لانگ مارچ

تقریب ایک ماہ سے جاری لانگ مارچ بالآخر آج اپنی منزل مقصود پر پہنچ رہا ہے لانگ مارچ سے قبل پچاس کے لگ بھگ جلسے ہوئے تب جا کے لانگ مارچ کا مومینٹم بنا ابھی لانگ مارچ نے آدھ رستہ طے نہیں کیا تھا کہ وزیر آباد میں عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہو گیا حملے کے منصوبہ ساز کوئی بھی ہوں قابل مذمت ہیں مگر ہمیں نہیں لگتا ان کو شرم بھی آئے گی کہ نہیں بلکہ وہ مزید غصہ میں ہونگے کہ یہ بچ کیوں گیا اللہ بے نیاز ہے اور وہی انسانوں کی جان و مال کا محافظ ہے کاش یہ لوگ بھی یہ سمجھ جائیں اور انسانیت کی راہ اختیار کر لیں... حکومتی پریشانی کہیں یا ہٹ دھرمی آج بھی پہلے دن کی طرح برقرار ہے اب جو تختہ دار پر چڑھا وہ یہ تو کبھی نہیں چاہے گا کہ اس کی رسی کوکھینچ دیا جاے ہمارا گمان تو ایسا ہی ہے, ان کے آگے شیر پیچھے کھائی موت دونوں صورتوں میں یقینی اگر ہلے تو اب سولی پر کب تک لٹکا رہا جاسکتا ہے... اس ملک کی تقدیر بھی عجیب اور سیاہ ست دان بھی اس وقت نون لیگ کی ساری متعلقہ قیادت اور حق ملکیت کی دعویدار شخصیات سب ملک سے باہر.. نواز باہر ، مریم باہر شہباز ،شعبدہ باز باہر اور ملک کی معیشت ڈانواڈول... ملک اس وقت ڈیفالٹ کے بلکل قریب اور مسیحا سب فرار انکو یورپ کی سیر سوجھی ہوئی ہے.. شرم تم کو مگر نہیں آتی.. مال مفت دل بے رحم... غریب قوم کا پیسہ ہے جس طرح مرضی اُڑاؤ کون پوچھنے والا جس ملک کی عدلیہ سال میں چار دفع چھٹیاں منانے اس ملک کا اللہ ہی حافظ... جب تک انصاف کی رسائی اور شنوائی ہر ایک کو دہلیز پر نہیں ملے گی ملک نہ تو ترقی کرے اور نہ مقام پا سکے گا ... آزادی مارچ کے نتائج اگر بہتر ہوگئے اور الیکشن پر موجودہ کٹھ پتلی اور پپٹ رجیم مان گئی تو ہم سمجھیں گے موجودہ اسٹیبلشمنٹ کی تبدیلی ملک کے لئے خوش آئند ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو حالات مزید ابتر ہو جا یں گے... ہمیں خدشہ ہے کرائم ریٹ جو پپٹ رجیم کے بعد پچاس فیصد کے قریب پہنچ چکے ہیں اور بڑھ جائیں گے مہنگائی ساتویں آسمان کو پہنچ جاے گی اور جب لوگو ں کا جینا مشکل ہوگا تو جرائم ہی بڑھیں گے... ہمارا گمان ہے اللہ پاک ہی بہتر جانتا ہے کہ حالات بہتر ہو جایں گے نہ تو ہم علم نجوم والے ہیں اور طوطا فال والے بس اپنے رب سے بہتری کی توقع لگائے ہوے ہیں... لانگ مارچ کے شرکا اور عوام کا مورال اس وقت بہت اوپر ہے اگر مقتدر حلقوں نے مل بیٹھ کر اس معاملے کو حل نہ کیا تو انارکی پھیل جاے گی اور شاید پھر بات کسی کے بس میں بھی نہ رہے وقت کا تقاضا ہے فوری انتخابات کی تاریخ, اس پہلے کہ سب کچھ ختم ہوجائے ادراک سے کام لیا جائے... عمران خان ایک دلیر اور مخلص پاکستانی ہے جو کچھ اس کے ساتھ ہوا میاؤز کے ساتھ ہوا ہوتا تو ملک میں کب کی آگ لگ چکی ہوتی یہ اس کا تحمل ہے جس کی قدر نہیں کی جا رہی اگر ہٹ دھرمی یونہی جاری رہی تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا...اور اللّه نہ کرے کہ ایسا ہو اللّه ہمارےفرماے

تبصرے

مشہور اشاعتیں

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل تحریر: بشرہ نواز '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' اگرچہ خواتین معاشرےکی معاشی ترقی کے لیے حیات افزا کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کے اس کردار کو شاذونادر ہی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خواتین عام طور پرگھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں اور ملازمت کا انتخاب خواہش کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت کی بنیاد پر کرتی ہیں ۔وہ اپنے خاندان اور گھر کی ذمہ داریوں کے لیے ناکافی وقت دینے پر اپنے آپ کو قصووار تصور کرتی ہیں۔اس دہری ذمہ داری کے سبب ان پر دوگنا بوجھ پڑتا ہے اور نتیجتا ً اانہیں بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے ۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ابھی تک پاکستانی معاشرے نے مکمل طور پر ملازمت پیشہ خاتون کے تصور کو قبول نہیں کیاہے۔ شادی شدہ خواتین کی یہ بھی مشکل ہے کہ سسرال میں کہا جاتا ہے کہ اگرملازمت کرے گی توگھر کون سنبھالے گا؟ خاندان والے کیا سوچیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود ایسی خواتین سب کو وقت دینے اور خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ انھیں ساری دنیا کو باور کرانا ہوتا ہے کہ اپنی ملازمت کے ساتھ وہ گھر، بچے، فیملی اور باقی تمام معاملات خوش اسلوبی سے نبھا رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کو چکی کے دو باٹ کہا جا تا ہے۔۔ جس طرح خواتین زندگی کی گاڑی چلانے میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اسی طرح مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ گھریلو امور میں ان کا ہاتھ بٹایا کریں۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرد عورت کا ہاتھ بٹانے میں اپنی توہین سمجھتا ہے اور ہمارے معاشرے میں کچھ جگہوں پر مرد کا گھر کےکام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹانے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ترقی کی اس جدوجہد میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ اب عورت اس بات پر قناعت نہیں کرسکتی کہ صرف مرد ہی کما کر لائے اورخاندان کی ضروریات پوری کرے۔ آج کی عورت یہ سمجھتی ہے کہ اسے بھی مرد کی طرح آزادی اور مساوات کے اظہار کے لیے ذاتی سرمایہ اور ملکیت چاہیے۔ اس لیے اب دنیا کے ہر ملک میں خواتین کے لیے گھر سے باہر ملازمت کرنا ایک ضرورت بن چکی ہے جس کا ماضی میں تصور بھی ممکن نہ تھا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں جن میں بڑی تعداد میں خواتین میڈیکل،ٹیچنگ، بینکنگ، ٹیلیفون آپریٹر، نرسنگ، گارمنٹس، صحافت، شوشل میڈیا، ، وکالت ، تدریس ، طب ، بزنس ، مارکیٹنگ ، شو بز انجینئرنگ ،اکاونٹنس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر اہنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں شعبہ ابلاغ عامہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز میں اپنے فرائض انجام دے رہی یں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہیں ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو بری الزمہ سمجھتی ہے جو انتہائی احمقانہ سوچ ہے اور یہ سوچ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مرد عورت پر اپنا تسلط چاہتا ہے ۔ اپنے گھر اور خاندان کے حوالے سے آپ کو خود ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور جب آپ اپنے خاندان کے بہترین مفاد میں کوئی فیصلہ کر لیں تو پھر آپ کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آپ کا یہ فیصلہ کچھ دیگر لوگوں سے مختلف کیوں ہے۔ کیونکہ ہر گھر اور خاندان کی ضروریات، حالات، وسائل مختلف ہوتے ہیں ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اسی طرح آپ کا کوئی فیصلہ آپ کے خاندان کے بہترین مفاد میں ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر گھر اور خاندان کے لیے قابلِ عمل ہو۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے کچھ جاہل لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ جہاں ملازمت پیشہ خواتین کو آزاد خیال اور گھر والوں کو ہر معاملے میں اپنا رعب داب رکھنے والی عورت تصور کیا جاتا ھے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں اپنے گھر والوں بچوں کیللے جدوجہد یہی ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔ یہ خواتین بھرپور طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتی ہیں، کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے نبھاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورتیں اپنا معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاہ رہی ہیں، اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنے بچوں اور خاندان کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔ جس طرح علم حاصل کرنا ہر عورت کا حق ہے ، اسی طرح اپنا مستقبل بنانا بھی ہر عورت کا حق ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ملازم پیشہ خواتین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں معاشرے کی گھریلو مشکلات ، پسماندہ سوچ ، صنفی امتیاز ، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور جنسی ہراسانی wo mxklat oiN jw سرفہرست ہیں۔ خواتین کو معاشرے میں مساوی سیاسی ، معاشی و سماجی حقوق دینے والے بالشویک انقلاب کے لیڈر ولادیمیر لینن نے کہا کہ ہماری خواتین شاندار طبقاتی جنگجو ہوتی ہیں ۔ محنت کشوں کی کوئی بھی تحریک خواتین کی شعوری مداخلت کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی ۔ روسی انقلاب ہو یا اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی سعودی عرب یا ایران کی خواتین ، بحرین میں ریاستی جارحیت کے خلاف احتجاج یا ترکی میں جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازش کا راستہ روکنے کی تحریک ، ہر موقع پر خواتین ایک بڑی طاقت کی صورت میں سامنے آئی ہیں اور اپنا کردار ادا ادا کیا ہے۔۔