ڈینگی بخار ایک خطرناک وبائی مرض

ڈینگی بخار — ایک خطرناک وبائی مرض ڈینگی بخار ایک خطرناک وبائی مرض ہے جو مچھر ایڈیز ایجپٹائی (Aedes Aegypti) کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ یہ مچھر عموماً صاف پانی میں پیدا ہوتا ہے، مثلاً گملوں، ٹینکیوں، پرانی ٹائروں اور پانی کے برتنوں میں۔ ڈینگی ایک وائرل بیماری ہے جو انسان کے جسم میں داخل ہو کر بخار، جوڑوں کے درد اور خون کی کمی جیسے خطرناک اثرات پیدا کرتی ہے۔ ڈینگی کی وجوہات: ڈینگی وائرس چار اقسام پر مشتمل ہے (DEN-1, DEN-2, DEN-3, DEN-4)۔ یہ وائرس متاثرہ مچھر کے ذریعے انسان میں منتقل ہوتا ہے۔ مچھر صبح اور شام کے وقت زیادہ کاٹتا ہے، اس لیے ان اوقات میں خصوصی احتیاط ضروری ہے۔ علامات: ڈینگی کی ابتدائی علامات عام بخار سے ملتی جلتی ہیں، لیکن کچھ دنوں بعد خطرناک شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں: • تیز بخار (104°F تک) • شدید سر درد • آنکھوں کے پیچھے درد • پٹھوں اور جوڑوں میں درد • متلی اور الٹی • جلد پر سرخ دھبے • خون کی کمی اور پلیٹ لیٹس کی تعداد میں کمی اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو ڈینگی بخار ڈینگی ہیمرجک فیور یا ڈینگی شاک سینڈروم میں تبدیل ہو سکتا ہے، جو جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ احتیاطی تدابیر: ڈینگی سے بچاؤ علاج سے زیادہ ضروری ہے، کیونکہ اس کا کوئی مخصوص علاج یا ویکسین عام دستیاب نہیں۔ چند بنیادی احتیاطی اقدامات یہ ہیں: گھروں اور اردگرد پانی جمع نہ ہونے دیں۔ 1. پانی والے برتن، گملے اور ٹینکیاں ڈھانپ کررکھیں۔ 2. مچھر دانی کا استعمال کریں۔ 3. مچھر بھگانے والی کریم یا اسپرے لگائیں۔ 4. بچوں کو مکمل بازوؤں والے کپڑے پہنائیں۔ 5. شام کے اوقات میں خاص احتیاط برتیں۔ 6. صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں۔ علاج: ڈینگی کا علاج بنیادی طور پر علامات کے مطابق کیا جاتا ہے، کیونکہ اس کے خلاف کوئی مخصوص اینٹی وائرل دوا موجود نہیں۔ مریض کو آرام، زیادہ پانی پینا، متوازن غذا اور بخار کم کرنے کی ادویات دی جاتی ہیں۔ خطرناک صورت میں مریض کو اسپتال میں داخل کیا جاتا ہے تاکہ پلیٹ لیٹس کی کمی کو کنٹرول کیا جا سکے۔ حکومتی اقدامات: حکومت کی سطح پر ڈینگی کے تدارک کے لیے مہمات چلائی جاتی ہیں، جن میں: • اسپرے مہمات • آگاہی پروگرام • ہسپتالوں میں خصوصی ڈینگی وارڈز کا قیام • سکولوں اور عوامی مقامات پر معلوماتی بینرز نتیجہ: ڈینگی ایک قابلِ علاج مگر خطرناک بیماری ہے۔ اگر ہر شہری صفائی اور احتیاط کو اپنا شعار بنائے تو اس وبا پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ہمیں اجتماعی ذمہ داری کے ساتھ مچھر کی افزائش روکنے میں کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔

تبصرے

مشہور اشاعتیں

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل تحریر: بشرہ نواز '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' اگرچہ خواتین معاشرےکی معاشی ترقی کے لیے حیات افزا کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کے اس کردار کو شاذونادر ہی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خواتین عام طور پرگھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں اور ملازمت کا انتخاب خواہش کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت کی بنیاد پر کرتی ہیں ۔وہ اپنے خاندان اور گھر کی ذمہ داریوں کے لیے ناکافی وقت دینے پر اپنے آپ کو قصووار تصور کرتی ہیں۔اس دہری ذمہ داری کے سبب ان پر دوگنا بوجھ پڑتا ہے اور نتیجتا ً اانہیں بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے ۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ابھی تک پاکستانی معاشرے نے مکمل طور پر ملازمت پیشہ خاتون کے تصور کو قبول نہیں کیاہے۔ شادی شدہ خواتین کی یہ بھی مشکل ہے کہ سسرال میں کہا جاتا ہے کہ اگرملازمت کرے گی توگھر کون سنبھالے گا؟ خاندان والے کیا سوچیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود ایسی خواتین سب کو وقت دینے اور خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ انھیں ساری دنیا کو باور کرانا ہوتا ہے کہ اپنی ملازمت کے ساتھ وہ گھر، بچے، فیملی اور باقی تمام معاملات خوش اسلوبی سے نبھا رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کو چکی کے دو باٹ کہا جا تا ہے۔۔ جس طرح خواتین زندگی کی گاڑی چلانے میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اسی طرح مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ گھریلو امور میں ان کا ہاتھ بٹایا کریں۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرد عورت کا ہاتھ بٹانے میں اپنی توہین سمجھتا ہے اور ہمارے معاشرے میں کچھ جگہوں پر مرد کا گھر کےکام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹانے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ترقی کی اس جدوجہد میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ اب عورت اس بات پر قناعت نہیں کرسکتی کہ صرف مرد ہی کما کر لائے اورخاندان کی ضروریات پوری کرے۔ آج کی عورت یہ سمجھتی ہے کہ اسے بھی مرد کی طرح آزادی اور مساوات کے اظہار کے لیے ذاتی سرمایہ اور ملکیت چاہیے۔ اس لیے اب دنیا کے ہر ملک میں خواتین کے لیے گھر سے باہر ملازمت کرنا ایک ضرورت بن چکی ہے جس کا ماضی میں تصور بھی ممکن نہ تھا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں جن میں بڑی تعداد میں خواتین میڈیکل،ٹیچنگ، بینکنگ، ٹیلیفون آپریٹر، نرسنگ، گارمنٹس، صحافت، شوشل میڈیا، ، وکالت ، تدریس ، طب ، بزنس ، مارکیٹنگ ، شو بز انجینئرنگ ،اکاونٹنس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر اہنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں شعبہ ابلاغ عامہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز میں اپنے فرائض انجام دے رہی یں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہیں ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو بری الزمہ سمجھتی ہے جو انتہائی احمقانہ سوچ ہے اور یہ سوچ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مرد عورت پر اپنا تسلط چاہتا ہے ۔ اپنے گھر اور خاندان کے حوالے سے آپ کو خود ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور جب آپ اپنے خاندان کے بہترین مفاد میں کوئی فیصلہ کر لیں تو پھر آپ کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آپ کا یہ فیصلہ کچھ دیگر لوگوں سے مختلف کیوں ہے۔ کیونکہ ہر گھر اور خاندان کی ضروریات، حالات، وسائل مختلف ہوتے ہیں ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اسی طرح آپ کا کوئی فیصلہ آپ کے خاندان کے بہترین مفاد میں ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر گھر اور خاندان کے لیے قابلِ عمل ہو۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے کچھ جاہل لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ جہاں ملازمت پیشہ خواتین کو آزاد خیال اور گھر والوں کو ہر معاملے میں اپنا رعب داب رکھنے والی عورت تصور کیا جاتا ھے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں اپنے گھر والوں بچوں کیللے جدوجہد یہی ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔ یہ خواتین بھرپور طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتی ہیں، کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے نبھاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورتیں اپنا معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاہ رہی ہیں، اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنے بچوں اور خاندان کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔ جس طرح علم حاصل کرنا ہر عورت کا حق ہے ، اسی طرح اپنا مستقبل بنانا بھی ہر عورت کا حق ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ملازم پیشہ خواتین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں معاشرے کی گھریلو مشکلات ، پسماندہ سوچ ، صنفی امتیاز ، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور جنسی ہراسانی wo mxklat oiN jw سرفہرست ہیں۔ خواتین کو معاشرے میں مساوی سیاسی ، معاشی و سماجی حقوق دینے والے بالشویک انقلاب کے لیڈر ولادیمیر لینن نے کہا کہ ہماری خواتین شاندار طبقاتی جنگجو ہوتی ہیں ۔ محنت کشوں کی کوئی بھی تحریک خواتین کی شعوری مداخلت کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی ۔ روسی انقلاب ہو یا اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی سعودی عرب یا ایران کی خواتین ، بحرین میں ریاستی جارحیت کے خلاف احتجاج یا ترکی میں جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازش کا راستہ روکنے کی تحریک ، ہر موقع پر خواتین ایک بڑی طاقت کی صورت میں سامنے آئی ہیں اور اپنا کردار ادا ادا کیا ہے۔۔