نا پا سکیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں یہ دور جدت کی انتہاؤں کو چھو رہا ہے۔ اس دور کے بچے نوجوان سب ایڈوانس ہوگئے ہیں ،تاہم اس حقیقت کو بھی نہیں جھٹلایا جاسکتا کہ آج بھی گھروں میں بچوں کو بہلانے، لوریاں سنانے، کلمے یاد کرنے اور انہیں اخلاق آموز قصے کہانیاں سنانے کے لیے بوڑھی دادیوں کی اتنی ہی ضرورت ہے ۔ جنہیں آج ہم جزو نا کارہ کی طرح خود سے الگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں زندگی کے راستے پر بچوں کا پہلا قدم اٹھوانے کے لیے بوڑھے دادا کی انگلی آج بھی انہیں جذبوں کے ساتھ سرشار ہے۔ محبت سے گندھے ان رشتوں کے ہوتے ہوئے بھی جو اپنے محبت بھرے لمس سے ننھے منے دلوں کو مسرت بخشتے ہیں۔چھوٹی چھوٹی انگلیوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں لے کر زندگی کے راستے پر اعتماد سے قدم اٹھانا سکھاتے ہیں۔ دادا، دادی، پھوپھی، چچا یہ وہ رشتے ہیں جو خونی رشتے ہونے کے ساتھ ساتھ مخلص اور اپنائیت بھرے ہوتے ہیں۔معاشرہ پسماندہ ہو یا ترقی یافتہ اس میں رہنے اور زندگی گزارنے کے کچھ آداب طور طریقے اور اصول ہوتے ہیں۔ دور حاضر میں ہونےوالی ترقی نے دنیا کے کئی انسانی معاشروں کو آپس میں مدغم کردیا ہے ۔ اس ادغام کی وجہ سے بہت سے مسائل نے جنم لیا ہے ہماری معاشرتی اور ثقافتی قدریں بدل گئیں ہیں ،مشترکہ خاندانی نظام آج کے دور میں نہ ہونے کے برابر ہے آج اس جدید دور کے لوگ الگ الگ زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں ،اسی لیے ان میں عدم برداشت اور تنہائی کا احساس تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ مل جل کر رہنے میں برکت سمیت دیگر بہت سے فائدے پنہاہیں۔ یہ وہ بے لوث رشتوں سے بندھا خاندانی نظام ہوتا ہے کہ جو ہماری زندگی کی رفتار کو سہل بناتا ہے۔ہمارے غموں اور پریشانیوں کو بانٹ کر ہمیں مایوسی جیسے ماحول میں جانے سے بچاتا ہے۔ اس خاندانی نظام سے بچوں کی تعلیم و تربیت اچھی ہوتی ہے۔ ماں باپ سارا دن اپنے اپنے حصے کی ذمے داری نبھاتے ہیں اور بچوں کی طرف سے غافل ہوجاتے ہیں۔ بچوں کو توجہ اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے اگر ان کو مناسب محبت اور توجہ نہ ملے تو بچے دوسری غیر اخلاقی سرگرمیوں میں پڑ جاتے ہیں۔ یہ خاندانی نظام بچوں کے لئے بہترین تربیت گاہ اور توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔دور حاضر کے نوجوان مشترکہ خاندانی نظام سے گھبراتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ ذاتی زندگی ہے جو آج کے ہر بڑے چھوٹے کو لاحق ہوگئی ہے شاید اس وجہ سے چور راستے نکل آئے ہیں۔ دیکھنے میں زیادہ تر یہی بات آئی ہے الگ رہنے سے بہت سے مسئلوں نے سر اٹھادیا ہے ۔ اس سے ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی ہیں۔ وہی رشتوں میں دوری اور بے حسی عروج پر پہنچ چکی ہے مشینی انداز میں زندگی گزارتے یہ لوگ آپس کے خلوص پیار و محبت سے دور ہوگئے ہیں۔ ذہنی تھکاوٹ ، عدم برداشت اور دل کے امراض میں اضافہ ہوا ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ تبدیلیاں زندگی کا نا گزیز حصہ ہے لیکن فیملی کے ساتھ مل جل کر رہنے سے رشتوں میں اپنائیت کا احساس اور تعلق ہمیشہ قائم رہتا ہے

تبصرے

مشہور اشاعتیں

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل تحریر: بشرہ نواز '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' اگرچہ خواتین معاشرےکی معاشی ترقی کے لیے حیات افزا کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کے اس کردار کو شاذونادر ہی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خواتین عام طور پرگھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں اور ملازمت کا انتخاب خواہش کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت کی بنیاد پر کرتی ہیں ۔وہ اپنے خاندان اور گھر کی ذمہ داریوں کے لیے ناکافی وقت دینے پر اپنے آپ کو قصووار تصور کرتی ہیں۔اس دہری ذمہ داری کے سبب ان پر دوگنا بوجھ پڑتا ہے اور نتیجتا ً اانہیں بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے ۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ابھی تک پاکستانی معاشرے نے مکمل طور پر ملازمت پیشہ خاتون کے تصور کو قبول نہیں کیاہے۔ شادی شدہ خواتین کی یہ بھی مشکل ہے کہ سسرال میں کہا جاتا ہے کہ اگرملازمت کرے گی توگھر کون سنبھالے گا؟ خاندان والے کیا سوچیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود ایسی خواتین سب کو وقت دینے اور خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ انھیں ساری دنیا کو باور کرانا ہوتا ہے کہ اپنی ملازمت کے ساتھ وہ گھر، بچے، فیملی اور باقی تمام معاملات خوش اسلوبی سے نبھا رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کو چکی کے دو باٹ کہا جا تا ہے۔۔ جس طرح خواتین زندگی کی گاڑی چلانے میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اسی طرح مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ گھریلو امور میں ان کا ہاتھ بٹایا کریں۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرد عورت کا ہاتھ بٹانے میں اپنی توہین سمجھتا ہے اور ہمارے معاشرے میں کچھ جگہوں پر مرد کا گھر کےکام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹانے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ترقی کی اس جدوجہد میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ اب عورت اس بات پر قناعت نہیں کرسکتی کہ صرف مرد ہی کما کر لائے اورخاندان کی ضروریات پوری کرے۔ آج کی عورت یہ سمجھتی ہے کہ اسے بھی مرد کی طرح آزادی اور مساوات کے اظہار کے لیے ذاتی سرمایہ اور ملکیت چاہیے۔ اس لیے اب دنیا کے ہر ملک میں خواتین کے لیے گھر سے باہر ملازمت کرنا ایک ضرورت بن چکی ہے جس کا ماضی میں تصور بھی ممکن نہ تھا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں جن میں بڑی تعداد میں خواتین میڈیکل،ٹیچنگ، بینکنگ، ٹیلیفون آپریٹر، نرسنگ، گارمنٹس، صحافت، شوشل میڈیا، ، وکالت ، تدریس ، طب ، بزنس ، مارکیٹنگ ، شو بز انجینئرنگ ،اکاونٹنس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر اہنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں شعبہ ابلاغ عامہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز میں اپنے فرائض انجام دے رہی یں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہیں ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو بری الزمہ سمجھتی ہے جو انتہائی احمقانہ سوچ ہے اور یہ سوچ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مرد عورت پر اپنا تسلط چاہتا ہے ۔ اپنے گھر اور خاندان کے حوالے سے آپ کو خود ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور جب آپ اپنے خاندان کے بہترین مفاد میں کوئی فیصلہ کر لیں تو پھر آپ کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آپ کا یہ فیصلہ کچھ دیگر لوگوں سے مختلف کیوں ہے۔ کیونکہ ہر گھر اور خاندان کی ضروریات، حالات، وسائل مختلف ہوتے ہیں ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اسی طرح آپ کا کوئی فیصلہ آپ کے خاندان کے بہترین مفاد میں ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر گھر اور خاندان کے لیے قابلِ عمل ہو۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے کچھ جاہل لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ جہاں ملازمت پیشہ خواتین کو آزاد خیال اور گھر والوں کو ہر معاملے میں اپنا رعب داب رکھنے والی عورت تصور کیا جاتا ھے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں اپنے گھر والوں بچوں کیللے جدوجہد یہی ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔ یہ خواتین بھرپور طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتی ہیں، کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے نبھاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورتیں اپنا معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاہ رہی ہیں، اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنے بچوں اور خاندان کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔ جس طرح علم حاصل کرنا ہر عورت کا حق ہے ، اسی طرح اپنا مستقبل بنانا بھی ہر عورت کا حق ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ملازم پیشہ خواتین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں معاشرے کی گھریلو مشکلات ، پسماندہ سوچ ، صنفی امتیاز ، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور جنسی ہراسانی wo mxklat oiN jw سرفہرست ہیں۔ خواتین کو معاشرے میں مساوی سیاسی ، معاشی و سماجی حقوق دینے والے بالشویک انقلاب کے لیڈر ولادیمیر لینن نے کہا کہ ہماری خواتین شاندار طبقاتی جنگجو ہوتی ہیں ۔ محنت کشوں کی کوئی بھی تحریک خواتین کی شعوری مداخلت کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی ۔ روسی انقلاب ہو یا اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی سعودی عرب یا ایران کی خواتین ، بحرین میں ریاستی جارحیت کے خلاف احتجاج یا ترکی میں جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازش کا راستہ روکنے کی تحریک ، ہر موقع پر خواتین ایک بڑی طاقت کی صورت میں سامنے آئی ہیں اور اپنا کردار ادا ادا کیا ہے۔۔