دہشت گردی

خیبر پختون خواہ میں دہشت گردی کی نئی لہر... سلگتا ہوا دھواں آگ پکڑ ہی لیتا ہے جب سے پاکستان میں امپورٹڈ حکومت آئی ہے اس وقت سے خیبر پختون خواہ سے بھتہ خوری کی خبریں آنا شروع ہوئیں اور اب دہشت گردی کی آگ بھی سلگنا شروع ہوچکی ... دیکھا جو تیر کھا کے کمین گاہ کی طرف اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی... اللہ پاک اس وقت تک کسی بھی شخص کو موت نہیں دیتا جب تک اس کا اصل ظاہر نہ ہوجاے, بہت سے رازوں سے پردہ تو اُٹھ چکا باقی بھی ظاہر ہوں گے پاکستان کے ادارے اور سیاستدان مختلف حالات میں بہت کچھ اگل چکے ہیں, جیسے مولانا فضل الرحمن نے دونوں دھرنوں کا کچا چٹھا کھول دیا اور قسم کھا کے کہا کہ میں نے دونوں دھرنے اس کے کہنے پر دیے چونکہ خیبر پختون خواہ میں اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت ہے جو موجودہ وفاقی حکومت اور انکے ہینڈلر کو اچھی نہیں لگتی پنجاب اور خیبر پختون خواہ کا امن اور حکومت برباد کرنا چاہتے ہیں یا پھر گورنر راج کی راہ ہموار کی جا رہی ہے ، اس کے لیے کوئی نیا تماشہ اسٹیج کیا جاے اور اس کا آغاز ہو چکا... پاکستان کے نامور وکیل جناب اعتزاز احسن نے اپنے تئیں اصل مجرم کا نام لے دیا سوات میں ہونے والا احتجاج کیا رنگ لاے گا پتہ نہیں عمران خان کی لانگ مارچ کو ناکام کرنے کے لیے کیا نئے ڈرامے رچائے جایں گے اور خیبر پختون خواہ میں امن کیسے قائم رہے گا اللہ پاک ہی بہتر جانتا ہے ہمارا مشاہدہ کوئی اچھے دنوں کی نوید نہیں سنا رہا... خادم رضوی مرحوم کے دونوں دھرنوں کے پیچھے بھی وہی لوگ تھے جو فضل الرحمن کے دھرنے دلوا رہے تھے وہی فرانس کا صدر جو موجودہ وزیراعظم سے جپھیاں ڈال رہا تھا ، جبکہ اب لبیک والے سعد رضوی کو فرانس کا سفیر بنا دیا گیا تو اب لبیک کو کوئی توہین رسالت یاد نہیں آئی اُس وقت پورے ملک کے نظام مفلوج کردیا گیا... پاکستان میں اٹھنے والے طوفانوں کا کھرا ایک ہی جانب کیوں جاتا ہے جنرل حمید گل مرحوم نے اس بات کا برملا اعتراف کیا تھا کہ اسلامی جمہوری اتحاد ہم نے بنایا تھا اس بات سے صرف ایک ہی مطلب لیا جاے کہ پاکستان ایک کٹھ پتلیوں کا دیس جہاں کسی کے اشارے پر ملاں بھی ناچتا ہے اور سیاستدان بھی... اور رہی بات ہماری توہم سفید چمڑی اور انکی دمڑی سے زیادہ ہی متاثر ہیں اور گورے کیا چاہتے ہیں غلام ابن غلام جن کی ہمارے ملک میں کوئی کمی نہیں... عام بندہ مجبوری کے تحت غلامی کرلے تو بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ بیچارہ غریبی کے ہاتھوں مجبور تھا کیا کرتا مگر یہاں تو ہمیشہ سے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے جو ہمیشہ رہے گا.. ہمارے وزیر دفاع جو گوروں کی وفاداری میں ہمیشہ صف اول میں ہی رہنا پسند کرتے ہیں، فرماتے ہیں دہشتگردی کو کنٹرول کرنا صوبائی حکومت کا کام ہے ٹرانسجینڈر بل کس کی خوشنودی کے لئے پاس کیا اور قوم کو اندھیرے میں رکھا گیا نیب کو ختم کردیا گیا اب قوم کس کے ہاتھ ہے اپنا لہو تلاش کرے... کچھ ممالک تو پہلے ہی چاہتے ہیں پاکستان مفلوج اور مفلوک الحال رہے اور موجودہ سیٹ اپ ملک کو اسی جانب لے کر جا رہا ہے، یہ بے حمیت لوگ ہیں جو ملک کو ذبح کرکے غیروں کی جھولی میں ڈال دیں گے کاش ہمارے حکمران غیروں۔ کی بجاۓ اپنے ملک سے وفاداری کریں پیسوں کا لالچ چھوڑ دین پیسہ تو اللّه نے پیارے وطن پاکستان کو بھی دیا ہے .کاش ہمارے حکمران ایمانداری سے اپنے ملک۔ سے محبت کریں

تبصرے

مشہور اشاعتیں