بچوں کی نشونمامیں مٹی کا کردار

بچے سب ہی۔ کو پیارے ہوتے ہیں ہر ما ں اپنے بچے کو صاف ، ستھرا اور صحت مند دیکھنا چاہتی ہے بچے ذرا مٹی کی طرف جائیں یہ کوئی ما ں بھی پسند نہیں کرتی ہر ما ں یہ سمجھتی ہے کہ مٹی میں جراثیم ہوتے ہیں جو بچے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں . . . مگر شاید بہت کم لوگ سمجھے ہیں کہ مٹی میں کھیلنا بچوں کے لیے کتنا ضروری ہے آجکل مٹی پے تحقیق ہو رہی ہے جس کے مطابق حد سے زیادہ صفائی اور جراثیم کش ادویات کا استعمال جہاں نقصان ده جراثیم کو مارتا ہے وہاں موجود انسانی صحت کے لیے مفید بیکٹیریا کا بھی خاتمہ کر دیتا ہے صحت کے لیے مفید بیکٹیریا انسانی مدافعتی نظام کو مظبوط بناتے ہیں اسی طرح جب بچے مٹی میں کھلتے ہیں تو مٹی بچوں کے منہ میں بھی جاتی ہے اور معدے میں جا کر یہ نظام انہضام کو بہتر کرتی ہے اسی مٹی میں انسان دوست بیکٹیریا ہیں جو بچوں کی بہتر نشو نما میں مدد کرتے ہیں ،بہت زیادہ صفائی بچوں کے لیے نقصان ده ہے اس طرح سے ان کا اندرونی نظام بہت کمزور ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ معمولی بیماری بھی برداشت نہیں کر سکتے کیونکہ ان میں زیادہ صفائی کی وجہ سے قوت مدافعت میں شدید کمی ہو جاتی ہے مٹی میں کچھ ایسے اجزا جن میں بہت سی قسموں کے نمکیات قدرتی طور پانے جاتے ہیں جو انسانی جلد کے لیے بہتر ہیں ،مٹی میں کھیلنے کی خواہش ہر بچے میں فطری طور پر ہوتی ہے بچوں کو جیسے ہی کبھی موقع ملے وہ مٹی سے کھیلتے ہیں مائیں چاہتی ہیں ان کے بچے صاف رہیں اور مٹی کے قریب بھی مت جائیں اور ان کو جراثیم سے بچانے کے لیے ،اینٹی بیکٹیریل صا بن اور دیگر ایسی ہی پرا ڈکٹس استمعال کرواتی ہیں اب یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اتنی احتیاط کے باوجود بچوں کی قوت مدافعت میں کمی ہو رہی ہے جلدی بیمار ہوتے ہیں اور کافی علاج کے بعد ٹھیک ہوتے ہیں آخر اس کی وجہ کیا ہے ؟انسانی زندگی اور بچوں کی صحت کے حوالے سے محققین کے مطابق کہ . لاکھوں خرد نامیات ،خصوصا بیکٹیریا انسانی جسم میں مٹی کے ساتھ داخل ہو تو ایک صحت مند مدافعتی نظام بن جاتا ہے،یہ جو زیادہ صفائی کے لیے ہم جراثیم کش ادویات استمال کرتے ہیں ان ہی کی وجہ سے بچوں کا مدافعتی نظام کمزور ہو جاتا ہے وہ سینی ٹائیزر جو جراثیم کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کے جاتے ہیں وہ ہی بچوں کے مدافتی نظام کو کمزور کر دیتے ہیں دیکھا جاۓ تو جو بچے مٹی میں۔ کھیلتے ہیں وہ کم بیمار ہوتے ہیں جیسے گاؤں اور دیہات میں رہنے والے بچے شہر میں رہنے والے بچوں سے زیادہ مظبوط اور صحت مند ہوتے ہیں انسانی زندگی اور مٹی کا اپس میں بہت گہرا تعلق ہے مٹی میں۔ ایک اہم جز فولاد کا ہے جب بچے کچے فرش پے کھیلتے ہیں تو قدرتی طور پے بچے کا وجود فولاد جذب کر لیتا ہے مٹی کی خوشبو بچے کے دماغ کو ترو تازہ کرتی ہے مٹی جسم کی گرمی کھینچ لیتی ہے مٹی میں کھیلنا یا کچھ وقت گزارنا دماغ میں سیر و ٹو نن مادے کی۔ مقدار بڑھاتا ہے یہ ہی مادہ اعصابی نظام کو مظبوط بنانے میں مدد گار ہوتا ہے بچوں کو جب مٹی میں کھیلنے کا موقع ملے تو وہ بہت خوش اور پر جوش ہوتے ہیں ،کھیل ہی کھیل میں وہ پودے لگاتے ہیں اس طرح انھیں باغبانی سے دلچسپی ہو سکتی ہے ،کچھ بچے مٹی سے گھر بناتے ہیں تو ممکن ہے کہ وہ بڑ ے ہو کر تعمیراتی شعبے میں نام پیدا کریں ،اب مٹی میں کھیلنے سے یہ بھی مراد نہیں کہ روز روز ہی مٹی میں کھیلا جاۓ یا تپتی دھوپ میں کھیلیں روز نہ سہی کبھی کبھی بچوں کو مٹی کے ساتھ آزاد چھوڑیں کیونکہ ہر جاندار مٹی کا ہی جز ہے مٹی ہماری بقا اور مٹی ہی ہماری پناہ ہے بہتر تو یہ ہی ہے کہ کبھی کبھار بچوں کو ایسا موقع دیں کہ وہ آزادی کے ساتھ کھلی فضا میں وقت گزاری

تبصرے

مشہور اشاعتیں

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل تحریر: بشرہ نواز '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' اگرچہ خواتین معاشرےکی معاشی ترقی کے لیے حیات افزا کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کے اس کردار کو شاذونادر ہی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خواتین عام طور پرگھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں اور ملازمت کا انتخاب خواہش کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت کی بنیاد پر کرتی ہیں ۔وہ اپنے خاندان اور گھر کی ذمہ داریوں کے لیے ناکافی وقت دینے پر اپنے آپ کو قصووار تصور کرتی ہیں۔اس دہری ذمہ داری کے سبب ان پر دوگنا بوجھ پڑتا ہے اور نتیجتا ً اانہیں بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے ۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ابھی تک پاکستانی معاشرے نے مکمل طور پر ملازمت پیشہ خاتون کے تصور کو قبول نہیں کیاہے۔ شادی شدہ خواتین کی یہ بھی مشکل ہے کہ سسرال میں کہا جاتا ہے کہ اگرملازمت کرے گی توگھر کون سنبھالے گا؟ خاندان والے کیا سوچیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود ایسی خواتین سب کو وقت دینے اور خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ انھیں ساری دنیا کو باور کرانا ہوتا ہے کہ اپنی ملازمت کے ساتھ وہ گھر، بچے، فیملی اور باقی تمام معاملات خوش اسلوبی سے نبھا رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کو چکی کے دو باٹ کہا جا تا ہے۔۔ جس طرح خواتین زندگی کی گاڑی چلانے میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اسی طرح مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ گھریلو امور میں ان کا ہاتھ بٹایا کریں۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرد عورت کا ہاتھ بٹانے میں اپنی توہین سمجھتا ہے اور ہمارے معاشرے میں کچھ جگہوں پر مرد کا گھر کےکام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹانے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ترقی کی اس جدوجہد میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ اب عورت اس بات پر قناعت نہیں کرسکتی کہ صرف مرد ہی کما کر لائے اورخاندان کی ضروریات پوری کرے۔ آج کی عورت یہ سمجھتی ہے کہ اسے بھی مرد کی طرح آزادی اور مساوات کے اظہار کے لیے ذاتی سرمایہ اور ملکیت چاہیے۔ اس لیے اب دنیا کے ہر ملک میں خواتین کے لیے گھر سے باہر ملازمت کرنا ایک ضرورت بن چکی ہے جس کا ماضی میں تصور بھی ممکن نہ تھا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں جن میں بڑی تعداد میں خواتین میڈیکل،ٹیچنگ، بینکنگ، ٹیلیفون آپریٹر، نرسنگ، گارمنٹس، صحافت، شوشل میڈیا، ، وکالت ، تدریس ، طب ، بزنس ، مارکیٹنگ ، شو بز انجینئرنگ ،اکاونٹنس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر اہنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں شعبہ ابلاغ عامہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز میں اپنے فرائض انجام دے رہی یں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہیں ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو بری الزمہ سمجھتی ہے جو انتہائی احمقانہ سوچ ہے اور یہ سوچ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مرد عورت پر اپنا تسلط چاہتا ہے ۔ اپنے گھر اور خاندان کے حوالے سے آپ کو خود ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور جب آپ اپنے خاندان کے بہترین مفاد میں کوئی فیصلہ کر لیں تو پھر آپ کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آپ کا یہ فیصلہ کچھ دیگر لوگوں سے مختلف کیوں ہے۔ کیونکہ ہر گھر اور خاندان کی ضروریات، حالات، وسائل مختلف ہوتے ہیں ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اسی طرح آپ کا کوئی فیصلہ آپ کے خاندان کے بہترین مفاد میں ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر گھر اور خاندان کے لیے قابلِ عمل ہو۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے کچھ جاہل لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ جہاں ملازمت پیشہ خواتین کو آزاد خیال اور گھر والوں کو ہر معاملے میں اپنا رعب داب رکھنے والی عورت تصور کیا جاتا ھے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں اپنے گھر والوں بچوں کیللے جدوجہد یہی ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔ یہ خواتین بھرپور طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتی ہیں، کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے نبھاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورتیں اپنا معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاہ رہی ہیں، اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنے بچوں اور خاندان کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔ جس طرح علم حاصل کرنا ہر عورت کا حق ہے ، اسی طرح اپنا مستقبل بنانا بھی ہر عورت کا حق ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ملازم پیشہ خواتین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں معاشرے کی گھریلو مشکلات ، پسماندہ سوچ ، صنفی امتیاز ، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور جنسی ہراسانی wo mxklat oiN jw سرفہرست ہیں۔ خواتین کو معاشرے میں مساوی سیاسی ، معاشی و سماجی حقوق دینے والے بالشویک انقلاب کے لیڈر ولادیمیر لینن نے کہا کہ ہماری خواتین شاندار طبقاتی جنگجو ہوتی ہیں ۔ محنت کشوں کی کوئی بھی تحریک خواتین کی شعوری مداخلت کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی ۔ روسی انقلاب ہو یا اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی سعودی عرب یا ایران کی خواتین ، بحرین میں ریاستی جارحیت کے خلاف احتجاج یا ترکی میں جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازش کا راستہ روکنے کی تحریک ، ہر موقع پر خواتین ایک بڑی طاقت کی صورت میں سامنے آئی ہیں اور اپنا کردار ادا ادا کیا ہے۔۔