گا جر صحت کا خزانہ

سنا ہے گاجر خر گوش کو
بہت پسند ہے گاجر کھانے سے نگا ہ تیز ہوتی ہے اسی لیے تو۔ کبھی خر گوش کو چشمہ لگے نہیں دیکھا  یہ تو ہو گئی ایک بات   حقیقت یہ ہی ہے کہ اللہ کی بے شمار نعمتوں میں سے گاجر بھی اہمیت رکھتی ہے گاجر دو خوبصورت رنگو ں میں۔ کاشت ہوتی ہے ایک گہرے  جا منی  رنگ کی۔ اور ایک سرخی۔ مائل تربوزی رنگ کی۔
یہ دونوں۔ حالتوں میں ہی اپنے اندر بیشمار فوا ید  کی حا مل  ہے ان سے بہت پکوان  بنا ے  جاتے ہیں۔ جو ذائقے کے ساتھ صحت بخش بھی۔ ہیں
کالی۔ گاجر سے کانجی بنائی جاتی ہے جو  ہا ضمے  اور جسم۔ کی۔ گرمی کے لیے بہت مفید ہے
کانجی
گاجر ایک کلو
پانی۔  دو جگ
کالا نمک۔ حسب ذائقہ را ی دانہ دو  کھانے والے  چمچ کوٹ لیں۔ آدھی چمچ سرخ  مرچ پسی ہوئی۔
گاجر کو اچھی طرح دھو کے لمبا کاٹ  لیں۔ اور سب ساما ن  شامل۔ کر دیں۔ دن میں دو  تین۔ بار چمچ سے ہلا دیا کریں تین دن کے بعد مزیدار کانجی۔ تیار ہے
آج دوسری گاجر کی طرف اتے ہیں۔ س سے ہم حلوہ    گجریلا  مر بہ  بنا سکتے ہیں سلاد میں بھی استمعال ہوتا ہے
حلوے کے لیے
ایک کلو گاجر
ایک پاؤ کھویا تین۔ انڈے  دو کپ گھی چینی  حسب  ذائقہ  چھوٹی۔ الائچی
گاجر کو دھو کر کش کر لیں۔الائچی  گھی اور گاجر پکنے کو رکھیں پانچ منٹ کےبعد چینی۔ شامل۔ کر دیں مناسب اگ پے بھون لیں جلدی پانی خشک  ہو جاۓ گا جب گھی  چھوڑ دے تو  کھویا ڈال کے اگ  بند کر دیں۔ پھر با و ل  میں نکال کے انڈے boil  کر کے ڈال  دیں دل کرے تو پستا بادام۔ شامل۔ کریں
گجریلا
دودھ چار لیٹر
گاجر ایک کلو۔ چاول ایک کپ۔ چینی  حسب ذائقہ کھویا ایک کپ  اگر گھر میں برفی ہو تو وہ بھی استمعال۔  ہو سکتی ہے چاول کو بھگو کے ہاتھ سے مسل لیں۔ گاجر کو کش کر لیں۔ اب چاول دودھ اور گاجر کو پکنے کے لے رکھ دیں ابال  انے پے انچ ہلکی کر دیں تھوڑی دیر کے بعد گفگیر چلاتی رہیں  پیندے سے لگنے نہ پا ے  چاول اور گاجر گل جایں آمیزہ کچھ گاڑھا  ہو جاۓ تو چینی شامل کر دیں  گجریلا جب ببل  دینے لگے تو کھویا شامل کر دیں  اب انچ کم کر کے چمچ چلاتی رہیں  پھر  ایک پلیٹ میں ڈال  کر دیکھیں۔ اگر وہ گاڑھا  ہو گیا ہے تو چولہا  بند کر دیں اور باو ل  میں نکال  لیں۔ چا ہیں تو پستہ بادام چھڑک  لیں۔
مربہ
دو کلو گاجر
ڈیڑھ کلو چینی۔
گاجر کو چھیل لیں۔ اورثابت کو ہی پندرہ منٹ ابال لیں۔ اب دوسرے برتن میں۔ چینی۔ اور ایک گلاس پانی ڈالیں۔ اور پکنے دیں۔ جب چینی گھل۔ جاۓ تو گاجریں  ڈال  دیں۔ دس منٹ پکنے دیں۔ پھر اگ بند کر دیں تین گھنٹہ پڑا رہنے دیں۔
پھر گاجریں الگ کر لیں۔ شیرے  کو پکنے کے لیے رکھ دیں۔ اور گاجر وں۔ کو کانٹے کی مدد سے گوندھ لیں۔ اب گاجریں  شیرے  میں واپس ڈال دیں۔ اور پکنے دیں جب شیرا شہد  کی طرح گاڑھا ہو جاۓ تو اگ بند کر دیں ٹھنڈا ہونے پے صاف اور خشک  جار میں۔ رکھ لیں۔
گاجر سے صرف میٹھے پکوان ہی نہیں بنتے بلکہ بہت سے سا لن۔ بھی تیار ہوتے ہیں۔ میتھی۔ گاجر کی۔ بھجیا  آلو گاجر  گاجر گوشت 
گاجر جیسے بھی کھا یں لذیذ اور صحت بخش  ہے
اللہ اپ کا حامی و ناصر ہو

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

مشہور اشاعتیں

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل تحریر: بشرہ نواز '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' اگرچہ خواتین معاشرےکی معاشی ترقی کے لیے حیات افزا کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کے اس کردار کو شاذونادر ہی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خواتین عام طور پرگھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں اور ملازمت کا انتخاب خواہش کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت کی بنیاد پر کرتی ہیں ۔وہ اپنے خاندان اور گھر کی ذمہ داریوں کے لیے ناکافی وقت دینے پر اپنے آپ کو قصووار تصور کرتی ہیں۔اس دہری ذمہ داری کے سبب ان پر دوگنا بوجھ پڑتا ہے اور نتیجتا ً اانہیں بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے ۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ابھی تک پاکستانی معاشرے نے مکمل طور پر ملازمت پیشہ خاتون کے تصور کو قبول نہیں کیاہے۔ شادی شدہ خواتین کی یہ بھی مشکل ہے کہ سسرال میں کہا جاتا ہے کہ اگرملازمت کرے گی توگھر کون سنبھالے گا؟ خاندان والے کیا سوچیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود ایسی خواتین سب کو وقت دینے اور خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ انھیں ساری دنیا کو باور کرانا ہوتا ہے کہ اپنی ملازمت کے ساتھ وہ گھر، بچے، فیملی اور باقی تمام معاملات خوش اسلوبی سے نبھا رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کو چکی کے دو باٹ کہا جا تا ہے۔۔ جس طرح خواتین زندگی کی گاڑی چلانے میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اسی طرح مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ گھریلو امور میں ان کا ہاتھ بٹایا کریں۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرد عورت کا ہاتھ بٹانے میں اپنی توہین سمجھتا ہے اور ہمارے معاشرے میں کچھ جگہوں پر مرد کا گھر کےکام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹانے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ترقی کی اس جدوجہد میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ اب عورت اس بات پر قناعت نہیں کرسکتی کہ صرف مرد ہی کما کر لائے اورخاندان کی ضروریات پوری کرے۔ آج کی عورت یہ سمجھتی ہے کہ اسے بھی مرد کی طرح آزادی اور مساوات کے اظہار کے لیے ذاتی سرمایہ اور ملکیت چاہیے۔ اس لیے اب دنیا کے ہر ملک میں خواتین کے لیے گھر سے باہر ملازمت کرنا ایک ضرورت بن چکی ہے جس کا ماضی میں تصور بھی ممکن نہ تھا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں جن میں بڑی تعداد میں خواتین میڈیکل،ٹیچنگ، بینکنگ، ٹیلیفون آپریٹر، نرسنگ، گارمنٹس، صحافت، شوشل میڈیا، ، وکالت ، تدریس ، طب ، بزنس ، مارکیٹنگ ، شو بز انجینئرنگ ،اکاونٹنس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر اہنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں شعبہ ابلاغ عامہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز میں اپنے فرائض انجام دے رہی یں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہیں ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو بری الزمہ سمجھتی ہے جو انتہائی احمقانہ سوچ ہے اور یہ سوچ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مرد عورت پر اپنا تسلط چاہتا ہے ۔ اپنے گھر اور خاندان کے حوالے سے آپ کو خود ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور جب آپ اپنے خاندان کے بہترین مفاد میں کوئی فیصلہ کر لیں تو پھر آپ کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آپ کا یہ فیصلہ کچھ دیگر لوگوں سے مختلف کیوں ہے۔ کیونکہ ہر گھر اور خاندان کی ضروریات، حالات، وسائل مختلف ہوتے ہیں ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اسی طرح آپ کا کوئی فیصلہ آپ کے خاندان کے بہترین مفاد میں ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر گھر اور خاندان کے لیے قابلِ عمل ہو۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے کچھ جاہل لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ جہاں ملازمت پیشہ خواتین کو آزاد خیال اور گھر والوں کو ہر معاملے میں اپنا رعب داب رکھنے والی عورت تصور کیا جاتا ھے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں اپنے گھر والوں بچوں کیللے جدوجہد یہی ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔ یہ خواتین بھرپور طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتی ہیں، کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے نبھاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورتیں اپنا معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاہ رہی ہیں، اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنے بچوں اور خاندان کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔ جس طرح علم حاصل کرنا ہر عورت کا حق ہے ، اسی طرح اپنا مستقبل بنانا بھی ہر عورت کا حق ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ملازم پیشہ خواتین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں معاشرے کی گھریلو مشکلات ، پسماندہ سوچ ، صنفی امتیاز ، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور جنسی ہراسانی wo mxklat oiN jw سرفہرست ہیں۔ خواتین کو معاشرے میں مساوی سیاسی ، معاشی و سماجی حقوق دینے والے بالشویک انقلاب کے لیڈر ولادیمیر لینن نے کہا کہ ہماری خواتین شاندار طبقاتی جنگجو ہوتی ہیں ۔ محنت کشوں کی کوئی بھی تحریک خواتین کی شعوری مداخلت کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی ۔ روسی انقلاب ہو یا اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی سعودی عرب یا ایران کی خواتین ، بحرین میں ریاستی جارحیت کے خلاف احتجاج یا ترکی میں جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازش کا راستہ روکنے کی تحریک ، ہر موقع پر خواتین ایک بڑی طاقت کی صورت میں سامنے آئی ہیں اور اپنا کردار ادا ادا کیا ہے۔۔