ویلنٹائن ڈے اور ہم مسلمان...
کیا مسلمانوں کو ویلنٹائن ڈے منانا چاہیے کہ نہیں سب سے پہلے اس ویلنٹائن ڈے کا تاریخ کو جاننا ضروری ہے کہ آخر یہ دن ہے اس کے بعد دیکھتے ہیں کہ اسلامی نقطہ نگاہ سے اسے کس طرح دیکھا جاے گا 2016 میں مجموعی طور پر چرچ نے اس دن کی مخالفت کی ہے اسکی تاریخ تقریباً 1700 سال سے زائد پرانی ہے مختلف ادوار میں اسے مختلف اندازوں میں نیا جاتا رہا یہ ایک قیم یونانی تہوار ہے جس مکمل اجراء 19 انیسویں صدی میں ہوا جب کارڈ چھپنا شروع ہوے شروع میں اسے محبت اور شادی کا تہوار سمجھا جاتا رہا بعد میں اس کی کچھ دوسری صورتیں بھی سامنے آئیں......
آس تہوار کو (Feast of Saint Valentine بھی کہا جاتا ہے محبت کے نام پر مخصوص عالمی دن ہے اسے ہر سال 14 فروری کو ساری دنیا میں سرکاری، غیر سرکاری، چھوٹے یا بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے۔ اس دن نوجوان شادی شدہ و غیر شادی شدہ جوڑے ایک دوسرے کو پھول اور تحائف دے کر اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں، اس کے علاوہ لوگ بہن، بھائیوں، ماں، باپ، رشتے داروں اور دوستوں کو پھول دے کر بھی اس دن کی مبارکباد دیتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں اس قسم کی اطلاع نہیں اور نہ ہی رواج ھے اسکو ہماری کم علمی ہی کہ لیں کہ اس کے متعلق بہت کم پتہ ھے...
سینٹ ویلنٹائن کے تہوار کا دن؛ محبت اور پیار کی
ویلنٹائن ڈے کیا ہے اور اس کی ابتدا کس طرح ہوئی؟ اس کے بارے میں کئی روایات ملتی ہیں تاہم ان میں یہ بات مشترک ہے :
”ویلنٹائن ڈے ہر سال 14فروری کو منایا جاتا ہے
سینٹ ویلنٹائن
ایک روایت جو اتنی مستند تو نہیں لیکن اکثر اسی کا سہارا لینا پڑتا ھے سینٹ ویلنٹائن ایک مسیحی راہب تھا۔ اس سے بھی ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے کچھ باتیں جڑی ہیں۔ اسے عاشقوں کے تہوار کے طور پر کیوں منایا جاتا ہے؟ اور سینٹ ویلنٹائن سے اس کی کیا نسبت بنتی ہے، اس کے بارے میں بک آف نالج کا مذکورہ اقتباس لائق توجہ ہے ...
”اس کے متعلق کوئی مستند حوالہ تو موجود نہیں البتہ ایک غیر مستند خیالی داستان پائی جاتی ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں ویلنٹائن نام کے ایک پادری تھے جو ایک راہبہ (Nun) کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہوئے۔ چونکہ مسیحیت میں راہبوں اور راہبات کے لیے نکاح ممنوع تھا۔ اس لیے ایک دن ویلن ٹائن صاحب نے اپنی معشوقہ کی تشفی کے لیے اسے بتایا کہ اسے خواب میں بتایا گیا ہے کہ 14 فروری کا دن ایسا ہے اس میں اگر کوئی راہب یا راہبہ صنفی ملاپ بھی کر لیں تو اسے گناہ نہیں سمجھا جائے گا۔ راہبہ نے ان پر یقین کیا اور دونوں جوشِ عشق میں یہ سب کچھ کر گزرے۔ کلیسا کی روایات کی یوں دھجیاں اُڑانے پر ان کا حشر وہی ہوا جو عموماً ہوا کرتا ہے یعنی انہیں قتل کر دیا گیا۔ بعد میں کچھ منچلوں نے ویلن ٹائن صاحب کو’شہید ِمحبت‘ کے درجہ پر فائز کرتے ہوئے ان کی یادمیں دن منانا شروع کر دیا۔ چرچ نے ان خرافات کی ہمیشہ مذمت کی اور اسے جنسی بے راہ روی کی تبلیغ پر مبنی قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سال بھی مسیحی پادریوں نے اس دن کی مذمت میں سخت بیانات دیے۔ بینکاک میں تو ایک مسیحی پادری نے بعض افراد کو لے کر ایک ایسی دکان کو نذرآتش کر دیا جس پر ویلنٹائن کارڈ فروخت ہو رہے تھے۔“
ویلنٹائن کا جرم قبولیت مسیح
قدیم رومی اپنے مشرکانہ عقائد کے اعتبار سے خدائی محبت کی محفلیں جماتے تھے، اس کا آغاز تقریباً 1700 سال قبل رومیوں کے دور میں ہوا جب کہ اس وقت رومیوں میں بت پرستی عام تھی اور رومیوں نے پوپ ویلنٹآئن کو بت پرستی چھوڑ کر مسیحیت اختیار کرنے کے جرم میں سزائے موت دی تھی لیکن جب خود رومیوں نے مسیحیت کو قبول کیا تو انہوں نے پوپ ویلنٹائن کی سزائے موت کے دن کو یوم شہید محبت کہہ کر اپنی عید بنالی
ویلنٹائن کا جرم شادی کرانا
اس کی تاریخ مسیحی راہب ولنٹینس یا ویلنٹائن سے یوں جڑی ہے کہ جب رومی بادشاہ کلاودیوس کو جنگ کے لیے لشکر تیار کرنے میں مشکل ہوئی تو اس نے اس کی وجوہات کا پتہ لگایا، بادشاہ کو معلوم ہوا کہ شادی شدہ لوگ اپنے اہل و عیال اور گھربار چھوڑ کر جنگ میں چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو اس نے شادی پر پابندی لگادی لیکن ویلنٹائن نے اس شاہی حکم نامے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف خود خفیہ شادی رچالی، بلکہ اور لوگوں کی شادیاں بھی کرانے لگا۔، جب بادشاہ کو معلوم ہوا تو اس نے ویلنٹائن کو گرفتار کیا اور 14 فروری کو اسے پھانسی دے دی ۔
ویلنٹائن ڈے منانے کے حق میں دلائل
ویلنٹائن ڈے منانے کے حق میں جو دلائل دیے جاتے ہیں، اُن کے مطابق ویلنٹائن ڈے خوشیاں اور محبتیں بانٹنے کا دن ہے۔ ویلنٹائن ڈے منانے والوں کی رائے یہ ہے کہ :
”اس روز اگر خاوند اپنی بیوی کو از راہِ محبت پھول پیش کرے یا بیوی اپنے سرتاج کے سامنے چند محبت آمیز کلمات کہہ لے تو اس میں آخر حرج کیا ہے؟“
ویلنٹائن ڈے کی حمایت میں تین چار دلائل دیے جاتے ہیں۔ یہ محبت کے اظہار کا دن ہے، اس پر پابندی کیوں لگائی جائے؟انسانی زندگیوں میں نفرتیں اس قدر زیادہ ہوچکی ہیں ، اگر ایک دن محبت کے نام کر دیا گیا ہے تو اس میں کیا برائی ہے؟
ایک اور دلیل جو عام طور سے دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ویلنٹائن ڈے صرف لڑکے اور لڑکی کی محبت کا دن نہیں ہے،کیونکہ محبت کا صرف ایک یہی رنگ تو نہیں ہوتا ۔ ماں، باپ، بہن بھائیوں اور دوستوں وغیرہ کو بھی تو پھول دیے جاسکتے ہیں۔
محبت کسی ایک دن کی محتاج نہیں ہوتی، لیکن پھر بھی پوری دنیا میں 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے منایا جاتا ہے، اس دن لوگ اپنے پیار کا اظہار کرتے ہیں۔ اظہار محبت کرنے کے بہت سے طریقے ہیں۔ تاہم پاکستان اور انڈیا میں زیادہ تر عاشق حضرات ویلنٹائن ڈے کے دن اپنے پیار و محبت کا اظہار محبت بھری شاعری سے کرتے ہیں۔
کیا اسلام ایسا کرنے کی اجازت دیتا ھے
چند روایات اور حقائق ھم نے قارئین کی نظر کر دیے جو صریحاً غیر اسلامی ھیں اسلام حیا اور پاکیزگی کا مذھب ھے جس میں اس قسم کے فضول اور بے حیاء تہواروں کی کوئی گنجائش نہیں ھے اسلام میں نکاح کے علاوہ مرد و خواتین کا آپس میں میل جول قطعاً حرام اور ناجائز ھے ھمیں صرف اپنی اسلامی روایات کا احیا کرنا ھے اور انہی پر عمل کرنا ھے۔
وما توفیقی الا با اللہ
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں