پاکستانی تعلیم یافتہ نوجوان ملک چھوڑنے پر مجبور کیوں؟؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تحریر : بشرہ نواز
نوجوان کسی بھی قوم کے ریڑھ کی ہڈی ہوا کرتے ہیںاور وہ اپنی قوم میں نئی زندگی اور انقلاب کی روح پھونکنے کا کام کرتے ہیں۔ پاکستانی نوجوانوں کی اڑسٹھ فیصد آبادی اپنے ملک کو نہیں چھوڑنا چاہتی جبکہ دوسری طرف اعدادوشمار کے مطابق صرف اِس سال فروری تک ایک لاکھ سے زیادہ پاکستانی اپنے وطن کو خیر باد کہہ کر دیار غیر میں جا چکے ہیں کیا کبھی کسی نے سوچا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟
پاکستان کو بنے 76 سال ہو چکے ہیں اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جو ہمارے ملک کی ترقی اور روشن مستقبل کے ضامن پیں، اس ملک میں نہیں رہنا چاہتے۔ اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہر دوسرا شخص برطانیہ امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈایا پھر کسی بھی یورپین ملک میں اپنی زندگی گزارنے کے سہانے خواب دیکھ رہا ہے۔
اس وقت اگر پاکستان کی موجودہ حالت کو دیکھا جائے تو یہاں لوگ کھانے پینے کی اشیاء کے لئے بھی آپس میں دست و گریباں ہیں۔ کیونکہ پاکستان پچھلے پچاس سالوں کے انتہائی مشکل ترین معاشی اور سیاسی بحران سے گزر رہا ہے۔ موجودہ صورتحال کے مطابق ہمارے پاس اشیاء درآمد کرنے کے پیسے موجود نہیں ہیں۔ پاکستان میں ضروری اشیاء کے دام دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔ مہنگائی جو عموماً 5 یا 6 فیصد رہتی ہے۔ اب 50 فیصد سے بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اور ایک عام آدمی کی قوت خرید ختم ہو کر رہ گئی ہے۔یعنی 100 روپے میں ملنے والی چیز کی قیمت 180/170روپے تک جا پہنچی ہیں۔ آٹے کے 20 کلو کا تھیلہ تین سے ساڑھے تین ہزار میں فروخت ہو رہا ہے مگر کوئی پوچھنے الا نہیں ہے کیونکہ آٹے کی ملیں سیاستدانوں کی ہیں۔ انہیں ملک میںرہنے والے غریب طبقے کی نہیں بلکہ اپنی حکومت بچانے کی فکر لا حق ہے۔تمام بنیادی خرد و نوش کی اشیاء کے دام آسمان سے باتی کر رہے ہیں۔ ہیں۔ ایسے میں جب بنیادی چیز جسے کھا کر ایک انسان ذندہ رہتا ہے اگر مارکیٹ می وہ ہی دستیا ب نہ ہو تو زندگی کی گاڑی کھینچنا نہ صرف مشکل بلکہ نا ممکن ہو جاتا ہے جس کی تمام تر ذمہ دار موجودہ حکومت کا مختلف جماعتوں سے گٹھ جوڑ ہے۔ جہاں کھا پینا اتنا مشکل ہے، وہاں عوام اپنی دوسری ضروریات اورخواہشات کو پورا کر پانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔
پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اس کی آبادی کی اکثیریت کا گزر بسرزیادہ تر زراعت سے ہی وابستہ ہے ہمارے نوجوان پڑھ لکھ کر سرکاری نوکریوں کو ترجیح دیتے ہیں اگر نوجوان جدید ساینسی بنیاد پر زراعت کے لیے نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کریں تو اس سے نہ صرف ملکی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ اسکے ساتھ ساتھ کسان بھی خوشحال ہو نگے بلکہ ملک میں انقلاب لایا جاسکتا ہے مگر ایسا نہیں ہے ۔اسکے لئےحکومت کی مدد کی ضرورت ہے جو اپنی عوام کو یکسر بھلا کر اپنی گدی بچانے کے چکروں میں ہے۔ اور پاکستان چھوڑنے کے خواب دیکھنے والے نوجوان کہتے ہیں کہ معاشی بحرانوں میں گھرے غیر ملک بھی پاکستان سے بہتر ہوں گے ۔ ایک ایسا ملک جہاں پر اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ہاتھوں می ڈگریاں لیکر در بدر کی ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہوں اور مزدوری کرنے پر مجبور ہوں بھلا ان سے وطن کی محبت کی امید کیسی؟
یہ مایوسی اور بدقسمتی ہی ہے کہ ہمارے نوجوان پاکستان چھوڑ کر دوسرے ممالک جانے میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ پاکستان میں نوجوانوں کو اپنا مستقبل بہتر نظر نہیں آ رہا ۔ پڑھے لکھے اور ہنر مند نوجوان بھی ملک میں رہنے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ بھی حالات سے سخت مایوس نظر آتےہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے برسوں سے نوجوانوں میں ملک چھوڑ کر بیرون ملک جانے کا رجحان روز بروز زور پکڑتا جا رہا ہے جو سب سے بڑا المیہ۔
یورپ میں پندرہ سال سے کم عمر اور پینسٹھ برس سے زائد عمر والوں کی شرح محض 35 فیصد ہے ۔ ایشیا میں 34 فیصد ہے، ۔ اگر ہم ان اعدادوشمار کی روشنی میں ان معاشروں کے حالات پر غور کریں تو یہ اسباب واضح ہو جائیں گے۔ پاکستان میں 64 فیصد آبادی کی عمر 30 برس سے کم ہے ۔ ہر سال 40 لاکھ نوجوان روزگار کی عمر میں داخل ہوتے ہیں جن میں سے صرف 36 فیصد کو روزگار نصیب ہوتا ہے۔ وہ روزگار بھی انکی ڈگری کے مطابق نہیں ہوتا کیونکہ کرپٹ مافیا اس میدان میں چھایا ہوا ہے ۔ مہنگائی اور غریب کی تعلیم تک رسائی کا نہ ہونا سب سے بڑا فیکٹر ہے۔ تقریباً 50 فیصد پاکستانی نوجوانوں کے پاس تعلیم ہے نہ ہی روزگار اور نہ ہی انکے پاس کوئی ٹیکنیکل تعلیم ہے جس سے وہ ٹریننگ حاصل کرکے اپنے روزگار کا وسیلہ پیدا کر سکیں۔۔
کیا پاکستانی نوجوان ملک کے مستقبل سے مایوس ہو رہے ہیں؟
رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق پاکستان چھوڑنے کی خواہش رکھنے والے نوجوانوں میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے ۔کوئی ان معاشروں کا جائزہ لے جہاں یہ طبقہ کم تعداد میں ہوتا ہے اور پھر وہاں اس کمی کے اثرات کیا مرتب ہوتے ہیں۔ جس معاشرے میں بچے اور بوڑھے بڑھ جائیں ، وہاں غربت اور اس قسم کے دیگر مسائل کی بھرمار ہوجاتی ہے مثلاً براعظم افریقہ میں 15سال سے کم عمر بچوں کی شرح 40 فیصد اور 65 سال سے زائد عمر کے بزرگوں کی شرح تین فیصد ہے ۔ مجموعی طور پر ان کی شرح 43 فیصد ہے۔ اس کے برعکس یورپ میں پندرہ سال سے کم عمر اور پینسٹھ برس سے زائد عمر والوں کی شرح محض 35 فیصد ہے ۔ شمالی امریکا میں بھی35 فیصد ، ایشیا میں 34 فیصد ، لاطینی امریکا میں بھی یہی شرح ہے۔ اب ان اعدادوشمار کی روشنی میں ان معاشروں کے حالات پر غور کریں تو اسباب واضح ہو جائیں گے۔ پاکستان میں 64 فیصد آبادی کی عمر 30 برس سے کم ہے ۔ایسے میں انھیں پاکستان میں رہتے ہوئے اپنا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے اور دور دور تک اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔اور مستقبل قریب میں بھی روشنی کی کرن معدوم ہی ہے۔
بیورو آف امیگریشن‘ کے مطابق بیرون ملک جانے والوں کی زیادہ تر تعداد مشرق وسطیٰ کے ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہیں۔ بیرون ممالک جانے والوں میں سے کسی کو معاشی مسائل کا سامنا ہے اور کسی کو سکیورٹی چیلنجز درپیش ہیں ۔ متعدد تعلیم یافتہ نوجوان سمجھتے ہیں کہ انھیں اس ملک میں عزت نہیں ملتی ، تاہم پاکستان سے بیرونی ممالک جانے والوں کی سب سے بڑی وجہ خراب معاشی، اور سیاسی صورت حال ہے۔ معاشی وجوھات کی وجہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے صورتحال کتنی دگر گوں ہے ۔ اگر ہم موازنہ کریں اس صورتحال سے جو بے روزگار نوجوانوں کو درپیش ہے تو ایک ایسی تاریکی نظر آتی ہے جس کا ہمیں ادراک نہیں ۔ جہاں سے بھی انھیں امید کی روشنی نظر آئے گی ، چاہے وہ امید سچی ہو یا جھوٹی، جائز ہو یا ناجائز ، نوجوان اسی طرف چل پڑتے ہیں۔ اور یہ بے روزگاری اور مہینگائی نو جوان طبقے کو جرائم کی طرف مائل کر رہی ہے جس سے اسٹریٹ کرائم میں ایک خاطر خواہ حد تک اضافہ ہوا ہے جو حکومت کیلئے ایک الارمنگ سیچو ایشن ہے ۔ اسی طرح بعض اوقات یہ نوجوان شدت پسند گروپ تشکیل دیتے ہیں اور ان میں شامل ہو کر وہ مختلف وارداتیں کرتے ہیں اور اپنا غصہ نکالتے ہیں۔ اسی طرح دہشت گرد جم،اعتوں میں بھی بہت سے پڑھے لکھے نوجوان پائے جاتے ہیں جو اکثرڈاکٹرز اور انجینئرز ہیں ۔ اگر فرسٹریشن کے شکار نوجوان ان تنظیموں کی طرف نہ بھی جائیں تو وہ معاشرے میں مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں، اور قتل، چوریوں اور ڈکیتیوں کی وارداتوں میں ملوث پائے جاتے ہیں۔حالات اتنے مخدوش ہو چکے ہیں کہ بڑے بڑے شہروں جن میں کراچی ،۔ لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد اور دیگر شہر شامل ہیں میں اسٹریٹ کرائمز کی تعداد بہت زیادہ بڑھ چکی ہے اور آ ئے روز دن دیہاڑے موبائل چھیننے کی وارداتیں، پرس چھیننے کی وارداتیں اور موٹر سائیکل چھیننے کی ورداتیں کہیں ذیادہ بڑھ چکی ہیںاان شہروں میںاسٹریٹ کرائمزغیر معمولی طور پر اتنے بڑھ چکے ہیں جو نہ ختم ہونے والی حدوں کو چھو چکے ہیں۔ دوسری طرف قانون نافز کرنے والے ادارے ہیںجو جرائم میںملوث نوجوانوں کی اکثریت کے مسائل کو سمجھنے کی بجائے مسائل کو مذید گھمبیر بنانے پر تلے ہوئے ہیں اور بجائے ان کے اسباب پر غور کرنے کے ان اصل مسائل سے نظرین چرا رہے ہیں۔ جہا ں تک ہمارے موجودہ حکمرانوں کی بات ہے تو ہمارے حکمران بالکل ہی ان مسائل سے آنکھیں چرائے ہوئے ہیں ۔ تاہم انکے نظریں چرانے سے کچھ نہیں ہوگا ایک روز ایسا آنے والا ہے جب اشرافیہ بھی اپنے گرد قائم حفاظتی دائروں میںمحفوظ نہیں رہے گی اور ان بے روزگار اور پڑھے لکھے اعلیٰ یافتہ نوجوانو نکے چنگل سے نہ بچ پائیگی اور پھر وقت بہت آگے نکل چکا ہوگا۔
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں